صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان
اسلام آباد(حُبدار نیوز)صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے سے گریز شرمناک ہے،سرکاری اداروں کو ریلیف اور تاجروں پہ تاحال لاک ڈاون کی سختیاں یہ دوہرا معیار قبول نہیں لاک ڈاؤن فوری ختم کیا جائے،جاری بیان کے مطابق کاشف چوہدری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ کرنے اور پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آئل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہےعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ نہ پہنچانا شرمناک اقدام ہے حکومت عوام کی نہیں بلکہ آئل کمپنیوں کی نمائندہ بن چکی ہے جبکہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا اضافی بوجھ عوام اور تاجروں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے_انہوں نے کہا کہ حکومت نے توانائی بچت کے نام پر سرکاری اداروں میں اے سی بند کرنے، اوقات کار محدود کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی جیسے اقدامات ختم کر دیے ہیں لیکن تاجروں پر مسلط لاک ڈاؤن تاحال برقرار رکھا گیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے_کاشف چوہدری نے کہا کہ محرم الحرام گزر چکا ہےاب حکومت فوری طور پر لاک ڈاؤن کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ تاجر برادری معمول کے مطابق اپنا کاروبار جاری رکھ سکے انہوں نے خبردار کیا کہ تاجر برادری مسلسل معاشی دباؤ کا شکار ہے، دکانوں کے کرائے ادا کرنا مشکل ہو چکا ہے، کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور لاکھوں خاندان معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں_
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے لاک ڈاؤن ختم نہ کیا تو ملک گیر مشاورت کے بعد احتجاج کی کال دی جائے گی اور پورے ملک میں شہر شہر اور گاؤں گاؤں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کی جائیں گی جبکی ضرورت پڑنے پر ملک بھر کے تاجروں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال بھی دی جا سکتی ہے_صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے کہا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی جو شیشے کے محلات میں بیٹھ کر عوام اور تاجروں کے مسائل سے بے خبر ہیں_انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ظلم پر مبنی اس نظام کا خاتمہ کیا جائے اور تاجروں کو عزت و وقار کے ساتھ کاروبار کرنے کا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی خزانے میں ٹیکس کی مد میں اپنا کردار بھی ادا کر سکیں_کاشف چوہدری نے کہا کہ اگر کاروبار بند ہو گئے تو نہ حکومت کو ٹیکس ملے گا اور نہ ہی ریاستی اداروں کے معاملات چل سکیں گےاس لیے ریاست کے ذمہ داران آگے بڑھیں اور فوری طور پر لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ تاجر برادری آزادانہ ماحول میں کاروبار کر کے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے_