1

صوبہ اسلام آباد کا قیام وقت کی اہم ضرورت تحریر: خالد چوہدری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بظاہر ایک خوبصورت، منظم اور ترقی یافتہ شہر ہے، لیکن انتظامی اور مالی اعتبار سے یہ ایسے بے شمار مسائل سے دوچار ہے جن کا مستقل حل موجودہ نظام میں دکھائی نہیں دیتا۔ آبادی، رہائشی سیکٹروں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کے باوجود اسلام آباد کو آج بھی ایک ایسے مربوط انتظامی اور مالی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو اس کے وسائل کو اسی شہر اور اس کے شہریوں کی فلاح و ترقی پر خرچ کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔
اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس کا نظام اس عدم توازن کی واضح مثال ہے۔ شہر کے محدود اور نسبتاً پرانے رہائشی و کمرشل علاقوں کے مالکان پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور دیگر آبادیاں اس ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ نتیجتاً پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں اور تاجروں پر بار بار اضافی بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ٹیکس کلچر کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔G-14، G-15، I-16 بہارہ کہو، ترنول اور اسلام آباد کے متعدد دیگر علاقوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ایک یکساں اور مؤثر ٹیکس نظام کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ اگر شہر کی حدود میں رہنے اور کاروبار کرنے والے تمام افراد اور اداروں کے لیے منصفانہ اصول وضع کیے جائیں تو چند مخصوص سیکٹروں اور مارکیٹوں پر بار بار ٹیکس بڑھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔سی ڈی اے کو اپنے ترقیاتی اور انتظامی اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتی کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی نیلامی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پلاٹ فروخت کرکے آخر کب تک اسلام آباد کے اخراجات پورے کیے جاتے رہیں گے؟ زمین ایک محدود اثاثہ ہے۔ اسے مستقل آمدن کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام آباد کو ایسا پائیدار مالی نظام درکار ہے جس میں ٹیکس نیٹ وسیع ہو، محصولات کی منصفانہ تقسیم ہو اور حاصل ہونے والی آمدن شہر کی ترقی پر خرچ ہو۔
اسلام آباد کا ایک اور بنیادی مسئلہ قومی وسائل کی تقسیم سے متعلق ہے۔ وفاقی دارالحکومت کو صوبوں کی طرح این ایف سی ایوارڈ میں حصہ حاصل نہیں۔ اسی طرح موٹر وہیکل رجسٹریشن، ٹرانسفر اور مختلف مدات سے حاصل ہونے والی آمدن کے استعمال اور اسلام آباد کو اس کے جائز مالی وسائل کی فراہمی کے نظام پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مناسب ترقیاتی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد کی کئی پرانی مارکیٹیں اور شہری انفراسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام قائم کیا گیا، مگر ماضی کا تجربہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ منتخب بلدیاتی ادارے اور سی ڈی اے کے درمیان اختیارات اور محکموں کی تقسیم واضح اور مستقل نہ رہ سکی۔ بعض محکمے ایم سی آئی کو منتقل ہوئے اور بعد میں دوبارہ سی ڈی اے کے انتظامی کنٹرول میں چلے گئے۔ اس صورتِ حال نے ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ پیدا کیا جس میں ذمہ داری اور اختیار کی واضح تقسیم نہ ہونے کے باعث شہری مسائل کا مؤثر حل مشکل ہوتا گیا۔
ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور بہتر انتظامی اکائیوں کے حوالے سے وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہی ہے۔ ایسے میں اسلام آباد کو ایک بااختیار صوبائی یا خصوصی انتظامی اکائی بنانے کی تجویز پر بھی سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔ اسلام آباد کے شہریوں اور تاجر برادری کو ایسا نظام درکار ہے جس میں ان کے منتخب نمائندے مقامی مسائل، ترقیاتی ترجیحات، ٹیکسوں اور شہری سہولتوں کے بارے میں جواب دہ ہوں۔سی ڈی اے، ایم سی آئی اور آئی سی ٹی انتظامیہ میں متعدد اہم عہدوں پر دوسرے سروس کیڈرز اور علاقوں سے آنے والے افسران خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان افسران کی قابلیت، دیانت داری یا پیشہ ورانہ صلاحیت پر سوال اٹھانا مقصود نہیں، لیکن اسلام آباد کے مستقل انتظامی ڈھانچے میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی افسر شاہی اور ادارہ جاتی تسلسل بھی ضروری ہے۔ جو مسائل مقامی آبادی روزانہ کی بنیاد پر محسوس کرتی ہے، ان کے حل کے لیے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق سے گہری واقفیت بہت اہم ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اسلام آباد کے لیے مستقل مقامی انتظامی کیڈر، مضبوط اور مکمل بااختیار بلدیاتی نظام اور مالی خودمختاری کے امکانات کا جائزہ لے۔ اگر اسلام آباد کو صوبائی یا اس کے مساوی بااختیار انتظامی حیثیت دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ منتخب حکومت، واضح قانون سازی، مالیاتی اختیارات، مؤثر بلدیاتی ادارے اور شہریوں کے سامنے جواب دہ نظام قائم کرنا ہوگا۔اسلام آباد صرف وفاقی حکومت کے دفاتر کا شہر نہیں؛ یہاں لاکھوں شہری رہتے، کاروبار کرتے اور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انہیں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح اپنے وسائل، ترقی اور مقامی معاملات پر مؤثر نمائندگی اور اختیار ملنا چاہیے۔اب وقت آگیا ہے کہ اس بنیادی سوال پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ اسلام آباد کب تک زمینوں کی نیلامی، محدود ٹیکس بیس اور مختلف اداروں میں بٹے ہوئے اختیارات کے سہارے چلتا رہے گا؟صوبہ اسلام آباد کے قیام کی تجویز کو محض ایک نعرہ سمجھنے کے بجائے اس کے آئینی، قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر یہ ماڈل اسلام آباد کے شہریوں کو بہتر نمائندگی، مالی خودمختاری اور مؤثر مقامی حکومت فراہم کرسکتا ہے تو اس پر ترجیحی بنیادوں پر قومی سطح پر کام شروع ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں