کچھ سانحات صرف انسانی جانیں نہیں لیتے، وہ معاشرے کے نظام، اداروں کی کارکردگی اور افراد کے کردار کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اسلام آباد کی نومولود بچوں کی نرسری میں 26 اگست 2026 کو پیش آنے والا المناک سانحہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ چودہ نومولود بچوں کی موت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا اور کئی خاندانوں سے ان کی زندگی بھر کی خوشی چھین لی۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ہنگامی تیاری، انتظامی نگرانی اور انسانی جان کی حفاظت کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں۔لیکن اسی اندوہناک منظر میں ایک ایسا کردار بھی سامنے آیا جس نے اس سانحے کی تاریکی میں انسانیت کی ایک روشن تصویر پیش کی۔ یہ کردار مسیحی اسٹاف نرس رضیہ نورین کا ہے، جنہوں نے آگ اور دھوئیں سے بھری نرسری میں داخل ہو کر ایک نومولود بچے کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر باہر نکالا۔ سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں موجود CCTV شواہد کے مطابق رضیہ نورین نے آگ کے پھیلنے کے فوراً بعد نرسری میں داخل ہو کر بچے کو بچایا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش بھی کی، تاہم شدید دھوئیں اور آگ کی شدت کے باعث مزید آگے بڑھنا ممکن نہ رہا۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں موجود نومولود بچوں میں یہی بچہ واحد زندہ بچنے والا تھا۔یہ منظر کسی فلم کا حصہ نہیں تھا۔ یہ حقیقت تھی؛ ایک ایسا لمحہ جس میں فیصلہ کرنے کے لیے شاید چند سیکنڈ تھے، جبکہ خطرہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑا تھا۔ رضیہ نورین کے سامنے اپنی جان بچانے اور ایک بے بس نومولود کی جان بچانے کی کوشش میں سے ایک راستہ اختیار کرنے کا سوال تھا۔ انہوں نے اپنی ذات سے پہلے اس بچے کی زندگی کو ترجیح دی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایک سرکاری ملازمت فرض شناسی میں اور ایک پیشہ انسانی خدمت میں تبدیل ہوگیا۔رضیہ نورین کی بہادری کو صرف اس لیے اہم قرار دینا کافی نہیں کہ وہ ایک نرس ہیں۔ ان کا کردار اس لیے غیر معمولی ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض کو خطرے کی موجودگی میں بھی ترک نہیں کیا۔ بہادری ہمیشہ میدانِ جنگ میں دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی یہ ایک ہسپتال کے وارڈ میں دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک نرس کو اپنی جان کی سلامتی اور ایک بے بس مریض کی زندگی کے درمیان فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس لمحے انسان کی اصل تربیت، اس کا ضمیر اور اس کے کردار کی حقیقت سامنے آتی ہے۔رضیہ نورین کا مسیحی ہونا اس واقعے کو پاکستان کی مسیحی برادری کے لیے ایک خاص معنویت دیتا ہے۔ مسیحی ایمان میں خدمت کوئی ثانوی یا محض سماجی سرگرمی نہیں بلکہ ایمان کے عملی اظہار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یسوع المسیح کی تعلیمات میں بیمار، کمزور، مصیبت زدہ اور ضرورت مند انسان کے ساتھ کھڑا ہونا محبت اور خدمت کا بنیادی تقاضا ہے۔ اسی لیے مسیحی فکر میں انسانی جان کی حرمت، بیمار کی تیمارداری، کمزور کی مدد اور ضرورت مند کے لیے قربانی محض اخلاقی اقدار نہیں بلکہ ایمان کے عملی تقاضے بھی ہیں۔رضیہ نورین نے اسی تصور کو کسی تقریر یا دعوے کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے عمل کے ذریعے ظاہر کیا۔ آگ میں داخل ہوتے وقت انہوں نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ تاریخ انہیں کس نام سے یاد کرے گی، میڈیا ان کی تعریف کرے گا یا ریاست انہیں انعام دے گی۔ اس وقت ان کے سامنے صرف ایک معصوم زندگی تھی۔ یہی خدمت کی اصل روح ہے کہ انسان کسی بدلے، شہرت یا اعتراف کی توقع کے بغیر اپنے فرض کو انجام دے۔یہی وجہ ہے کہ رضیہ نورین کا کردار پاکستان کی مسیحی برادری کے لیے فخر کا باعث ضرور ہے، مگر اسے کسی دوسرے مذہب یا طبقے کے مقابل کھڑا کرنا اس کی اصل عظمت کو کم کر دے گا۔ جس بچے کی جان انہوں نے بچائی، اس لمحے وہ کسی مذہبی شناخت کا نمائندہ نہیں تھا؛ وہ ایک بے بس انسانی جان تھی۔ اور انسانی جان کی حفاظت ہی وہ قدر ہے جو تمام مذاہب، اخلاقی نظاموں اور مہذب معاشروں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔پاکستان کی مسیحی برادری کی صحت، تعلیم اور سماجی خدمت میں ایک طویل اور قابلِ ذکر روایت رہی ہے۔ نرسنگ کے شعبے میں بھی مسیحی خواتین اور مردوں نے نسلوں سے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ رضیہ نورین اسی روایت کی ایک موجودہ مثال ہیں۔ ان کا کردار اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتیں محض آئینی حقوق کی دعوے دار شہری نہیں بلکہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی محنت، قابلیت اور خدمت کے ذریعے ملک کی تعمیر میں عملی کردار ادا کرنے والی پاکستانی ہیں۔تاہم PIMS کا سانحہ صرف رضیہ نورین کی بہادری کی داستان نہیں۔ اس کا دوسرا پہلو اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں ہسپتال کی فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات کے حوالے سے متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، آگ سے نمٹنے کے لیے SOPs اور مطلوبہ تربیت میں واضح کمزوریاں تھیں، جبکہ ہنگامی ردِعمل کے وقت اور انتظامی نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے تقریباً چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی، جبکہ پہلا ایمرجنسی ردِعمل تقریباً پندرہ منٹ بعد پہنچا۔اس معاملے کو مزید تشویش ناک بنانے والی بات یہ ہے کہ اس سے تقریباً سات ہفتے قبل PIMS کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگ چکی تھی۔ اس واقعے کے بعد بھی فائر ڈیٹیکشن، الارم، انخلا کی تیاری، برقی معائنہ اور ریکارڈ رکھنے سمیت متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس پس منظر میں نومولود بچوں کی نرسری میں بنیادی فائر سیفٹی کے فقدان نے ادارہ جاتی ذمہ داری کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات کے بعد آٹھ ذمہ دار افراد کے خلاف معطلی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی جبکہ فوجداری کارروائی کے لیے بھی ہدایات دی گئیں۔ یہ اقدام اس بات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسے سانحات میں ذمہ داری کا تعین واضح اور شفاف انداز میں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ کسی پورے شعبے، پیشے یا تمام طبی عملے کو اجتماعی طور پر ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ جس شخص کی جو ذمہ داری تھی، اسی کے مطابق اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ دستیاب CCTV شواہد خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے میں ایسے افراد بھی موجود تھے جنہوں نے خطرے کے باوجود جان بچانے کی کوشش کی، اور رضیہ نورین اس کی نمایاں ترین مثال ہیں۔
درحقیقت PIMS سانحہ ہمارے سامنے ایک تلخ مگر اہم تضاد رکھتا ہے: ایک طرف ادارہ جاتی کمزوریاں اور حفاظتی نظام کے سوالات ہیں، دوسری طرف ایک فرد کی غیر معمولی فرض شناسی ہے۔ کسی مہذب ریاست کے لیے دونوں پہلو یکساں اہم ہیں۔ نظام کی خامیوں کا احتساب بھی ہونا چاہیے اور غیر معمولی کردار کی حوصلہ افزائی بھی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رضیہ نورین کی بہادری کا سرکاری طور پر اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کا مالی انعام دیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ خدمت دینے کا اعلان کیا، جو 23 مارچ 2027 کو عطا کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ریاست کی طرف سے ایک عام سرکاری ملازم کی غیر معمولی انسانی خدمت کو اس سطح پر تسلیم کرنا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔لیکن رضیہ نورین کے لیے شاید سب سے بڑا اعزاز وہ ایک کروڑ روپے نہیں اور نہ ہی سرکاری تمغہ ہے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی وہ زندگی ہے جو آج اس دنیا میں موجود ہے کیونکہ ایک نرس نے اسے بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔ رقم خرچ ہو سکتی ہے، خبر پرانی ہو سکتی ہے، اعزاز ایک سرکاری ریکارڈ بن سکتا ہے، لیکن ایک انسانی زندگی کا بچ جانا ایک ایسا اعزاز ہے جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔یہاں ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے ایک بنیادی سبق بھی موجود ہے۔ رضیہ نورین کو انعام دینا ضروری تھا، مگر ان کی بہادری کا حقیقی احترام اس وقت ہوگا جب ایسے حفاظتی نظام قائم کیے جائیں کہ آئندہ کسی نومولود بچے کی جان بنیادی انتظامی غفلت کے باعث خطرے میں نہ پڑے اور کسی نرس کو اسے بچانے کے لیے شعلوں میں داخل ہونے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ملک کے تمام بڑے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے معیارات کا ازسرِنو جائزہ، باقاعدہ فائر ڈرلز، عملے کی عملی تربیت، جدید فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم، واضح ایمرجنسی پروٹوکول اور فوری ردِعمل کا مؤثر نظام اب محض انتظامی معاملات نہیں بلکہ انسانی جان کے تحفظ کی بنیادی شرائط ہیں۔ PIMS سانحے سے سبق لینے کا مطلب صرف ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ پورے نظام کو محفوظ بنانا بھی ہے۔رضیہ نورین کی داستان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے پاکستان میں مذہبی شناخت اور قومی خدمت کے درمیان ایک خوبصورت تعلق کو نمایاں کیا ہے۔ ایک مسیحی نرس نے ایک ایسے بچے کی جان بچائی جو اس کے لیے صرف ایک مریض نہیں بلکہ ایک انسانی امانت تھا۔ یہ وہ پاکستان ہے جس میں شہری کی قدر اس کے مذہب سے نہیں بلکہ اس کے کردار، قابلیت اور خدمت سے متعین ہونی چاہیے۔ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر تمام شہری اپنے اپنے ایمان اور شناخت کے ساتھ ملک کی خدمت کریں اور ان کی خدمات کو قومی زندگی کا مشترکہ سرمایہ سمجھا جائے۔ رضیہ نورین کا اعزاز صرف مسیحی برادری کا اعزاز نہیں؛ یہ پاکستان میں خدمت، فرض شناسی اور انسانی جرأت کے اعتراف کی ایک قومی مثال ہے۔PIMS کا سانحہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ کسی قوم کے ادارے صرف قوانین، عمارتوں، مشینری اور SOPs سے مضبوط نہیں ہوتے۔ ان کی اصل طاقت ان انسانوں کے کردار میں ہوتی ہے جو اپنے منصب کو امانت سمجھتے ہیں۔ نظام ضروری ہے، مگر نظام کو چلانے کے لیے کردار اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ایک محفوظ ہسپتال کے لیے جدید ٹیکنالوجی درکار ہے، مگر بحران کے لمحے میں فیصلہ کرنے والا ایک ذمہ دار انسان بھی اتنا ہی ضروری ہے۔رضیہ نورین نے شعلوں کے درمیان اپنے حصے کا فرض ادا کیا۔ اب ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کا فرض ادا کریں۔اس سانحے کو صرف ایک دردناک خبر بنا کر بھلا دینا سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔ چودہ معصوم جانوں کا نقصان ہمیں مستقل اصلاح کا مطالبہ دیتا ہے، جبکہ رضیہ نورین کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسان اپنے ضمیر، ایمان اور فرض کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔شاید اسی لیے رضیہ نورین کی کہانی اس سانحے کی سب سے روشن تصویر بن کر سامنے آتی ہے۔آگ نے بہت کچھ جلا دیا، مگر ایک چیز کو روشن کر گئی: کردار۔ایک طرف ایک ایسا نظام تھا جس کی کمزوریاں تحقیقات کے ذریعے سامنے آئیں، اور دوسری طرف ایک مسیحی بیٹی تھی جس نے خطرے کے عین مرکز میں انسانیت کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ریاست نے انہیں ایک کروڑ روپے کا انعام دیا اور قومی اعزاز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر ان کا اصل اعزاز اس سے کہیں بڑا ہے۔وہ بچہ جو آج زندہ ہے۔اور ہمارے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ آئندہ کسی نومولود کو بچانے کے لیے کسی رضیہ نورین کو شعلوں میں داخل نہ ہونا پڑے۔کیونکہ ایک مہذب ریاست کا کمال یہ نہیں کہ وہ سانحے کے بعد اپنے ہیروز کو اعزاز دے؛ اصل کمال یہ ہے کہ وہ ایسا نظام قائم کرے جس میں معصوم جانوں کو سانحے سے پہلے ہی محفوظ رکھا جا سکے۔رضیہ نورین نے شعلوں میں اپنا فرض نبھایا۔ اب پاکستان کو اپنے نظام میں اس فرض کی روشنی زندہ رکھنی ہے۔
9