12

تحریر: عابد محمود چودھری بےحس حکمرانوں کے دعوے، بجھے چراغوں اور سوگوار والدین کا نوحہ کون سنے گا؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) جیسے بڑے سرکاری ہسپتال کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومو لود بچوں کی المناک ہلاکت نے پورے ملک کو سوگوار کردیا ہے۔آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 نومولود ننھے پھول موجود تھے،جن میں سے صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جاسکا۔یہ صرف 14 معصوم جانوں کا ضیاع نہیں، بلکہ 14 خاندانوں کےخوابوں، امیدوں اور خوشیوں کا اچانک اجڑ جانا ہے۔ذرا تصور کیجیے کہ ان گھروں کا جہاں ان ننھے فرشتوں کی آمد پر خوشیاں منائی جارہی ہوں گی۔۔۔ کہیں ماں نے اپنے لختِ جگر کے لیے ننھے کپڑے سنبھال کر رکھے ہوں گے، کہیں باپ نے اپنے بچے کے مستقبل کے سہانے خواب دیکھے ہوں گے، کہیں دادی اور نانی ان کے لئے دعائیں مانگ رہی ہوں گی، تو کہیں بہن بھائی اس ننھے مہمان کے گھر آنے کے منتظر ہوں گے۔مگر پھر اچانک ایک قیامت ٹوٹی۔جن گھروں میں لوریاں گونجنی تھیں، وہاں آہ و بکا نے ڈیرے ڈال لیے۔جن آنگنوں میں ننھے قدموں کی چاپ سنائی دینی تھی، وہاں صفِ ماتم بچھ گئی۔جن ماؤں کی آغوش میں ان کے بچے ہونے چاہئیں تھے، وہی بانہیں آج خالی ہیں۔یہ منظر کسی بھی صاحبِ احساس و حساس انسان کو اندر سے ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔لیکن اس سانحے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ پاکستان کے کسی دور افتادہ یا غیر معروف مرکز صحت میں نہیں،بلکہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہونے والے اور بہت سی اعلیٰ سہولیات کے حامل PIMS ہسپتال میں پیش آیا۔سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری بھی مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلاء کے نظام سے محفوظ نہیں، تو ملک کے دور دراز علاقوں کے سرکاری ہسپتالوں میں عام شہری کس قدر محفوظ ہوں گے؟یہ واقعہ محض ایک حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔؟کیونکہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کا یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں۔ قوم ابھی 2024 کے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے دلخراش واقعے کو نہیں بھولی ، جہاں بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے بعد بالآخر 11 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں، اور اس واقعے نے فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بچوں کی منتقلی کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔تو پھر سوال وہی ہے، کہ ہم نے آخر اس سانحے سے کیا سبق سیکھا؟اور اگر سبق سیکھا تھا تو اسلام آباد کے PIMS میں ایسا سانحہ دوبارہ کیسے رونما ہوگیا؟حالیہ واقعے کی ابتدائی انکوائری میں ادارہ جاتی، انتظامی اور فائر سیفٹی کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور نومولود بچوں کے فوری انخلاء کے انتظامات بھی تسلی بخش نہیں تھے۔ وزیراعظم نے انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں آٹھ افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔یہ کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے،لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ احتساب صرف چند معطلیوں تک ہی محدود رہے گا؟ یا اس مرتبہ نظام کی بنیادی خامیوں کو بھی دور کیا جائے گا؟کیونکہ ہمارا المیہ یہی ہے کہ سانحہ رونما ہوتا ہے، حکمران اظہارِ افسوس کرتے ہیں، انکوائری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے،کچھ افسران معطل کیے جاتے ہیں، متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان ہوتا ہے، چند روز تک اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بحث ہوتی ہے، اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔مگر متاثرہ خاندانوں کے لیے کچھ بھی معمول پر نہیں آتا۔ان کے گھروں میں وہ ننھی کلیاں دوبارہ نہیں کھلتیں۔ان کے آنگن میں وہ ننھے قدم دوبارہ نہیں پڑتے۔ان ماؤں کی گود دوبارہ آباد نہیں ہوتی۔اور ان باپوں کے دل میں اپنے بچے کے مستقبل کے جو خواب تھے، وہ کبھی واپس نہیں آتے۔؟یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس اندوہناک سانحے میں انسانیت کا ایک انتہائی روشن باب بھی سامنے آیا۔اسٹاف نرس رضیہ نورین۔ جب نرسری آگ اور دھوئیں کی لپیٹ میں تھی، تو رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہوکر ایک نومولود بچے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اسے محفوظ مقام تک پہنچایا۔ وہی بچہ اس سانحے میں زندہ بچنے والا واحد نومولود تھا۔رضیہ نورین کا تعلق مسیحی اقلیتی برادری سے ہے، لیکن ان کا یہ عمل پوری قوم کے لیے انسانیت،فرض شناسی اور بے لوث خدمت کا ایسا سبق ہے جسے شاید کسی کتاب میں لکھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔رضیہ پروین نے اس وقت یہ نہیں سوچا کہ بچہ کس مذہب، خاندان یا طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے سامنے صرف ایک معصوم انسانی جان تھی۔اور انسانیت نے انہیں آگ کے شعلوں میں داخل ہونے پر مجبور کردیا۔یہی وہ پاکستان ہے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔یہی وہ جذبہ ہے جو مذہب، مسلک، زبان، ذات اور برادری سے بالاتر ہوکر انسان کو انسانیت سے جوڑتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے رضیہ نورین کی بہادری اور اعلیٰ فرض شناسی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ستارۂ خدمت دینے اور ایک کروڑ روپے نقد انعام دینے کی منظوری دی ہے۔یقیناً یہ اعزاز اور انعام ان کی بہادری کا قومی اعتراف ہے، لیکن رضیہ نورین کا سب سے بڑا اعزاز وہ ننھی جان ہے جسے انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچایا۔یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:اگر ایک نرس اپنی جان خطرے میں ڈال کر جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو سکتی ہے تو ایک پورا ادارہ اپنے نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کے لیے پہلے سے مکمل حفاظتی نظام کیوں نہیں بنا سکتا تھا؟ بہرحال یہ سوال کسی ایک ڈاکٹر، نرس یا ملازم کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ پورے نظام کے احتساب کے لیے ہے۔ پمز کے اس سانحے نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ہمارے ہسپتالوں میں فائر الارم کس حالت میں ہیں؟ فائر ایکسٹنگوشرز قابلِ استعمال ہیں یاصرف دیواروں کی زینت بنے ہوئے ہیں؟ ایمرجنسی ایگزٹ واقعی کھلے اور قابلِ استعمال ہیں؟ کیا نوزائیدہ بچوں کو ہنگامی صورتحال میں چند منٹوں کے اندر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی عملی تربیت عملے کو حاصل ہے؟ کیا باقاعدگی سے فائر ڈرلز ہوتی ہیں؟اور سب سے اہم سوال یہ ھے کہکیا کسی سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے؟ یا سانحہ آنے سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں؟بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر اصلاحات حادثات کے رونما ھونے کے بعد شروع ہوتی ہیں، حادثے سے پہلے کیوں نہیں۔؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہسپتال میں موجود نومولود بچے اپنی حفاظت کے لیے خود کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ وہ معصوم تو نہ چل سکتے تھے، نہ دروازے تک پہنچ سکتے تھے،اور نہ ہی مدد کے لیے کسی کو پکار سکتے تھے۔ وہ مکمل طور پر ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔اس لیے ان کی حفاظت میں معمولی سی کوتاہی بھی معمولی جرم نہیں۔؟یہ ایک انسانی جان کا معاملہ ہے۔اور جب معاملہ نومولود بچوں کا ہو تو ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔PIMS سانحے کے بعد صرف ذمہ داروں کی معطلی کافی نہیں۔ اگر کسی نے غفلت کی ہے تو قانون کے مطابق اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ بھی ہونا چاہیے۔ہر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں، زچگی اور بچوں کے وارڈز کے لیے خصوصی فائر سیفٹی پروٹوکول نافذ کیے جائیں۔ہنگامی انخلاء کے راستوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہو، فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم فعال رکھے جائیں، عملے کی عملی تربیت اور فائر ڈرلز کو لازمی قرار دیا جائے، اور غفلت کے مرتکب افراد کےخلاف کارروائی حادثے کے بعد نہیں بلکہ حادثے سے پہلے ہونی چاہیے۔کیونکہ کسی ایک فائر ایکسٹنگوشر، الارم یا ایمرجنسی راستے کو فعال رکھنے پر آنے والا خرچ شاید لاکھوں روپے ہو، لیکن اس کی عدم موجودگی کی قیمت کبھی کبھی پوری زندگی ہوتی ہے۔اور PIMS میں تو چودہ زندگیاں چلی گئیں۔۔۔چودہ خاندان اجڑ گئے۔۔۔چودہ ماؤں کی گودیں خالی ہوگئیں۔۔۔چودہ باپوں کے خواب ٹوٹ گئے۔۔۔اور جانے کتنے رشتے دار، بہن بھائی،دادیاں، نانیاں اور خاندان کے دیگر لوگ اس صدمے کو اپنی باقی زندگی اپنے دل میں لیے پھریں گے۔۔۔ایسے میں صرف چند لاکھ یا چند کروڑ روپے کی مالی امداد ان خاندانوں کے زخموں کا مداوا نہیں کرسکتی۔معاوضہ ضرورت کے وقت سہارا ضرور بن سکتا ہے، لیکن ماں کی گود کا وہ پھول واپس نہیں لا سکتا۔حکمرانوں کے تعزیتی بیانات دکھ بانٹنے کی کوشش تو ہوسکتے ہیں، مگر مستقل اصلاحات ہی مستقبل کے سانحات کو روک سکتی ہیں۔یہاں ماضی کے بعض دیگر واقعات بھی ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے ریاستی اداروں کی کارکردگی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جواب دہی اور انتظامی غفلت کے بارے میں بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ کاہنہ، اور ساہیوال میں ایک خاندان کی ہلاکت اور حالیہ برسوں میں پولیس کارروائیوں کے دوران بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں نے بھی یہ سوال زندہ رکھا ہے کہ کیا ہمارے اداروں میں انسانی جان کی قدر واقعی سب سے مقدم ہے؟حال ہی میں چکوال میں بھی ایک کارروائی کے دوران ایک آسٹریلیا پلٹ خاندان کو مبینہ طور پر فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے اور نو سالہ بچی حانیہ کی ہلاکت نے عوامی سطح پر تشویش پیدا کی ھے۔ ایسے واقعات مختلف نوعیت کے ضرور ہیں، مگر ان سب کے درمیان ایک سوال مشترک ہے:ریاستی اداروں میں احتساب اور ذمہ داری کا ایسا مؤثر نظام کب قائم ہوگا؟ جو انسانی جان کے ضیاع سے پہلے ہی غفلت کو روک سکے؟کیونکہ واقعات محض اتفاق نہیں ہوتے۔اکثر سانحات کے پیچھے چھوٹی چھوٹی غفلتیں، نظرانداز کی گئی شکایات، ناقص نگرانی، غیر فعال حفاظتی نظام اور ذمہ داری سے فرار کی طویل زنجیر ہوتی ہے۔ پمزPIMS سانحہ بھی ہمیں یہ سبق دے رہا ہے۔اب فیصلہ حکومت اور متعلقہ اداروں نے کرنا ہے کہ وہ اس واقعے کو بھی چند دن کی خبر بننے دیں گے یا اسے نظام کی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنائیں گے۔ہمیں ایسی انکوائری نہیں چاہیے جو صرف فائل بند کرے۔ہمیں ایسا احتساب چاہیے کہ جو نظام بدل دے۔ہمیں ایسی معطلی نہیں چاہیے جو چند ماہ بعد بحالی پر ختم ہوجائے۔۔۔ہمیں ایسی سزا چاہیے جو آئندہ غفلت کرنے والے ہر شخص کو یہ پیغام دے کہ انسانی جان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں ایسے ہسپتال چاہئیں جہاں مریض علاج کے لیے جائیں تو انہیں اپنی جان کے ساتھ ساتھ نظام کی غفلت سے بھی جنگ نہ لڑنا پڑے۔PIMS پمز کے ان معصوم فرشتوں کو واپس تو نہیں لایا جاسکتا، مگر ان کی قربانی کو رائیگاں جانے سے ضرور بچایا جاسکتا ہے۔اگر ان 14 نومولود بچوں کی موت کے بعد ملک کے تمام ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کا نظام بہتر ہوگیا، اگر ہنگامی انخلاء کے مؤثر انتظامات ہوگئے، اگر غفلت کرنے والوں کو واقعی سزا ملی اور اگر آئندہ کسی ماں کو ہسپتال کی نرسری کے باہر کھڑے ہوکر اپنے بچے کی لاش کا انتظار نہ کرنا پڑا، تو شاید یہ معصوم جانیں ہمیں ایک آخری سبق دے کر گئیں ہوں گی۔اور وہ سبق یہ ہے کہحکمرانوں کے بیانات نہیں، نظام کی اصلاح ضروری ہے۔؟مالی امداد نہیں، انصاف ضروری ہے۔؟انکوائری نہیں، نتیجہ ضروری ہے۔؟اور سب سے بڑھ کر…انسانی جان کی حفاظت کو ہر سیاسی، انتظامی اور سرکاری ترجیح سے بالاتر ھو کر کرنا ضروری ہے۔ورنہ کل پھر کوئی ننھی کلی کھلنے سے پہلے مرجھا جائے گی، کوئی ماں پھر اپنی گود میں آنے والے بچے سے محروم ہوجائے گی، کسی گھر کی خوشیاں پھر ماتم میں بدل جائیں گی، اور ہم پھر وہی روایتی جملے سنیں گے؟”واقعے کا سخت نوٹس لے لیا گیا ہے، تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔”مگر سوال یہ ہے؟ کہ آخر کب تک۔۔۔؟ اور سوگوار والدین کا نوحہ آخر کون سنے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں