18

نوجوانوں اور پارلیمنٹیرینز کا پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے اقدامات مزید مؤثر بنانے پر زور تمباکو سے پاک پاکستان“ وژن کو آگے بڑھانے کیلئے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

اسلام آباد(سٹی رپورٹر) اسلام آباد میں یوتھ مینٹورز اور پارلیمنٹیرینز کے لیے ایک آگاہی و تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع ”تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے نوجوان آگاہی سے عملی اقدامات تک“ تھا۔ نشست میں پارلیمنٹیرینز، ماہرینِ صحت، تمباکو کنٹرول کے نمائندگان، یوتھ مینٹورز، سول سوسائٹی اور عورت فاؤنڈیشن (AF) کی ٹیم نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو اور جدید نکوٹین مصنوعات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے اور تمباکو کنٹرول کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔نشست میں محترمہ سیدہ آمنہ بتول، رکن قومی اسمبلی و فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام (PMYP)، محترمہ سبین گھوری، رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، رکن قومی اسمبلی جمال احمد خان رئیسانی اور رکن صوبائی اسمبلی تنویر اسلم راجہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ٹوبیکو کنٹرول سیل (TCC) کے مسٹر آفتاب احمد، پروفیسر ڈاکٹر متیع الرحمن، سینیٹر فیصل جاوید رانا اور کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز (CTFK) کے مسٹر انیس احمد سمیت یوتھ مینٹورز اور عورت فاؤنڈیشن کی ٹیم بھی موجود تھی، جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر نعیم احمد مرزا، اینٹی ٹوبیکو پراجیکٹ کے ٹیم لیڈ سید صفدر رضا، ڈائریکٹر پروگرامز ممتاز مغل اور پروگرام آفیسر اینٹی ٹوبیکو پراجیکٹ فاطمہ جعفری شامل تھیں۔نشست کے دوران شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو کنٹرول کو صحتِ عامہ کی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب نوجوانوں میں تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات تک رسائی اور ان کے استعمال کا رجحان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ صرف آگاہی تک محدود رہنے کے بجائے ٹھوس پالیسی اور قانون سازی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔نشست سے سامنے آنے والے اہم مطالبات میں تمباکو مصنوعات کی پیکنگ پر گرافک ہیلتھ وارننگز (GHWs) کا حجم موجودہ 70 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ شرکاء نے کہا کہ زیادہ بڑی اور نمایاں صحت سے متعلق وارننگز عوام کو تمباکو کے استعمال کے خطرناک اثرات سے آگاہ کرنے اور بالخصوص نوجوانوں کو تمباکو نوشی شروع کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔شرکاء نے تمباکو اور نکوٹین مصنوعات پر ٹیکس میں مؤثر اور باقاعدگی سے اضافہ کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے یہ مصنوعات خصوصاً نوجوانوں کے لیے کم قابلِ استطاعت ہوں گی، جس سے تمباکو کے استعمال میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمباکو ٹیکس سے متعلق پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ان کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔پارلیمنٹیرینز نے تمباکو کنٹرول کے اقدامات کے لیے قانون سازی، پارلیمانی نگرانی اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو پالیسی سازی اور آگاہی و وکالت کے عمل میں شامل کرنے پر بھی زور دیا تاکہ ان کی آواز اور تجربات کو قومی و صوبائی تمباکو کنٹرول کی حکمت عملیوں کا حصہ بنایا جاسکے۔ماہرینِ صحت نے تمباکو اور نکوٹین کے مضر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام کے لیے شواہد پر مبنی پالیسیوں، مؤثر آگاہی مہمات اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔نشست میں یوتھ مینٹورز کو تبدیلی کے سفیر اور تمباکو کنٹرول کے وکلا کے طور پر تیار کرنے کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ نوجوان مینٹورز اپنے ساتھیوں، تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز تک درست اور مستند معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو علم، آگاہی اور وکالت کی مہارتوں سے بااختیار بنانا پاکستان میں تمباکو سے پاک معاشرے کے لیے ایک پائیدار تحریک تشکیل دینے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔پارلیمنٹیرینز، ٹوبیکو کنٹرول سیل، کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز اور عورت فاؤنڈیشن کی شرکت نے حکومت، سول سوسائٹی، ماہرینِ صحت، پارلیمنٹیرینز اور نوجوانوں کے درمیان تمباکو کنٹرول کے حوالے سے باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔نشست کے اختتام پر تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانے، گرافک ہیلتھ وارننگز کو 70 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد کرنے، تمباکو اور نکوٹین مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ، مؤثر ٹیکس نظام، قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے بالخصوص تمباکو اور نکوٹین مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کو صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔شرکاء نے پاکستان کی نوجوان نسل کو تمباکو اور نکوٹین کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے اور ”تمباکو سے پاک پاکستان“ کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں