58

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی کان کنی و معدنیات برآمد کنندگان کو مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی 5 فیصد ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کے نفاذ سے معدنیات کی برآمدات مکمل طور پر رک گئی ہیں، سید محمد اکرمبرآمدات پر اضافی ٹیکس کا بوجھ ناقابل قبول ہے، ایف بی آر کے سامنے مسئلہ اجاگر کریں گے، محمد ریحان حنیف

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے کان کنی و معدنیات کے برآمد کنندگان کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے سید محمد اکرم کی قیادت میں صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف سے ملاقات کی اور فنانس ایکٹ 2026 کے تحت مقامی طور پر خریدی جانے والی معدنیات پر 5 فیصد ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سنگین مشکلات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں سینئر نائب صدر کے سی سی آئی محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھانی، چیئرمین فیڈرل ٹیکسیشن سب کمیٹی ابوبکر شمسی، سابق ای سی ممبر آصف بیگا و دیگر بھی شریک تھے۔ وفد کے سربراہ سید محمد اکرم نے برآمد کنندگان کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ معدنیات کا شعبہ مکمل طور پر برآمدات پر مشتمل ہے جس کی تقریباً 100 فیصد پیداوار بین الاقوامی مارکیٹوں کے لیے ہے جبکہ مقامی صنعتوں میں اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود برآمد کنندگان کو اب ودہولڈنگ ایجنٹ قرار دیا گیا ہے جن کے لیے سپلائرز، کان مالکان اور بروکرز کو کی جانے والی ادائیگیوں سے 5 فیصد سیلز ٹیکس کی کٹوتی لازمی قرار دی گئی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ شعبہ دور دراز کان کنی کے علاقوں میں واقع سینکڑوں چھوٹے اور غیر رجسٹرڈ سپلائرز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے جن میں سے بیشتر صرف 10 سے 50 ٹن تک معدنیات محدود مقدار میں فروخت کرتے ہیں۔ برآمد کنندگان پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے سے سپلائرز میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں یکم جولائی 2026 سے خام مال کی فراہمی کا سلسلہ تقریباً مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے۔ محمد اکرم نے خبردار کیا کہ برآمد کنندگان کو اب برآمدی آرڈرز، لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) اور بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ وعدوں کی تکمیل کے لیے درکار خام مال دستیاب نہیں جس سے عالمی مارکیٹوں میں پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے معاشی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات کی برآمدی صنعت میں منافع کی شرح عموماً 2 سے 3 فیصد کے درمیان ہوتی ہے جس کے باعث 5 فیصد ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کا بوجھ برداشت کرنا تجارتی لحاظ سے ناممکن ہے۔ اس اقدام سے برآمدات معاشی لحاظ سے ناقابلِ عمل ہو جائیں گی اور بہت سے برآمد کنندگان اپنا کاروبار مکمل طور پر معطل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے برآمدی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کرومائٹ کی برآمدات مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 94 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26میں تقریباً 130 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی سبسڈی، مراعات، رعایت یا انفراسٹرکچر معاونت کے بغیر خالصتاً نجی شعبے کی کاوشوں سے حاصل ہونے والی تقریباً 35 فیصد کی شاندار نمو کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس شعبے نے خود ساختہ سرمایہ کاری اور کاروباری کاوشوں کے ذریعے پاکستان کے لیے مسلسل قیمتی زرمبادلہ کمایا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ قومی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالنے والی اس صنعت کو ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شقیں فوری طور پر واپس لی جائیں۔ صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ چاہے متاثرہ فریقین کے سی سی آئی کے ارکان ہوں یا نہ ہوں کراچی چیمبر تاجر برادری کو درپیش ہر جائز مسئلے کی حمایت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔انہوں نے کہاکہ انہیں جب کان کنی اور معدنیات کے شعبے کو درپیش مسائل کا علم ہوا تو کے سی سی آئی نے فوری طور پر وفد کو مدعو کیا تاکہ زمینی حقائق سے براہِ راست آگاہی حاصل کرکے متعلقہ پالیسی ساز اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں یہ مسئلہ اجاگر کیا جا سکے۔انہوں نے یاد دلایا کہ کراچی چیمبر نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری کے دوران بھی حکومت کو جامع اور ٹھوس بجٹ تجاویز پیش کیں۔کے سی سی آئی نے روایتی تجاویزکے برعکس ہر تجویز کے ساتھ اس کے معاشی جواز، صنعت، برآمدات اور قومی آمدنی پر متوقع مثبت اثرات کی تفصیلی وضاحت بھی فراہم کی جس کے نتیجے میں کے سی سی آئی کی متعدد تجاویز کو حکومت نے بجٹ کا حصہ بنایا۔ ریحان حنیف نے وفد کو یقین دلایا کہ کے سی سی آئی اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی ہرممکن ادارہ جاتی حمایت اور بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی نئے متعارف کردہ ودہولڈنگ ٹیکس نظام کے تمام قانونی، ٹیکس اور طریقہ کار سے متعلق پہلوؤں کا مکمل جائزہ لے گا اور پاکستان کی برآمدات پر مبنی معدنیات کی صنعت پر اس کے منفی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے ایک جامع کیس تیار کرے گا۔انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اس معاملے کو ایف بی آر کے ساتھ بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور سفارش کی جائے گی کہ مکمل طور پر برآمد کی جانے والی معدنیات پر لاگو ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کی شقوں کا فریقین کی مشاورت سے جائزہ لیا جائے اور انہیں معقول بنایا جائے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومتی پالیسیوں کا مقصد برآمدات کے فروغ میں سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے نہ کہ ایسے اضافی ٹیکس اور ضابطہ جاتی بوجھ عائد کرنا جو جائز کاروبار کی حوصلہ شکنی کریں اور پاکستان کی برآمدی مسابقت کو کمزور کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں