اسلام آباد (سٹی رپورٹر) آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکرٹری و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری، جی نائن کراچی کمپنی کے صدر راجہ ذوالفقار، جی الیون مرکز کے صدر نعیم اعوان، ایف ٹین مرکز کے صدر احمد خان، ایف ایٹ مرکز کے جنرل سیکرٹری اسماعیل خان، آئی ایٹ مرکز کے صدر وحید چیمہ، آئی نائن مرکز کے صدر صفدر عباسی، بلیو ایریا ایسٹ کے صدر عماد بن عارف، بہارہ کہو سملی روڈ کے صدر راجہ زاہد دھنیال، جی ایٹ مرکز کے صدر عجب خان، ستارہ مارکیٹ کے صدر الطاف شاہ، ایف سکس سپر مارکیٹ کے صدر شہزاد عباسی، جی ٹین مرکز کے صدر کامران کاکاخیل، پی ڈبلیو ڈی کے صدر چوہدری ریاست علی اور آبپارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اختر عباسی نے پمز ہسپتال کے المناک سانحے میں چودہ نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔تاجر رہنماؤں نے کہا کہ پوری تاجر برادری غم زدہ والدین اور ان کے دیگر لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے والدین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والا یہ دل خراش واقعہ ہسپتال کے حفاظتی، انتظامی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس بات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیئے کہ آگ یا کسی دوسری ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے انتظامات مؤثر کیوں ثابت نہ ہوئے، فائر فائٹنگ نظام کی حالت کیا تھی، ہنگامی اخراج کے راستے قابلِ استعمال تھے یا نہیں اور بروقت امدادی کارروائی میں کہاں اور کس سطح پر کوتاہی ہوئی۔تاجر رہنماؤں نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ سطحی انکوائری کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات غیر جانب دار، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے۔ انکوائری رپورٹ کو کسی تاخیر کے بغیر منظرِ عام پر لایا جائے اور انتظامی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات یا فرائض سے کوتاہی کے مرتکب تمام ذمہ دار افراد کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر فائٹنگ آلات، آگ کی نشاندہی اور الارم کے نظام، ہنگامی اخراج کے راستوں، بجلی کے نظام، طبی آلات اور عملے کی ہنگامی تربیت کا فوری اور جامع حفاظتی آڈٹ کرایا جائے۔ حفاظتی مشقوں کو باقاعدگی سے منعقد کیا جائے اور ہر ہسپتال میں واضح ایمرجنسی رسپانس پلان نافذ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دل خراش سانحات سے بچا جا سکے۔تاجر رہنماؤں نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں ہوسکتی۔ اس سانحے کو محض ایک رسمی انکوائری تک محدود کرنے کے بجائے اس کے اسباب کا مستقل تدارک کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی و انتظامی نظام میں عملی اصلاحات یقینی بنائی جائیں۔
46