24

پمز سانحہ: ہر سوگوار خاندان کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، کے سی سی آئی ریحان حنیف کا ملک بھر کے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کے آڈٹ، قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد میں ہونے والی تباہ کن آتشزدگی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے اس واقعے کو ناقابلِ برداشت قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دلخراش حادثے نے پورے ملک کو سوگوار کردیا ہے۔ صدر کے سی سی آئی نے غمزدہ والدین اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے والدین کو اس ناقابلِ تلافی صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت، حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا کرے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں نومولود بچوں کی اموات ایک ایسا سانحہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ان معصوم جانوں کو ایک ایسے ادارے کے سپرد کیا گیا تھا جہاں حفاظت اور نگہداشت کے اعلیٰ ترین معیار کی توقع کی جاتی ہے۔ اس واقعے نے طبی اداروں میں آگ سے بچاؤ، برقی نظام کی حفاظت، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی انخلا کے انتظامات پر انتہائی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ریحان حنیف نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر سوگوار خاندان کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کے اعلان کو ایک مثبت ابتدائی قدم قرار دیا تاہم وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ پمز سانحے میں اپنے نومولود بچے سے محروم ہونے والے ہر خاندان کے لیے معاوضے کی رقم بڑھا کر ایک کروڑ روپے کی جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کے بعد حکومت سندھ نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے ہر خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ کسی بھی قدر کی مالی امداد ایک قیمتی انسانی جان واپس نہیں لاسکتی اور نہ ہی والدین کے عمر بھر کے غم کو کم کرسکتی ہے تاہم معاوضے کی ادائیگی ریاست کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی، ذمہ داری اور ان کی زندگی کے مشکل ترین وقت میں معاونت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو حکومت سندھ کی قائم کردہ مثال کی پیروی کرتے ہوئے پمز سانحے کے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کی رقم بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جیسے ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنے والے خاندان یکساں ہمدردانہ طرزِعمل کے مستحق ہیں خواہ ایسا سانحہ ملک کے کسی بھی حصے میں پیش آئے۔ معاوضے میں اضافہ ایک واضح اور مضبوط پیغام دے گا کہ ریاست غمزدہ والدین کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد کے سی سی آئی کے کردار اور تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے ریحان حنیف نے کہا کہ کراچی چیمبر نے فوری طور پر اپنے ادارہ جاتی وسائل متحرک کیے، ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، حکومت سندھ اور متاثرہ تاجروں کے ساتھ بھرپور رابطہ و تعاون کیا اور نقصانات کے شفاف تخمینے، جانچ پڑتال، معاوضوں کی ادائیگی اور بحالی کے اقدامات میں مؤثر کردار ادا کیا۔ اس تجربے سے ثابت ہوا کہ کسی بڑے سانحے کے بعد عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت کا فوری ردِعمل، شفاف رابطہ کاری اور مسلسل ادارہ جاتی معاونت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف معاوضے کی ادائیگی اس سانحے کا کافی جواب نہیں ہوسکتی۔ پمز آتشزدگی کی شفاف، آزادانہ اور مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام انتظامی، تکنیکی اور عملی کوتاہیوں کی نشاندہی کی جاسکے اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
صدر کے سی سی آئی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں آگ، بجلی اور ہنگامی حالات سے متعلق حفاظتی انتظامات کا فوری اور جامع آڈٹ کرایا جائے، خصوصاً نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس، زچگی وارڈز، انتہائی نگہداشت یونٹس اور ایسے دیگر شعبوں میں جہاں زیرِ علاج مریض اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ہسپتالوں میں مکمل طور پر فعال فائر الارم، دھواں محسوس کرنے والے آلات، خودکار اسپرنکلر نظام، آگ بجھانے کے آلات، فائر ہائیڈرنٹس، واضح نشاندہی کے حامل اور ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک ہنگامی راستے، محفوظ برقی تنصیبات، مناسب دیکھ بھال کے حامل آکسیجن نظام اور تربیت یافتہ ہنگامی امدادی ٹیموں کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ ہنگامی انخلا کی باقاعدہ مشقوں اور آزادانہ حفاظتی معائنے کو بھی لازمی قرار دیا جائے جبکہ مقررہ حفاظتی معیارات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ریحان حنیف نے کہا کہ حفاظتی ضابطوں کو محض فائلوں، سرٹیفکیٹس یا معائنہ رپورٹس تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان پر مکمل عمل درآمد، باقاعدگی سے جانچ اور ان کا عملی طور پر فعال ہونا یقینی بنایا جائے۔ ہسپتال مریض کے لیے سب سے محفوظ مقام ہونا چاہیے نہ کہ ایسی جگہ جہاں قابلِ انسداد غفلت ایک ناقابلِ تلافی سانحے میں تبدیل ہوجائے۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر ہر سوگوار خاندان کے لیے معاوضے کی رقم جلد از جلد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے، تحقیقات کی بروقت تکمیل اور رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ہسپتالوں کے حفاظتی نظام میں جامع اصلاحات یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسا دل دہلا دینے والا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں