98

پاکستان اکنامک سروے 2024-25: معیشت میں بہتری کے آثار، صدر عثمان شوکت

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم معاشی اشاریے بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہیں،مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جو 2.68فی صدر کی شرح سے بڑھی،مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں نمایاں کمی آئی ہے، شرح سود جو سال پہلے 22فیصد تھا کم ہو کر 11فیصد پر آ گئی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 16.64 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس سے مارکیٹ کا اعتماد بحال ہوا ہے اور روپیہ مستحکم ہو ا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جامع اور دیرپا سٹرکچرل اصلاحات کی جانب پیش رفت کی جائے۔
“معاشی استحکام ایک اہم سنگ میل تھا—لیکن اب اصل کام شروع ہونا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرے، پالیسی میں تسلسل کو یقینی بنائے، اور کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرے تاکہ پاکستان کی معیشت زیادہ مسابقتی اور مضبوط بن سکے۔ وفاقی بجٹ ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے جس میں صنعت دوست پالیسیاں متعارف کرائی جا سکتی ہیں، ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا ئے ، اور گورننس کو بہتر بنایا جائے۔عثمان شوکت نے کہا “جبکہ معاشی استحکام بڑی حد تک حاصل ہو چکا ہے، اب توانائی کی قیمتوں، ٹیکس نظام، اور سرکاری شعبے کی کارکردگی میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں