68

ملک گیر گڈز ٹرانسپورٹرز،آئل ٹینکرز ہڑتال فوری ختم کرانے کیلئے حکومت فی الفور مداخلت کرے: صدر کراچی چیمبر طویل ہڑتال سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور قومی سپلائی چین شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ریحان حنیف جائز مطالبات کے حل کیلئے کے سی سی آئی نے ثالثی کی پیشکش کردی

کراچی (بیورو چیف )کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف نے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکرز کی جاری ہڑتال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت مسلسل معطل رہنے سے صنعتی پیداوار، سپلائی چین، برآمدات اور مجموعی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔ پیر کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف نے وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے نمائندوں سے فوری طور پر اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں شامل کریں، ان کے جائز اور حقیقی مسائل سنیں اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ان کے زیرِ التوا مسائل کو مزید کسی تاخیر کے بغیر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال فوری حکومتی مداخلت کا تقاضا کرتی ہے۔ میں وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے نمائندوں سے فوری رابطہ کرکے ان کے جائز مسائل کو حل کریں تاکہ قومی معیشت کو مزید نقصان پہنچائے بغیر یہ ہڑتال ختم کرائی جاسکے۔ صدر کے سی سی آئی نے نشاندہی کی کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ پاکستان کی مکمل سپلائی چین میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو بندرگاہوں، صنعتوں، مارکیٹوں اور صارفین کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ اشیاء اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت میں طویل تعطل کے نتیجے میں صنعتی پیداوار، خام مال کی دستیابی، تیار مصنوعات کی ترسیل، ایندھن کی فراہمی، ملکی تجارت اور برآمدی سامان کی بروقت ترسیل پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس کے باعث قومی معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، بالخصوص برآمدی شعبہ شدید متاثر ہوا کیونکہ برآمد کنندگان کو اپنی برآمدی ذمہ داریاں پوری کرنے اور کنسائنمنٹس کی بروقت شپمنٹ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کی برآمدی صنعت پہلے ہی متعدد معاشی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہے، وہ مزید کسی رکاوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ریحان حنیف نے زور دیا کہ ٹرانسپورٹرز کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے حقیقی و جائز مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے بجائے اس کے کہ معاملہ ایک طویل محاذ آرائی کی شکل اختیار کرلے۔ تاہم انہوں نے ٹرانسپورٹ برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ بھائیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس ہڑتال کے باعث ملک کو پہنچنے والے بے پناہ نقصان کو مدنظر رکھیں۔ میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ فراخدلی کا مظاہرہ کریں اور پاکستان اور اس کے عوام کے وسیع تر مفاد میں ہڑتال ختم کردیں۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت ان سے مذاکرات کرے گی اور ان کے جائز مطالبات پر بات چیت کے ذریعے قابلِ قبول حل نکالا جاسکتا ہے۔ صدر کے سی سی آئی نے واضح کیا کہ جائز مطالبات پیش کرنے اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کے حق کو مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے تاہم ایسے وقت میں جب صنعتیں، برآمد کنندگان اور کاروباری ادارے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، طویل دورانیے کی پہیہ جام ہڑتال بالآخر پوری معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے جس میں خود ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے تصادم کے بجائے نتیجہ خیز اور مسئلہ حل کرنے والا طریقہ اختیار کریں۔ ریحان حنیف نے مزید اعلان کیا کہ کراچی چیمبرحکومت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے درمیان ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے تاکہ اس مسئلے کا باہمی رضامندی سے ایک قابلِ عمل، پائیدار اور دیرپا حل تلاش کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی ثالث کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ ہم ٹرانسپورٹ کے نمائندوں اور حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ان کے جائز مطالبات کے حل کیلئے مشترکہ طور پر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہمارا مقصد بالکل واضح ہے کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلتا رہے، صنعتیں فعال رہیں، برآمدات کا سلسلہ جاری رہے اور ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے شعبے کے جائز تحفظات کو بھی حل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں