سیالکوٹ:( رپورٹ احمد ظفر گوندل، ڈپٹی بیورو چیف)
سیالکوٹ شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک، روزمرہ کے شدید رش اور آمدورفت کے مسائل کے پیش نظر حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شہر کے گرد رنگ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا، بھاری گاڑیوں کو متبادل راستہ فراہم کرنا اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات مہیا کرنا ہے۔شہری اور کاروباری حلقوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں رنگ روڈ سیالکوٹ کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔دوسری جانب مجوزہ رنگ روڈ کے راستے میں آنے والے متعدد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کے مالکان شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبے پر موجودہ نقشے کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو ان کے گھروں اور جائیدادوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے باعث وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت منصوبے پر عمل درآمد سے قبل شفاف مشاورت کرے، متاثرہ افراد کو قانون کے مطابق مناسب معاوضہ اور متبادل بحالی فراہم کرے، اور جہاں ممکن ہو، روٹ میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں جن سے رہائشی آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچے۔عض مقامی رہائشیوں اور متاثرین نے اپنے گھروں اور املاک کے تحفظ کے لیے احتجاج اور ہڑتالوں کی بھی کال دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوامی مفاد کے منصوبے ضرور مکمل ہونے چاہییں، تاہم کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق اور املاک کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ جیسے ترقیاتی منصوبے شہر کی ضرورت ہیں، تاہم ان کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب ترقیاتی عمل اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے درمیان متوازن اور منصفانہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔
125