52

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کا ایف بی آر کا POS نظام مسترد، احتجاجی تحریک کا اعلان

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب نے ایف بی آر کی جانب سے نجی کلینکس، لیبارٹریز، ڈائیگناسٹک سینٹرز اور ہسپتالوں میں POS/الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔اتوار کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر کامران سعید، سیکریٹری ڈاکٹر کامران احمد، ڈاکٹر ظفر، ڈاکٹر عمران اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے کلینکس میں POS نظام کی تنصیب ناقابل قبول ہے۔ اس کے نفاذ کے خلاف خدمات کی فراہمی معطل کرنے سمیت احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔پی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ POS نظام کے تحت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ڈاکٹرز کے لیے عملی طور پر مشکل ہے۔ کلینکس میں POS کی تنصیب مریضوں کے نجی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے اور ڈاکٹر و مریض کے درمیان رازداری کی اخلاقی ذمہ داریوں کے بھی منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ POS نظام چلانے کے لیے ہر کلینک میں اضافی عملہ مقرر کرنا پڑے گا، جس کے لیے الگ جگہ، انٹرنیٹ، بجلی اور دیگر سہولیات درکار ہوں گی۔ کسی بھی وقت POS عملے کی عدم موجودگی، مشین میں خرابی یا انٹرنیٹ کی بندش کی صورت میں ڈاکٹر کے لیے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنا متاثر ہو سکتا ہے۔
پی ایم اے پنجاب رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ نجی کلینکس، لیبارٹریز، ڈائیگناسٹک سینٹرز اور ہسپتالوں کو لازمی POS/e-invoicing نظام سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کا مریض کا معائنہ اور طبی مشورہ کسی ریٹیل دکان پر ہونے والی خرید و فروخت کے مترادف نہیں۔انہوں نے ایف بی آر کی جانب سے ہسپتالوں اور کلینکس پر چھاپوں اور مبینہ ہراساں کیے جانے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس آڈٹ قانون کے مطابق کیا جائے۔ اگر کسی ڈاکٹر پر اضافی ٹیکس واجب الادا ہے تو باقاعدہ آڈٹ، شواہد اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔پی ایم اے رہنماؤں کے مطابق POS نظام کلینکس میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سبسڈی، رعایت یا مفت طبی سہولیات کی درست نشاندہی کرنے سے بھی قاصر ہے، جس کے باعث رعایت حاصل کرنے والے مریضوں کی مد میں بھی ڈاکٹر کو مکمل ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے اجلاس میں ایف بی آر کے اس اقدام کو مسترد کر دیا گیا ہے، جبکہ پی ایم اے کے دیگر صوبائی اور وفاقی چیپٹرز نے بھی اس معاملے پر اجلاس طلب کر لیے ہیں۔پی ایم اے پنجاب رنماؤں نے اعلان کیا کہ تمام صوبائی اور وفاقی باڈیز کے اجلاسوں کے بعد مرکزی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس احتجاج کو ملک بھر میں پھیلانے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں