گزشتہ ہفتے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) میں برسرِ اقتدار یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے زیرِ اہتمام فرسٹ اکنامک سیمینار منعقد ہوا، جس میں پاکستان بھر کے چیمبرز، ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور آئندہ انتخابات میں متوقع امیدواروں نے بھرپور شرکت کی۔بیرونِ شہر سے اسلام آباد آنے والے مہمانوں کے لیے دو روزہ قیام و طعام کا انتظام سرینا ہوٹل میں کیا گیا، جبکہ شرکاء کی بڑی تعداد کے باعث متعدد مہمانوں کو موون پک ہوٹل میں بھی ٹھہرایا گیا۔ پہلے روز جناح کنونشن سینٹر میں عشائیے اور میوزیکل پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جہاں ممتاز گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنی پرفارمنس سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔سیمینار کے دوران یو بی جی کے پیٹرن اِن چیف ایس ایم تنویر، نائب صدور ذکی اعجاز اور طارق جدون سرگرم نظر آئے، جبکہ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر طفیل اور سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری مہمانوں کی میزبانی میں مصروف رہے۔ پہلے روز یو بی جی کی قیادت نے شرکاء سے خطاب کیا، جبکہ اصل سیشن اگلے روز صبح گیارہ بجے شروع ہوا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں تین سالہ کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا اور مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنی مسلسل تین سالہ مدتِ صدارت کا ایک منفرد ریکارڈ بھی قائم کیا۔ دسمبر میں مدتِ صدارت مکمل ہونے کے بعد وہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔اس کے بعد چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نمائندوں کے الگ الگ سیشن منعقد ہوئے، جن میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل اور تجاویز پیش کیں۔شام کے سیشن میں یو بی جی کے پیٹرن اِن چیف ایس ایم تنویر، سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز، دنیا میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو میاں عامر محمود اور معروف ماہرِ قانون احسن بھون نے خطاب کیا۔ مقررین نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، جس کی شرکاء کی بڑی تعداد نے حمایت کی۔اختتامی سیشن میں وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، مگر آج سیاسی حقیقت بیان کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا انتظامی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور وزیرِ اعظم کا زیادہ تر وقت صرف روزمرہ کے بحرانوں سے نمٹنے، یعنی “فائر فائٹنگ”، میں گزر جاتا ہے۔ انہوں نے تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں مثبت تبدیلی لانی ہے تو کاروباری برادری کو بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کی تقریر سے یہ تاثر ملا کہ وہ موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار پر بھی عوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ روزانہ یا بار بار قیمتوں میں رد و بدل سے عوام اور کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ پٹرولیم پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے یہ تاثر عام ہے کہ اس طرزِ عمل سے بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر ہے تو کم از کم سابقہ پندرہ روزہ نظام بحال کیا جائے، تاکہ شہریوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بہتر انداز میں منصوبہ بندی کا موقع مل سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین میں تسلسل، شفافیت اور پیشگی معلومات کو یقینی بنائے تاکہ غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
3