22

بجلی نرخوں کی آڑ میں حملہ وزیراعظم کی صنعتی بحالی ویژن کو سبوتاژ کرنے کا باعث بنے گا، ریحان حنیف ستمبر کے بلوں کا جھٹکا فیکٹریوں کی بندش پر مجبور کر سکتا ہے، صدر کے سی سی آئی نے خبردار کردیا

کراچی (کامرس رپورٹر) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ریحان حنیف نے جولائی2026 کے لیے تجویز کردہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) 2.5182 روپے فی یونٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے متوقع سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے تقریباً1.34 روپے فی یونٹ کو بھی مسترد مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کیا کہ دونوں ایڈجسٹمنٹ کا مشترکہ بوجھ پہلے ہی مشکلات کا شکار صنعتوں کو بندش کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ریحان حنیف نے منگل کو جاری بیان میں نشاندہی کی کہ اگر دونوں ایڈجسٹمنٹ منظوری کے بعد بیک وقت بجلی بلوں میں شامل کر دی گئی تو ستمبر کے بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں سے قبل تقریباً 3.86 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ موجودہ منفی کیو ٹی اے کی موجودہ 1.9857 روپے فی یونٹ ریلیف اگست کے بعد ختم ہوجائے گی جبکہ اگست کے بلوں میں پہلے ہی 0.7503 روپے فی یونٹ کا مثبت ایف سی اے شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں اگست کی خالص متواتر ایڈجسٹمنٹ سے ستمبر کی تجویز کردہ ایڈجسٹمنٹ کی طرف منتقلی ٹیکسوں سے قبل 5.09 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمول کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ صنعتوں پر بجلی نرخوں کی آڑ میں حملہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کاروباری لاگت کم کرنے، صنعتوں کی بحالی اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن بنانے کی بار بار بات کرتے ہیں مگر نچلی سطح پر اور نافذ کیے جانے والے فیصلے اس کے برعکس ہیں اور عملی طور پر وزیراعظم کے معاشی وژن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ صرف وہی صنعتی یونٹس ایسے بار بار کے جھٹکوں کے بعد اپنی بقاء قائم رکھ سکیں گے جن کے پاس بڑے پیمانے پر سولر یا ونڈ جنریشن سسٹم لگانے کے لیے خطیر سرمایہ موجود ہو جبکہ گرڈ پر انحصار کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) بتدریج ختم ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایک بار جب چھوٹی صنعتیں ختم ہونا شروع ہوگئیں تو پوری صنعتی سپلائی چین کمزور ہو جائے گی۔ بڑی صنعتیں تنہا کام نہیں کر سکتیں کیونکہ ہزاروں ایس ایم ایز انہیں پرزہ جات، پیکیجنگ، پروسیسنگ اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرتی ہیں لہٰذا اگر ایس ایم ایز ختم ہو گئیں تو ملک کا پورا مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم شدید متاثر ہوگا۔ ریحان حنیف نے سی پی پی اے جی کے نیپرا کو جمع کرائے گئے جولائی 2026 کے سرکاری توانائی خریداری کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی میں تقریباً 15.12 ارب یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ سی پی پی اے جی نے اصل توانائی لاگت 9.6112 روپے فی یونٹ کا تخمینہ لگایا جو 7.0929 روپے فی یونٹ کی ریفرنس لاگت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسی بنیاد پر 2.5182 روپے فی یونٹ ایف سی اے مانگا جارہا ہے۔ نیپرا 27 اگست 2026 کواس درخواست کی سماعت کرے گا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بھی ریفرنس لاگت کم تخمینہ کی جائے یا ٹیرف کے تعین میں غیرحقیقی مفروضے استعمال کیے جائیں تو صارفین کو سزا کیوں دی جائے؟ جب ریفرنس قیمت کو جان بوجھ کر یا غلطی سے متوقع لاگت سے کم رکھا جاتا ہے تو مثبت ایف سی اے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ غلط پیشگوئی کو ایک مستقل وصولی کے طریقہ کار میں تبدیل کر دیتا ہے جس کے تحت صارفین کو مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ٹیرف کے بجائے یکے بعد دیگرے سرچارجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سرکلر ڈیٹ کے حوالے سے کہا کہ یہ نہایت تشویشناک امر ہے کہ صارفین ڈیبٹ سروس سرچارج، ایف سی اے، کیو ٹی اے اور متعدد ٹیکسوں کا سامنا کرتے رہے ہیں پھر بھی سرکلر ڈیٹ دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے 18 بینکوں کے ساتھ 1.225 کھرب روپے کی تاریخی سرکلر ڈیٹ ری اسٹرکچرنگ انتظام کا اعلان کیا تھا جس میں 660 ارب روپے کے پہلے سے موجود قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ شامل تھی جسے پہلے سے عائد 3.23 روپے فی یونٹ کے ڈیبٹ سروس سرچارج کے ذریعے 6 سالوں میں ادا کیا جانا ہے۔انہوں نے خبردارکیا کہ اس بڑی ری اسٹرکچرنگ کے باوجود مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ61 ارب روپے بڑھ کر 1.614 کھرب روپے سے 1.675 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا کہ سابقہ واجبات ختم کرنے کے لیے مزید قرض لینا اس وقت تک بحران حل نہیں کرسکتا جب تک غیرمؤثر نظام، کم وصولیاں، متنازع واجبات اور ناقص انتظامی نگرانی کے ذریعے نیا قرض پیدا ہوتا رہے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ رپورٹ کیے گئے520 ارب روپے قرضے میں اضافے کے بڑے عوامل شامل تھے جن میں ڈسکوزکے غیرمؤثر ہونے اور نقصانات سے262 ارب روپے، کمزور وصولیوں سے 64 ارب روپے اور کے الیکٹرک کی ادائیگیوں میں کمی سے 194 ارب روپے شامل ہیں۔ بعد ازاں سبسڈیز، ادائیگیوں اور دیگر ایڈجسٹمنٹس کے باعث خالص سالانہ اضافہ 61 ارب روپے رہا۔انہوں نے کے الیکٹرک سے قابل وصول ظاہرکردہ421 ارب روپے کی شفاف مصالحت کا مطالبہ کیا جس میں 197 ارب روپے اصل رقم اور 224 ارب روپے مارک اپ بتایا گیا ہے تاکہ کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کو متنازع یا غیرمصدقہ رقوم کی ادائیگی پر مجبور نہ کیا جائے۔
ریحان حنیف نے خبردار کیا کہ پاکستان کی صنعتی بحالی ابھی اتنی مضبوط نہیں ہے کہ توانائی کی قیمتوں کا ایک اور جھٹکا برداشت کر سکے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ مالی سال 2025-26 کے دوران لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 4.98 فیصد اضافہ ہوا تاہم جون 2026 میں پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 3.48 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 6.08 فیصد کمی ہوئی۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں سالانہ بنیاد پر0.63 فیصد کمی آئی جبکہ آئرن اور اسٹیل کی پیداوار میں 7.84 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح پاکستان کی برآمدات جولائی 2026 میں 2.962 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد 10.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں لیکن درآمدات میں 18.9 فیصد اضافہ ہوا جو 6.94 ارب امریکی ڈالر ہوگئیں جس کے نتیجے میں 3.978 ارب ڈالر کا بڑا ماہانہ تجارتی خسارہ سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کو ہر برآمدی آرڈر کے تحفظ اور وسیع تجارتی خسارے کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بجلی میں ایک اور غیر متوقع اضافہ صنعتی منافع کو ختم، پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں غیرمسابقتی اور برآمدی مارکیٹوں کو علاقائی حریفوں کے حوالے کرسکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی غیرمنصفانہ سبسڈی کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ حقیقت پسندانہ ریفرنس لاگت، مؤثر بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی اور سخت احتساب پر مبنی شفاف، مستحکم اور منطقی ٹیرف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جائز توانائی لاگت کے فرق پر تب ہی غور کیا جا سکتا ہے جب غلط مفروضوں، ناکارہ ڈسپیچ، ترسیلی رکاوٹوں، ناگزیر پلانٹ کی بندشوں، مہنگی توانائی کی لازمی خریداری کے انتظامات اور شعبہ جاتی ناکامیوں سے پیدا ہونے والی اضافی لاگت کو ختم کردیا جائے۔ صدر کے سی سی آئی نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ وہ 27 اگست کی سماعت میں جولائی کے ایف سی اے کو مسترد کرے یا اس میں خاطر خواہ کمی کی جائے اور تجویز کردہ مثبت کیو ٹی اے کی نوٹیفکیشن کو اس وقت تک روکا جائے جب تک آزادانہ تکنیکی اور مالیاتی آڈٹ مکمل نہ ہوجائے۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے کے سی سی آئی، بڑی صنعتی ایسوسی ایشنز، نیپرا، پاور ڈویژن، سی پی پی اے جی اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس طلب کریں تاکہ بجلی کے شعبے کی پالیسی کو حکومت کے صنعتی اور برآمدی اہداف سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ریحان حنیف نے کہا کہ پاکستان بار بار بجلی کو مہنگا اور غیر متوقع بنا کر برآمدات پر مبنی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ اب انتخاب واضح ہے یا تو نااہلیوں کا خاتمہ کیا جائے اور پیداواری صنعت کا تحفظ کیا جائے یا پھر ہر ناکامی کا بوجھ صارفین پر ڈالتے رہیں جب تک کہ فیکٹریاں بند نہ ہو جائیں، روزگار کم نہ ہو جائے، برآمدات میں کمی نہ آ جائے اور قومی گرڈ مزید ادائیگی کرنے والے صارفین سے محروم نہ ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں