16

راز کی بات، تحریر: عابد محمود چودھری آزادی صحافت کے حکومتی دعوے، اور زمینی حقائق

جس طرح ازل سے خیر اور شر ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں، بالکل ویسے ہی صحافت کا شعبہ اور اس سے وابستہ افراد بھی قبضہ گروپوں،مافیاز، کرپٹ بیورو کریسی اور منفی سوچ رکھنے والےبعض عناصر کی دھونس، دھاندلی، بداخلاقی،طوفانِ بدتمیزی،سنگین نتائج کی دھمکیوں اور تشددآمیز رویوں کا سامنا کرتے چلےآرہے ہیں۔ورکنگ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اور اس کے بعد بھی ایسے عناصر کی بدتمیزی اور دباؤ کا نشانہ بنتے ہیں۔
ایسے منفی رویوں کےباعث ورکنگ صحا فیوں کو معاشرتی بگاڑ،کرپشن کے میگا اسکینڈلز،محکمانہ بےضابطگیوں، منشیات فروشوں اور ان کےسہولت کاروں سمیت مختلف مافیاز کےخلاف حقائق سامنے لانے پر نہ صرف آئے روز دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ بعض اوقات صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو جانی و مالی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔یہاں سوال یہ پیداہوتاہےکہ جب بھی حکومتی سطح پر یا کسی نجی تقریب میں شعبۂ صحافت کو ریاست کا’’چوتھا ستون‘‘اور کارکن صحافیوں کو معاشرے کی آنکھ، کان اور ناک قرار دیا جاتا ہے تو یہ سب سننے کےباوجود زمینی حقائق اس کےبرعکس کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ کہیں بھی اہلِ صحافت کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کےحوالے سے ریاستی رٹ مؤثر نظر نہیں آتی۔اکثر اوقات حکومتی یا اشرافیائی طبقات سے وابستہ بعض کرداروں کےمبینہ طور پر کالے کرتوت بےنقاب کرنے پربھی ورکنگ صحافیوں کو ان کے زیرِعتاب رہنا پڑتا ہے۔موجودہ اور ماضی کی تمام حکومتیں اپنے اپنے ادوار میں آزادیٔ صحافت کے دعوے تو کرتی رہی ہیں،مگر زمینی حقائق اکثر اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔آج کا کالم لکھنےکامقصدبھی یہی ہےکہ دعوؤں اور حقائق کے اس تضاد کے درمیان یہ جائزہ لیاجائے کہ صحافت اور اہلِ صحا فت کس قدر مشکل حالات سے دوچار ہیں۔اس صورتِ حال کی اصلاح اور ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ریاست کی اولین ترجیحات اور ذمہ دار یوں میں شامل ہونی چاہیے۔یوں تو ملک بھر میں آئے روز اہلِ صحافت کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران بد اخلاقی،دباؤ، ہراساں کیے جانے اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،تاہم آج کے کالم میں دو تازہ واقعات کا ذکر کروں گا،جن میں صحا فیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کےدوران مبینہ طور پر اسی کیفیت سے گزرنا پڑا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک معروف نجی ٹی وی چینل سے منسلک فیصل آباد کےبیوروچیف اور سینئر صحافی خرم شہزاد نے چند روز قبل اپنےچینل پر’’ستھرا پنجاب‘‘پروگرام میں ڈیجیٹل ڈیٹا اپ لوڈنگ کےنظام کی مبینہ بندش کےحوالے سے بعض دستاو یزی شواہد کی بنیاد پر ایک خبر رپورٹ کی،جبکہ اس رپورٹ میں’’ستھرا پنجاب‘‘ کے متعلقہ آپریشن مینیجر کا مؤقف بھی شامل کیا گیا۔صحافتی ذرائع اور متعلقہ فریق کےمطابق مذکورہ خبر نشرہونےکے بعد ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی عابد حسین بھٹی کی جانب سے صحافی خرم شہزاد سے بذریعہ ٹیلی فون مبینہ طور پر انتہائی غیراخلاقی زبان استعمال کی گئی اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں،جو کہ بلاشبہ ایک انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت معاملہ ہے۔حالانکہ کسی خبر کے غلط ہونے یا اس سےاختلاف کی صورت میں متعلقہ ادارے کو اپنا مؤقف پیش کرنے،خبر کی تردید کرنےیا قانونی راستہ اختیار کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن کسی بھی صحافی کو مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا، ہراساں کرنا یا غیراخلاقی و غیر مہذب زبان استعمال کرنا نہ تو کسی مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی کسی سرکاری عہدے کی شان کے مطابق درست طرزِ عمل۔دریں اثنا،الیکٹرانک میڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن فیصل آباد کے ایک اجلا س میں مذکورہ افسوسناک واقعے پر سینئر صحافی خرم شہزاد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا،اور ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی عابد حسین بھٹی کی جانب سے مبینہ طور پر توہین آمیز رویہ اپنانے،غیراخلاقی زبان استعما ل کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔ایسوسی ایشن کےعہدیداران نے کہا کہ سینئرصحافی خرم شہزاد نے’’ ستھرا پنجاب‘پروگرام کےحوالے سے موصول ہونے والے دستاویزی شواہد کی بنیاد پر خبر نشر کی،جس میں متعلقہ آپریشن مینیجر کا مؤقف بھی شامل کیا گیا تھا۔ایسوسی ایشن کےمطابق اس کے باوجود صحافی کے ساتھ مبینہ طور پر دھمکی آمیز اور غیراخلاقی رویہ اختیار کیا جانا آزادیٔ صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحا فیوں کو دباؤ میں لانےاور انہیں حقائق عوام کے سامنےلانے سے روکنے کی کسی بھی کوشش کو صحافی برادری آزادیٔ صحافت کےخلاف اقدام تصور کرے گی۔سرکاری اداروں کی کارکردگی اورعوامی معاملات پر سوال اٹھانا اور ان سے متعلق حقائق سامنے لانا صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔الیکٹرانک میڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن فیصل آباد کے عہدیداران نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری،چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صحا فی خرم شہزاد کو مبینہ طور پر دی جانے والی سنگین دھمکیوں اور ان کے ساتھ ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے مبینہ غیر اخلاقی رویےکی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ آئینی و قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے بھرپور احتجاج کرے گی۔علاوہ ازیں، دوسرے واقعے میں گوجرہ کے سینئر صحافی رانا مشہود الرشید کو بھی مبینہ طور پر جعلی کھاد مافیاء اور دیگر سنگین نوعیت کےمبینہ غیر قانونی معاملات میں ملوث افراد کے ایک سہولت کار کی جانب سے بذریعہ ٹیلی فون انتہائی بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیئے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ رانا مشہودالرشیدکےمطابق مذکو رہ شخص نےسوشل میڈیا پر اپنےخلاف لگائی گئی ایک پوسٹ کا بلاجواز الزام ان پر عائد کیا،جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ان کے مطابق انہوں نے مذکورہ شخص پر واضح بھی کیا کہ وہ اس پوسٹ سے کسی طور پر وابستہ نہیں،تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر انہیں گالم گلوچ کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔رانا مشہودالرشید کے مطابق مذکورہ ٹیلی فون کال کی ریکارڈنگ بھی محفوظ کر لی گئی ہے اور واقعے کےحوالے سےمتعلقہ سرکل آفیسر پولیس اور تھانہ سٹی گوجرہ میں درخواست بھی دی گئی ہے۔ تاہم ان کا مؤقف ہے کہ تاحال پولیس کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ مذکورہ دونوں واقعات اہلِ صحافت اور ان کے اہلِ خانہ کےلیےانتہائی تشویشناک ہیں۔آزادیٔ صحافت کےدعوے دار حکمران اگر واقعی صحافی برادری سے مخلص ہیں تو انہیں چاہیے کہ ایسے واقعات کا سخت نوٹس لیتےہوئے ان میں ملوث افراد کےخلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائیں۔ کیونکہ اگر صحافیوں کو دھمکانے، ہراساں کرنے یا ان پر دباؤ ڈالنے کے واقعات پر مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو نہ صرف اہلِ صحافت کاحکومت اور حکمرانوں پر اعتماد مجروح ہوگا بلکہ ایسے عناصرکی حوصلہ افزائی بھی ہوگی،جو کہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے مزید کھل کھیلنے کاموقع حاصل کریں گے۔صحافت کسی فرد، ادارے یا حکومت کے خلاف محاذ آرائی کا نام نہیں،بلکہ معاشرے کےمسائل،عوام کی آواز اور حقائق کوسامنے لانےکا نام ہے۔اگرصحافی خبر دینے سے پہلے دھمکیوں کےخوف میں مبتلا ہو جائیں تو پھر ’’چوتھے ستون‘‘ کی آزادی محض تقریروں،بیانات اور دعوؤں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ آزادیٔ صحافت کےحکومتی دعوؤں کو عملی اقدامات سے ثابت کیا جائے،صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور ان کے خلاف دھونس،دھمکی،ہراسانی یا تشدد آمیز رویوں کا راستہ روکا جائے۔کیونکہ ایک محفوظ صحافی ہی بے خوف ہو کر معاشرے کی آنکھ، کان اور آواز بن سکتا ہے۔#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں