41

یہ وہ سحر تو نہیں از قلم نسرین امیرزمان یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں — فیض احمد فیض

جب برصغیر کے مسلمانوں کو یہ یقین ہوا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ ان کے لیے ایک آزاد وطن کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں تو آزادی کی ایک نئی امید نے کروڑوں دلوں میں جنم لیا۔ صدیوں کی غلامی، تعصب اور ظلم سے نجات کی آرزو لیے لوگ اپنے گھر، زمینیں، کاروبار، مال و اسباب اور اپنے پیاروں کی قبریں تک چھوڑ کر ایک ایسے وطن کی جانب چل پڑے جس کا تصور اُن کے لیے آزادی، عزت اور خودمختاری کی علامت تھا۔یہ ہجرت محض مکان بدلنے کا نام نہیں تھی، یہ تاریخ کے صفحات پر لہو سے لکھی جانے والی ایک داستان تھی۔ قافلے لٹ گئے، بستیاں اجڑ گئیں، خاندان بچھڑ گئے اور بے شمار ماؤں نے اپنے لختِ جگر کھو دیے۔ راستے لاشوں سے اٹ گئے اور خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔ کہا جاتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے دوران ہونے والی ہجرت انسانی تاریخ کی عظیم ترین ہجرتوں میں شمار ہوتی ہے۔ مگر آزادی کے ان متوالوں کو کہاں معلوم تھا کہ جس سحر کا وہ خواب دیکھ رہے ہیں، اس کی پیشانی پر اتنے خون کے دھبے ہوں گے اور اس کی قیمت اتنی بھاری ادا کرنا پڑے گی۔وہ لوگ آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے چل پڑے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ آنے والی نسلیں ایک آزاد فضا میں سانس لیں گی، اپنے فیصلے خود کریں گی اور اس سرزمین کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائیں گی۔اور آج ہم ہیں، جنہیں ایک آزاد وطن بنا بنایا عطا ہوا، مگر ہم میں سے کتنے لوگ اس کی قدر کرتے ہیں؟ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ملک میں کچھ نہیں رکھا، یہاں رہنے کے قابل حالات نہیں، بس کسی طرح بیرونِ ملک جانے کا موقع مل جائے۔ مگر کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا کہ اس ملک کو اس حال تک پہنچایا کس نے ہے؟
کیا یہ اُن شہیدوں نے کیا جنہوں نے آزادی کے لیے اپنا خون دیا تھا؟ کیا اُن ماؤں نے کیا جنہوں نے اپنے بیٹے قربان کیے؟ کیا اُن بزرگوں نے کیا جنہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا؟نہیں!ہم جہاں کھڑے ہیں، اس میں ہماری اپنی غفلت، بے حسی اور اجتماعی ذمہ داری سے فرار کا بھی بڑا حصہ ہے۔ہم تبدیلی چاہتے ہیں، مگر تبدیلی کا آغاز ہمیشہ دوسروں سے چاہتے ہیں۔ ہم حکومت کو بدلنے کی بات کرتے ہیں، نظام کو بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں، سڑکوں پر نعرے لگاتے ہیں، مگر اپنی ذات کے اندر جھانکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ حقیقی تبدیلی کسی بڑے جلسے، بلند نعرے یا طویل تقریر سے نہیں، ایک فرد کے اپنے عمل سے شروع ہوتی ہے۔اگر آپ اپنی گلی میں ایک درخت لگا دیتے ہیں تو شاید دنیا نہ بدلے، مگر آنے والے برسوں میں وہ درخت اسی وطن کے لوگوں کو سایہ، ہوا اور زندگی دے گا۔ یہ بھی تبدیلی ہے۔اگر آپ جوس پینے کے بعد اس کا ڈبہ سڑک پر پھینکنے کے بجائے کوڑے دان میں ڈال دیتے ہیں تو یہ بھی وطن سے محبت ہے۔ کیونکہ یہ زمین محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں؛ یہ اُن شہیدوں کے خون کی امانت ہے جنہوں نے اسے آزاد کرانے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔اگر آپ رشوت لینے اور دینے سے انکار کرتے ہیں، اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرتے ہیں، قانون کی پاسداری کرتے ہیں، کسی کمزور کا حق نہیں مارتے اور اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں تو یقین رکھیے، آپ ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ملک سے باہر جانے کے لیے ہم جتنی کوشش کرتے ہیں، اگر اس کا آدھا حصہ اپنے ملک کو بہتر بنانے میں صرف کر دیں تو شاید وہ دن بھی آئے جب لوگ پاکستان چھوڑنے کے بجائے پاکستان آنے کا خواب دیکھیں۔
وطن سے محبت صرف جھنڈا لہرانے، نعرے لگانے یا قومی دن پر سبز لباس پہننے کا نام نہیں۔ وطن سے محبت ایک ذمہ داری، کردار اور مسلسل عمل کا نام ہے۔آئیے آج عہد کریں کہ ہم پاکستان کو صرف شکایتوں کی نظر سے نہیں دیکھیں گے بلکہ اپنی ذمہ داری کی نظر سے دیکھیں گے۔ ہم اپنے حصے کی روشنی جلائیں گے، اپنے حصے کا درخت لگائیں گے، اپنے حصے کی صفائی کریں گے اور اپنے حصے کی دیانت داری نبھائیں گے۔کیونکہ ہمیں یہ وطن تحفے میں نہیں ملا۔ اس کی بنیادوں میں لاکھوں انسانوں کے خواب، آنسو اور خون شامل ہے۔ملی نہیں ہے ہمیں ارضِ پاک تحفے میں جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا اب سوال صرف یہ نہیں کہ ’’یہ وہ سحر تو نہیں‘‘؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس سحر کو وہ سحر بنانے کے لیے ہم اپنا چراغ کب جلائیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں