56

ہم سکون سے سوتے ہیں، کیونکہ پاک فوج جاگتی ہے کالم نگار راجہ شمروز گکھڑ

دن بھر کی مصروفیات کے بعد جب رات کی خاموشی ہر طرف پھیل جاتی ہے، گھروں کے چراغ مدھم ہو جاتے ہیں، بچے بے فکری سے سو جاتے ہیں، بزرگ اطمینان کے ساتھ آرام کرتے ہیں اور ہر پاکستانی اپنے اہلِ خانہ کے درمیان سکون کی سانس لیتا ہے، تو شاید ہی کسی کے ذہن میں یہ خیال آتا ہو کہ اس سکون کی قیمت کون ادا کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر پرسکون رات، ہر محفوظ صبح اور ہر آزاد سانس کے پیچھے وہ عظیم محافظ کھڑے ہیں جو اپنی نیند، اپنے آرام اور اپنی جان تک وطن پر قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ وہ محافظ ہماری بہادر پاک فوج، ہمارے انٹیلی جنس ادارے اور وطن کے تمام سیکیورٹی ادارے ہیں۔پاکستان ایک عظیم نعمت ہے، جسے لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔ اس کی حفاظت بھی ہمیشہ قربانیوں کی متقاضی رہی ہے۔ دشمن نے کئی بار اس سرزمین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ہر مرتبہ پاک فوج کے بہادر جوانوں نے اپنے فولادی عزم، غیر متزلزل حوصلے اور بے مثال بہادری سے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ وطن کی سلامتی کے لیے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو کبھی جھکنے نہیں دیا۔سرحدوں پر کھڑا ایک سپاہی صرف بندوق اٹھائے ایک فوجی نہیں ہوتا بلکہ وہ پوری قوم کے اعتماد، امن اور آزادی کا محافظ ہوتا ہے۔ جب ہم عید اپنے بچوں کے ساتھ مناتے ہیں، وہ مورچوں میں ڈیوٹی دے رہا ہوتا ہے۔ جب ہم سردیوں میں گرم کمروں میں بیٹھے ہوتے ہیں، وہ برف پوش چوٹیوں پر پہرہ دے رہا ہوتا ہے۔ جب ہم گرمی سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتے ہیں، وہ تپتے صحراؤں میں وطن کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لیے اپنی ذات سے بڑھ کر پاکستان کی سلامتی اہم ہوتی ہے۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی۔ اس جنگ میں پاک فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لازوال قربانیاں دیں۔ ہزاروں افسران اور جوان شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج ملک میں امن پہلے سے کہیں بہتر ہے۔ ان شہداء کی قربانیاں ہمیشہ ہماری قومی تاریخ کا روشن باب رہیں گی۔پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ ہر مشکل گھڑی میں قوم کی امید بھی بنتی ہے۔ زلزلہ ہو، سیلاب ہو، برفانی طوفان ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، سب سے پہلے پاک فوج کے جوان متاثرہ علاقوں میں پہنچتے ہیں۔ وہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرتے ہیں، خوراک اور ادویات فراہم کرتے ہیں اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو پاک فوج کو قوم کے دلوں میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔آج ہم صرف پاک فوج کے بہادر جوانوں ہی کو نہیں بلکہ ان تمام خاموش محافظوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو پردۂ خفا میں رہ کر وطن کی سلامتی کے لیے شب و روز کام کرتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے وہ افسران جو قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کے وہ اہلکار جو دشمن کی سازشوں کو بروقت ناکام بناتے ہیں، اور وہ تمام سیکیورٹی ادارے جن کے نام اکثر خبروں کی زینت نہیں بنتے مگر جن کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سب پوری قوم کے ہیرو ہیں۔ ان کی انتھک محنت اور قربانیوں کی بدولت پاکستان کے دشمنوں کے بے شمار منصوبے ناکام ہوتے ہیں اور قوم خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔اس موقع پر ان عظیم ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنا بھی ہمارا قومی فرض ہے جنہوں نے ایسے بہادر، نڈر اور وفادار بیٹوں کی پرورش کی۔ ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو وطن کی خاطر رخصت کرتی ہے، دعاؤں کے سائے میں اسے سرحد پر بھیجتی ہے اور ہر لمحہ اس کی سلامتی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہتی ہے۔ جب کوئی سپاہی شہادت کا جام نوش کرتا ہے تو صرف ایک فوجی نہیں بلکہ ایک خاندان قربانی دیتا ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے سے، ایک باپ اپنے سہارے سے، ایک بیوی اپنے شریکِ حیات سے اور بچے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ خاندان وطن پر قربان ہونے والے اپنے پیاروں پر فخر کرتے ہیں۔ ایسی عظیم ماؤں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے ایسے شیر دل سپوت پیدا کیے جو پاکستان کی خاطر اپنی جان نچھاور کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مضبوط فوج کے ساتھ مضبوط قوم بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر عوام اپنے اداروں پر اعتماد کریں، قانون کی پاسداری کریں، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو کوئی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وطن کا دفاع صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اپنے کردار، دیانت داری، محنت اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے بھی کیا جاتا ہے۔
آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنے محافظوں کی قربانیوں کو سمجھے، اپنے شہداء کی داستانیں پڑھے اور وطن سے محبت کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی زندگی میں بھی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے نوجوان اپنے ملک اور اپنے قومی اداروں پر فخر کرتے ہیں۔ہم سب کو چاہیے کہ اپنے شہداء کو یاد رکھیں، ان کے اہلِ خانہ کی عزت کریں، اپنی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے دعا کریں اور ہر اس ہاتھ کو مضبوط کریں جو پاکستان کے دفاع کے لیے اٹھتا ہے۔ کیونکہ اگر سرحدوں پر ہمارے محافظ جاگتے نہ ہوں تو شاید ہمارے گھروں کا سکون بھی باقی نہ رہے۔آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، ہماری پاک فوج، آئی ایس آئی، آئی ایس پی آر، تمام انٹیلی جنس اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے ہر محافظ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمی غازیوں کو صحت عطا کرے اور ان عظیم ماؤں کو سلامت رکھے جنہوں نے قوم کو ایسے بہادر بیٹے دیے۔ یہی وہ سپوت ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی پوری قوم فخر سے کہتی ہے:

“ہم سکون سے سوتے ہیں، کیونکہ ہمارے محافظ جاگتے ہیں۔”

پاکستان زندہ باد!
پاک فوج پائندہ باد!

:::

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں