22

پٹرول کی روزانہ قیمت اور اوگرا کا کردار تحریر۔ خالد چوہدری مارچ میں ایران امریکہ جنگ کے بعد سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ تو ہوا ہی لیکن حکومت نے پٹرول کی قیمت کے ساتھ لیوی سمیت جولائی تک تقریباً اڑھائی سو ارب روپے ٹیکس لگا کر آمدن کا ذریعہ بنا لیا

مارچ میں ایران امریکہ جنگ کے بعد سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ تو ہوا ہی لیکن حکومت نے پٹرول کی قیمت کے ساتھ لیوی سمیت جولائی تک تقریباً اڑھائی سو ارب روپے ٹیکس لگا کر آمدن کا ذریعہ بنا لیا ۔ جس سے گذشتہ برس کا بجٹ کا خسارہ پورا کر لیا ۔ اب چونکہ حکومت کے منہ کو خون لگ چکا ہے اور آسانی سے وصول کئے جانے والے ٹیکس کا سلسلہ جاری ہے۔ چونکہ حکومت کا تعلق سیاسی ہے اس لئے عوامی پریشر سے بچنے کے لئے ایک نیا ڈرامہ رچایا جا رہا یے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمت کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا حالانکہ یہ فیصلہ وزیر پٹرولیم کی طرح بچگانہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر فیصلہ کروڈ آئل کی بجائے صاف خالص پٹرول پر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے حالانکہ تقریباً پچاس فی صد کروڈ آئل امپورٹ ہوتا ہے اور پاکستان کی اپنی پٹرول کی پیدا وار کروڈ بھی ریفائنری کو سپلائی کی جاتی ہے ۔ اِس طرح قیمت کا تقریباً 20 فی صد زائد حکومت عوام کی جیبوں سے نکال رہی ہے۔ آئل کمپنیاں اور اپنی مقامی پیداوار کی قیمت ٹیکسوں سمیت انٹر نیشنل حاصل کر رہی ہے ۔ حکومت نے عوامی تنقید سے بچنے کے لئے اوگرا کو قیمت کے تعین کا اختیار دیا ہے ۔ گذشتہ کافی عرصہ سے اوگرا کا کوئی چیرمین ہی نہیں ۔ بظاہر اوگرا پر حکومتی کنٹرول نہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل احمد اعوان اوگر کے عارضی چیرمین ہیں ۔ نئے چیرمین کو تعینات کرنے کے لئے اخبار میں اشتہار دیا جانا ضروری ہے اور کوئی تجربہ کار ہی چیرمین ہو سکتا ہے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ۔ وفاقی وزیر پٹرولیم ہی اوگرا کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ممبر آئل زین الآبدین ہیں جن کا تعلق آئل کمپنی سے ہے اور دوسرے ممبر گیس ہیں اور شہزاد اقبال کا آئل کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ۔ لہذا اوگرا بورڈ نا مکمل اور غیر فعال ہے ۔ صرف حکومت کو تنقید سے بچانے کے لئے اوگرا کا نام استعمال ہو رہا ہے – روزانہ کی بنیاد پر قیمت کا تعین کس طرح ممکن ہے ؟ ایک لیٹر پٹرول پر لیوی۔ کاربن ٹیکس ۔ کسٹم ڈیوٹی سمیت تمام ٹیکس ایک سو بیس روپے ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت کو آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہوا ہے ۔ اور آئل کمپنیوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کے فیصلوں کو عوام نے نہ صرف مسترد کر دیا ہے بلکہ حکومت کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہے ۔ آل پاکستان پٹرول پمپس آنرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال دی تو وزیر پٹرولیم نے ان سے ایک ہفتہ کی مہلت مانگ لی ۔ دور دراز علاقوں میں پٹرول کئی دن بعد پہنچتا ہے۔ سفر کے دوران ہی ان قیمت میں رد و بدل ہوتا رہیگا ؟ حکومت ہوش کے ناخن لے اور پٹرول کے بحران سے سنجیدگی سے نپٹے ، اور بچہ وزیر کی باتوں میں نہ آئے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف خود تجربہ کار سیاست دان ہیں ۔ ان کو خود ایکشن لینا ہوگا ۔ ورنہ مہنگائی کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں