18

پمز اسپتال سے نومولود بچوں کی چیخیں تحریر: قلمراج✒علی راجہ محمد علی منہاس

آج پاکستان بھر میں سرکارِ دو عالم، رحمتُ اللعالمین، خاتم النبیین، حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کر رہے تھے درود و سلام کی صدائیں بلند تھیں اور ہر طرف جشنِ میلاد کی رونقیں تھیں
مگر انہی خوشیوں کے درمیان اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نومولود بچوں کے وارڈ میں آتش زدگی کی دل دہلا دینے والی خبر نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا معصوم نومولود بچوں کے متاثر ہونے اور بعض بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات نے ہر صاحبِ دل انسان کو ہلا کر رکھ دیا کہ الامان والحفیظ، ذرا تصور کیجیے آگ کی تپش ایک صحت مند اور طاقتور انسان کے لیے کتنی ناقابل برداشت ہوتی ہے ایسے حادثے میں ایک بالغ انسان بھی خوف، اذیت اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے یہاں تو وہ ننھی جانیں تھیں جو ابھی دنیا میں آئی ہی تھیں جنہیں اپنی تکلیف بیان کرنے کے لیے الفاظ تک میسر نہیں تھےوہ معصوم بچے جب آگ کی لپیٹ میں آئے ہوں گے تو یقیناً تڑپے ہوں گے روئے ہوں گے چیخے ہوں گے کسی ننھی جان نے شاید اپنی ماں کو پکارا ہو کسی نے اپنے باپ کی آغوش تلاش کی ہو مگر اس وقت وہ سب آگ اور دھوئیں کے سامنے بے بس تھے اور ذرا ان ماؤں کے بارے میں سوچیے جو اپنے بچے کو چند لمحوں کے لیے بھی روتا نہیں دیکھ سکتیں ان کے دل پر کیا گزری ہوگی جب انہیں معلوم ہوا ہوگا کہ ان کے جگر کے ٹکڑے آگ کی زد میں ہیں یہ صرف ایک آتش زدگی کا واقعہ نہیں بلکہ یہ انسانی جان کے تحفظ اسپتالوں کے حفاظتی انتظامات ہنگامی ردِعمل اور انتظامی جواب دہی کا ایک بڑا سوال ہے سوال یہ ہے کہ جب آگ لگی تو ہنگامی ردِعمل کا نظام کتنی تیزی سے فعال ہوا؟ نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے کیا طریقہ کار موجود تھا؟ ڈیوٹی پر موجود عملے نے کیا اقدامات کیے؟ فائر الارم اور فائر فائٹنگ سسٹم کس حالت میں تھا؟ ہنگامی راستے قابلِ استعمال تھے؟ عملے کو ایسی صورت حال سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کسی مرحلے پر غفلت یا کوتاہی ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب محض بیانات سے نہیں بلکہ شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات سے ملنے چاہئیں
دنیا میں ایسے واقعات سے نمٹنے کی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں شدید قدرتی آفات یا ہنگامی حالات کے دوران اسپتال کا عملہ اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ زیرِ علاج مریضوں خصوصاً نومولود بچوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دیتا ہے جاپان میں زلزلوں کے دوران اسپتالوں کے عملے کی جانب سے نومولود بچوں کو محفوظ رکھنے کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی ماضی میں سامنے آ چکی ہیں جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی فرض تربیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کس قدر اہم ہوتے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اسپتالوں میں ایسے ہنگامی حالات کے لیے کتنے تیار ہیں؟
پمز اسپتال دارالحکومت اسلام آباد کا ایک اہم اور بڑا طبی ادارہ ہے یہاں آنے والے مریض اور ان کے اہلِ خانہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں صرف علاج ہی نہیں بلکہ محفوظ ماحول بھی فراہم کیا جائے گا خصوصاً نومولود بچوں کے وارڈ ایسے مقامات ہیں جہاں معمولی سی غفلت بھی ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پمز کے متعلقہ وارڈ میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کس معیار کے تھے؟ فائر الارم فائر ہائیڈرنٹس ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر حفاظتی نظام فعال تھے یا نہیں؟ عملے کو ہنگامی انخلا کی مشقیں کروائی گئی تھیں یا نہیں؟ اور حادثے کے وقت ہنگامی رسپانس میں کہیں کوئی کوتاہی ہوئی یا نہیں؟ یہ تمام معاملات قیاس آرائی سے نہیں بلکہ فنی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات سے طے ہونے چاہئیںاس المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اس لیے حتمی تعداد متعلقہ سرکاری تحقیقات اور تصدیق شدہ معلومات ہی سے سامنے آنی چاہیے تاہم ایک بچہ بھی اگر اسپتال کی کسی غفلت یا حفاظتی کوتاہی کے باعث اپنی جان سے محروم ہوا ہے تو یہ پورے نظام کے لیے انتہائی سنجیدہ سوال ہے ایک بچے کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی ایک خاندان کی دنیا اجڑ جاتی ہے ایک ماں کی گود ویران ہوتی ہے ایک باپ کے خواب دفن ہوتے ہیں اور ایک گھر کی وہ خوشی ہمیشہ کے لیے غم میں بدل جاتی ہے جس کا آغاز ابھی ہوا ہی تھاعیدِ میلاد النبی ﷺ ہمیں محبت رحمت شفقت اور انسانیت کا درس دیتی ہے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بچوں کمزوروں اور بے بس انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا جو عملی نمونہ پیش فرمایا وہ ہمارے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ ہے تو پھر آج کے دن ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا ہوگا کہ کیا ہم ان تعلیمات پر واقعی عمل کر رہے ہیں؟ جب گلیوں بازاروں اور گھروں میں جشنِ میلاد کی خوشیاں تھیں عین اسی وقت پمز اسپتال میں کچھ خاندان اپنی زندگی کی بدترین آزمائش سے گزر رہے تھے کسی ماں کی گود اجڑ رہی تھی کسی باپ کے خواب بکھر رہے تھے اور کسی گھر میں وہ ننھی خوشی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو رہی تھی جس کے انتظار میں پورا خاندان بے قرار تھا
اللہ تعالیٰ ان تمام معصوم بچوں کے والدین کو صبر عطا فرمائے جو اس سانحے میں شہید ہوئے اور جو بچے اس حادثے میں متاثر ہوئے ہیں پروردگار انہیں صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اللہ تعالیٰ ان معصوموں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کے والدین کو حوصلہ عطا فرمائے آمین یا رب العالمین مگر دعا کے ساتھ اب اس سانحے کی ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہےقانون نافذ کرنے والے اداروں، وزارتِ صحت اور پمز انتظامیہ سے دوٹوک مطالبہ ہے کہ اس المناک واقعے کی مکمل شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں قوم کو بتایا جائے کہ آگ کیسے لگی حفاظتی انتظامات کیا تھے ہنگامی نظام نے کس طرح کام کیا نومولود بچوں کو بروقت محفوظ کیوں نہ کیا جا سکا اور اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کیوں نہ کی جائے اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے سرکاری و نجی اسپتالوں کے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس نظام کا فوری اور جامع آڈٹ بھی ہونا چاہیے جہاں حفاظتی انتظامات ناقص ہیں انہیں ہنگامی بنیادوں پر درست کیا جائے اور اسپتالوں کے عملے کو باقاعدہ فائر سیفٹی ایمرجنسی انخلا اور مریضوں کے محفوظ انتقال کی تربیت دی جائے.کیونکہ اسپتال میں داخل ہر مریض خصوصاً ایک نومولود بچہ صرف ایک مریض نہیں بلکہ ایک خاندان کی امید اور ریاست و معاشرے کی امانت ہوتا ہے اور کسی بھی ریاست ادارے یا اسپتال کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور اور بے بس شہری کی حفاظت کس قدر ذمہ داری سے کرتا ہے پمز سے اٹھنے والی ان معصوم چیخوں کو محض ایک افسوسناک خبر سمجھ کر بھلا نہیں دینا چاہیے بلکہ یہ معصوم چیخیں ہم سب سے جواب مانگ رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں