98

پاکستان میں موجود اقلیتیں ہماری قومی اساس کا جز خاص اور ہماری متنوع معاشرتی تہذیب کے حقیقی حسن کی آئینہ دار ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا اقلیتوں کےقومی دن پر پیغام

اسلام آباد۔ (ندیم گلزار کھوکھر )وزیراعظم محمد شہباز شریف نےاقلیتوں کو قومی اساس کا جز خاص اور متنوع معاشرتی تہذیب کے حقیقی حسن کا آئینہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے متنوع معاشرہ میں مختلف مذاہب، ثقافتوں، قومیتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے ہیں، پاکستان کا آئین اقلیتی برادریوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ آج (منگل کو ) اقلیتوں کے قومی دن پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر سال ملک میں اقلیتوں کی موجودگی، قومی دھارے میں ان کی شمولیت اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے لیے قومی سطح پر اقلیتوں کا دن پر عزم انداز میں مناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود اقلیتیں ہماری قومی اساس کا جز خاص ہیں اور ہماری متنوع معاشرتی تہذیب کے حقیقی حسن کی آئینہ دار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 11 اگست1947ء کو دستور ساز اسمبلی کے پہلے تاریخی اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح نے دوران خطاب پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی ناقابل تردید حیثیت واضح کی۔ قائد نے کہا کہ ’’آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مساجد میں جانے کے لیے آزاد ہیں یا ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ قائداعظم محمد علی جناح کے یہ تاریخ ساز الفاظ پاکستان کے نظام معاشرت، ضابطہ حکومت اور مذہبی طرز عمل میں ناقابل فراموش حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کا یہ دن مختلف طبقات و برادری میں اتحاد، پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور سب کے لیے مساوی ترقی کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی تجدید کا مظہر بھی ہے۔ پاکستان کے متنوع معاشرہ میں مختلف مذاہب، ثقافتوں، قومیتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر رہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تحریک آزادی اور قیام پاکستان سے لے کر آج تک اقلیتی برادریوں کا قومی زندگی کی ترقی و بقا میں کلیدی حصہ رہا ہے۔ اقلیتوں نے معاشی، تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین اقلیتی برادریوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے، آئینی تحفظ کو ایک موثر قانونی نظام کی بھی تائید حاصل ہے، ملکی قانون میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ، امتیازی سلوک کی ممانعت اور نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام سے متعلق موثر قانونی دفعات موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ 2025 منظور کیا گیا ہے جو بلا شبہ ایک قومی سنگ میل ہے۔ اس ایکٹ کے تحت وفاقی وزارت انسانی حقوق ایک خودمختار کمیشن کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے جو شکایات کے ازالے، آئینی و قانونی تحفظات کی نگرانی، حکومتی پالیسی اور قانون سازی سے متعلق سفارشات، عبادت گاہوں اور ملازمتوں میں مختص کوٹے سے متعلق امور کی نگرانی اور مساوات و شمولیت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کے فروغ کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی 2025 متعارف کرائی گئی ہے جس کا مقصد مذہبی آزادی کا تحفظ، بین المذاہب مکالمے کا فروغ اور بلا امتیاز مساوی مواقع کی فراہمی ہے۔ حکومت قومی پالیسی برائے انسداد پرتشدد انتہاپسندی 2024 پر بھی عمل درآمد کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی وزارت انسانی حقوق نے تمام فریقین کی مشاورت سے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 بھی متعارف کرایا ہے جس میں اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ سے متعلق خصوصی اقدامات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان، صوبائی حکومت ، متعلقہ ادارے، سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک کے ہر شہری بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور پرامن، روادار اور متحد معاشرے کی منزل مقصود کے لیے بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں