ہر سال 2 نومبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں “صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کا عالمی دن” منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچ کی آواز دبانے کے لیے دنیا بھر میں قلم کے مجاہدوں کو کس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں قتل کیا جاتا ہے، اغوا کیا جاتا ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے، جبکہ ان جرائم کو انجام دینے والے قانون کی گرفت سے آزاد گھومتے ہیں۔ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مسلسل خطرات کا شکار رہتے ہیں۔لیکن آج، جب دنیا یہ عالمی دن منا رہی ہے، پاکستانی صحافت ایک دوہرے اور اس سے بھی زیادہ بھیانک المیے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف تو بیرونی خطرات اور قاتلوں کو سزا نہ ملنے کا خوف ہے، تو دوسری طرف خود صحافت کے اندر سے اٹھنے والا معاشی اور فکری زوال کا وہ طوفان ہے جس کی پیش گوئی میں نے آج سے ٹھیک بائیس سال پہلے کی تھی۔آج سے دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ قبل، مارچ 2004ء میں، جب پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا ابھی اپنے پاؤں جما رہا تھا اور ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کا دور دور تک وجود نہیں تھا، میں نے اسی اخبار کے صفحات پر ایک کالم تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا: “خدارا! ایسی موت سے بچائیے”۔ چونکہ میں بنیادی طور پر ایک انویسٹیگیٹو رپورٹر (تفتیشی خبر نگار) تھا اور حقائق کی تہہ تک پہنچ کر آنے والے حالات پر گہری نگاہ رکھنا میرا پیشہ ورانہ خاصہ تھا۔ مزید برآں، پچھلی چار دہائیوں سے صحافتی سیاست سے گہری وابستگی اور ایک متحرک ٹریڈ یونینیسٹ کے طور پر میدانِ عمل میں رہنے کے باعث، میں صحافت اور صحافیوں کے حالاتِ کار سے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی گہری اور وسیع آگہی رکھتا ہوں۔ اسی وسیع عالمی و قومی تجربے کی بنیاد پر میں نے دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ پہلے اس ہولناک صورتحال کو بھانپ لیا تھا جس کا آج ہمیں سامنا ہے۔ لیکن افسوس! میری اس بر وقت آگہی اور تفتیشی بنیادوں پر کی گئی فریاد پر نہ تو وقت کی حکومتوں نے توجہ دی اور نہ ہی ہمارے اپنے صحافتی اداروں نے کوئی ہوش کے ناخن لیے۔اُس دور میں، میں نے ایک تفتیشی صحافی کے طور پر نہ صرف کالم لکھا بلکہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی اس وقت کی قیادت کو بھی اس آنے والے طوفان سے ذاتی طور پر آگاہ کیا تھا۔ میں نے ان کے سامنے یہ مقدمہ رکھا تھا کہ اگر ہم نے ابھی سے ڈیجیٹل لہر، فیک نیوز اور رپورٹرز کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کوئی مضبوط ضابطہ اخلاق اور حفاظتی دیوار قائم نہ کی، تو یہ سیلاب سب کچھ بہا لے جائے گا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اس وقت کی صحافتی تنظیم نے اس سنگین ترین معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ بعد کے حالات میں نہ صرف صحافت کا معیار گرا، بلکہ مزدور صحافیوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی وہ تاریخ ساز ‘پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس’ (PFUJ) خود بھی دھڑے بندیوں کا شکار ہو کر حصوں بکھروں میں تقسیم ہو گئی اور اس کے ٹکڑے ہو گئے۔تنظیموں کی اس ٹوٹ پھوٹ اور صحافتی دھڑے بندیوں کا سب سے بڑا نقصان آج کے عام اور سچے میڈیا ورکر کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جو فیک نیوز, جھوٹ اور سنسنی خیزی کا خدشہ میں نے بائیس سال پہلے ظاہر کیا تھا، آج وہ ہمارے پورے میڈیا سیکٹر کو نگل چکا ہے۔ خبر کی جگہ “کلک بیٹ” اور “ویوز” کی مونیٹائزیشن نے لے لی ہے۔ سچائی اب لاوارث ہے اور سنسنی خیزی کا کاروبار عروج پر ہے۔ اس فکری زوال کے نتیجے میں جو سب سے بڑا اور بھیانک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، وہ ہمارے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حالاتِ کار ہیں۔سزا سے استثنیٰ کے عالمی دن پر جہاں ہم ان صحافیوں کو یاد کرتے ہیں جو گولیوں کا شکار ہوئے، وہیں ہمیں ان گمنام شہیدوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جو معاشی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج ہزاروں کی تعداد میں قلم کے مزدور، رپورٹرز، سب ایڈیٹرز اور تکنیکی عملہ بیروزگاری کی دلدل میں دھنس چکا ہے اور ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ نہ حکومتیں ان کی طرف دیکھتی ہیں، نہ یہ بکھری ہوئی صحافتی تنظیمیں ان کے کام آ رہی ہیں اور نہ ہی میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو ان کی کوئی پرواہ ہے۔ سب کے سب بے یار و مددگار چھوڑ دیے گئے ہیں۔ بات اب صرف نوکری چھوٹنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ اس شدید بیروزگاری، فاقہ کشی اور ذہنی تناؤ کے ہاتھوں ہمارے کئی قابلِ فخر صحافی بھائی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں اور بیروزگاری کے ہاتھوں بے موت مر رہے ہیں۔ سینکڑوں میڈیا ورکرز ایسے ہیں جو بیروزگاری کے باعث شدید بیمار ہیں، لیکن ان کے پاس اپنے علاج معالجے یا دواؤں تک کے پیسے نہیں ہیں اور وہ ہسپتالوں کے سرد وارڈز میں لاوارث پڑے سسک رہے ہیں۔میں نے 2004ء میں کالم کا اختتام ان الفاظ پر کیا تھا: “اگر عامل صحافیوں کی تربیت کا بندوبست نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں ملکی صحافت کے وقار اور اقدار کو کوئی نہیں بچا پائے گا… صحافت بے موت ماری جائے گی”۔ آج ایک انویسٹیگیٹو رپورٹر کی حیثیت سے مجھے اپنی اس پیش گوئی کے سچ ہونے پر فخر سے زیادہ رونا آتا ہے کہ کاش میری اس آواز پر وقت کی قیادت کان دھرتی۔ آج پاکستان کی صحافت واقعی اسکرینوں پر روزانہ بے موت ماری جا رہی ہے اور اس کے محافظ سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں۔
2 نومبر کا یہ عالمی دن منانے کا حق ہمیں تبھی حاصل ہوگا جب ہم صحافیوں پر ظلم کرنے والے بیرونی عناصر کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی قاتلوں کا بھی محاسبہ کریں گے۔ اگر اب بھی ریاست، پیمرا، بڑے میڈیا ہاؤسز اور پی ایف یو جے کے تمام دھڑے اپنے ذاتی مفادات اور سیاست سے بالاتر ہو کر ان بیروزگار، بیمار اور سسکتے ہوئے صحافیوں کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں کرتے، تو یہ پورا شعبہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ خدارا! صحافت اور اس سے وابستہ انسانوں کو اس ہولناک معاشی، جسمانی اور فکری موت سے اب تو بچا لیجئے!
2
