1

ملک، خیبرپختونخوا،عوام، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ضروری تھا،دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی ،وزیراعظم

اسلام آباد۔ (ندیم گلزار کھوکھر ):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک، خیبرپختونخوا،عوام، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ضروری تھا،دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی ،گزشتہ ڈھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا،2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا،مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی سکیم کااجرا کیا،صوبےکی ترقی،امن، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ(ن )اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نےہفتہ کو یہاں مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج بطوروزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے آپ سے مخاطب ہوں ،خیبر پختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ اوریہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں،مسلم لیگ(ن )نے خیبر پختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے،مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی مقبول ترین جماعت ہے،2013 کے انتخابات کے بعدقائدنواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیاتاکہ جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے، محمدنواز شریف کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبر پختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا، خیبر پختونخوا میں 13 سال سے برسراقتدار پارٹی کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کیے گئے،لانگ مارچز کئے گئے اور دھرنے دیے گئے،بہت زہر اگلا گیا لیکن گزشتہ 13سال میں صوبے میں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے گئے؟ اور کرپشن کتنا کیا گیا اور فنڈز کو کتنی شفافیت کے ساتھ استعمال کیا گیا ؟ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی ، پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ18۔2017میں دہشت گردی کا ملک سے خاتمہ ہو چکا تھا، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں خیبر پختونخوا کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں،عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں،حاجی غلام احمد بلور کے بھائی کو شہید کر دیا گیا ،انجینئر امیر مقام بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے، عام لوگوں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،80 ہزارافراد شہید ہوئے اور 150سے 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا،تب جا کر ملک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوا تھا،محمدنواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس پشاور کا انتہائی دردناک اور دل خراش واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے، ننھے بچوں کی شہادت کا سانحہ تاریخ میں ایک المناک اور دلخراش واقعہ کے طور پرموجود رہے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،گزشتہ ڈھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی،2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورہپاکستان موخر ہوا ،2015 میں چین کےصدر شی جن پنگ کے دورہپاکستان میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے سوات میں دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا،دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ،ان اڑھائی سالوں میں ہزاروں مزید شہری شہید ہوئے ہیں پولیس، قانون نافذ کرنے والوں اداروں اور پاک فوج کے افسران اور جوان بھی ان میں شامل ہیں ، آج بھی ہر روز کہیں نہ کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہو رہا ہوتا ہے،ہم نے انہیں دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا گوادر میں اس پر دستخط ہوئے تھے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں 800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے؟،خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداددہشتگردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی،ان سالوں میں 80 ارب روپے بھی لگے ہوتے تو کے پی میں پولیس اسلحے سے لیس ہوتی بہت ویل ٹرینڈ ہوتی اور انتہائی تربیت یافتہ ہوتی، خیبر پختونخوا میں دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہییں تھے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اڑھائی سالوں میں ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی، عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا،مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی سکیم کااجرا کیا،فروری میں ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس میں اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی اب فیول سبسڈی سکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد ووچر سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں ، عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے، غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے، ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذکیاگیا،مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہماری بات نہ سنی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے، مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن منظوری نہ مل سکی۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا، بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا ،ہمیں مجبورا گورنر راج اور ایمرجنسی کا سوچنا پڑا اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا،لوگوں کی زندگیوں، ملک ،کے پی کے معاشرے اور معیشت کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخواکے عوام 13 سال سے ترسے ہوئے ہیں پشاور میں میٹرو بنائی گئی وہاں پر کرپشن ہوئی ہے یہ ہم سب جانتے ہیں، طویل مدتی منصوبوں کو بھی موخر کرنا چاہیئے اور مختصر مدت کے لیے حکمت عملی بنا کر غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا چاہیئے۔وزیراعظم نے کہا کہ چترال ،ہری پور مانسہرہ،باجوڑ اور شانگلہ میں دانش سکولوں میں غریب بچوں کو ایچی سن کالج لاہور کی طرز کی تعلیم ملے گی ،غریب بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے مزید دانش سکولز بھی قائم کیے جائیں گے،صوبےکی ترقی،امن، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ (ن) اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔مسلم لیگ(ن)خیبر پختونخواکے صدر اور وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے انتشاری سیاست کو مسترد کر دیا ہے،خیبر پختونخوا کے عوام صوبے میں ترقی اور امن چاہتے ہیں،خیبر پختونخواکے ہر کونے میں مسلم لیگ(ن) کی عوامی طاقت موجود ہے اور ہم نے اس کا متعدد مواقع پر مظاہرہ بھی کیا ہے،مسلم لیگ (ن) کے کارکن اپنے قائد محمد نواز شریف اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔\932

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں