3

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر کاروباری برادری سے خطاب

فیصل آباد ۔ 31 اکتوبر (بیورو چیف ):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا ریونیو وزارت مواصلات کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے وقت 66 ارب روپے تھا جو اب بڑھ کر 164 ارب روپے ہو چکا ہے، این ایچ اے اپنے وسائل سے ملک بھر میں متعدد اہم شاہراہوں اور موٹرویز کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جبکہ کاروباری برادری کی سہولت، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرنے کے لیے جدید مواصلاتی نیٹ ورک کی تعمیر ترجیحات میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فیصل آباد چیمبر کے صدر عارف احسان ملک، سینئر نائب صدر میاں محمد سعید، سیکرٹری جنرل محمد ایوب، نائب صدر محمد یاسین، سابق صدر میاں جاوید اقبال، سابق صوبائی وزیر میاں خالد محمود اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب صدیقی سمیت دیگر عہدیداران اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ چیمبر کے عہدیداران نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا۔ عبدالعلیم خان نے وزارت مواصلات کی گزشتہ اڑھائی سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ صرف حکومت کے نہیں بلکہ کاروباری برادری کے بھی نمائندہ ہیں، ملک میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے محض باتوں اور تقریروں سے کام نہیں چلتا بلکہ عملی اقدامات، بہتر منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے این ایچ اے کے ریونیو میں اضافے پر پوری قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال کے ریونیو سے بھی کئی اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایچ اے بلوچستان میں ہی 112 ارب روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے 66 منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی وسائل کے تناظر میں ضروری ہے کہ ادارے اپنے وسائل پیدا کریں اور قومی ترقی کے لیے خود انحصاری کو فروغ دیں۔ انہوں نے فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹروے ایم فور کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر تمام فنڈز این ایچ اے نے اپنے وسائل سے خرچ کیے ہیں اور اس وقت تین کنٹریکٹرز تیزی سے کام کر رہے ہیں، اس موٹروے پر ایک مزید ریسٹ ایریا بھی تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹرویز کے درمیان گرین ایریاز کے قیام سے متعلق ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ وزیراعظم کو بھی فیصل آباد کے دورے کی دعوت دیں گے۔ عبدالعلیم خان نے بتایا کہ ملتان، لودھراں ایکسپریس وے کو رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے کے لیے کام جاری ہے، سمبڑیال کھاریاں موٹروے میں این ایچ اے کا حصہ 15 ارب روپے ہے جبکہ لاہور، سیالکوٹ، کھاریاں اور راولپنڈی کو ملانے والی موٹروے کو چھ لین پر مشتمل بنانے کا منصوبہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے سفری سہولیات میں بہتری آئے گی اور تجارتی سامان کی نقل و حمل زیادہ آسان اور تیز ہوگی۔ وفاقی وزیر مواصلات نے پشاور بائی پاس کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس بائی پاس کے ذریعے ٹریفک کو شہر کے اندر سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی جس سے شہریوں کو ریلیف ملے گا۔ انہوں نے لیہ اور تونسہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دریا پر پل تعمیر ہونے کے باوجود سڑکوں کی تعمیر کے لیے مختص 10 ارب روپے خرچ نہ ہونے کا معاملہ بھی قابل توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کی مالی خودمختاری میں اضافہ ہونے سے ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کے مزید منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں، اگر این ایچ اے کو 500 ارب روپے کا ادارہ بنا دیا جائے تو اس کی مالی استعداد سے تقریباً 2 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبے شروع کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، اس مقصد کے لیے ادارے کی آمدن میں اضافے اور وسائل کے بہتر استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ ایکسل لوڈ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا کیونکہ یہ خود ٹرانسپورٹرز کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 ٹن وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والی سڑک پر 100 ٹن وزنی گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ وزن سے زیادہ سامان لے جانے والی گاڑیاں سڑکوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جس سے قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں اور مرمت پر اضافی اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہوں کے اطراف آگ جلانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے موٹروے پولیس کو بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ سڑکوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سیاحتی شاہراہوں کی تعمیر این ایچ اے ترجیحی بنیادوں پر کرے گی کیونکہ یہ سڑکیں نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحت کے فروغ کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ مری ایکسپریس وے کو ایک مثالی شاہراہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر اسے مظفرآباد تک توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سیاحت کے فروغ اور مذہبی سیاحت کے لیے سکھ برادری کو ننکانہ ایکسپریس وے کا تحفہ دیا جائے گا، اس نوعیت کے منصوبوں سے بیرون ملک سے آنے والے زائرین اور سیاحوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ سکھر سے حیدرآباد اور کراچی تک موٹروے کی تعمیر ملک بھر کی کاروباری برادری کے لیے انتہائی اہم ہے، کراچی پورٹ سے آٹھ لین پر مشتمل موٹروے شروع کرنے کا منصوبہ ہے جس کے ذریعے بندرگاہ سے آنے اور جانے والے ٹرکوں کو شہر کے اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی، اس سے کراچی میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور تجارتی سامان کی ترسیل میں بہتری متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے پر اگلے ماہ کام شروع کرنے کا منصوبہ ہے اور اسے دو سال میں مکمل کیا جائے گا، ان شاہراہوں کی تعمیر سے ملک کی بندرگاہوں، صنعتی مراکز اور تجارتی منڈیوں کے درمیان رابطے بہتر ہوں گے جس سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ مانسہرہ، ناران، کاغان، جھالکنڈ اور چلاس شاہراہ کو چین سے منسلک کرنے کے لیے کام کیا جائے گا، اس رابطے سے شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی شاہراہیں کاروباری برادری کا وقت اور پیسہ بچائیں گی جس کے نتیجے میں ملک میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بہتر مواصلاتی نیٹ ورک اسے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید شاہراہیں نہ صرف اندرون ملک تجارت کو تیز کریں گی بلکہ علاقائی تجارت، برآمدات اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گی۔ عبدالعلیم خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارت مواصلات اور این ایچ اے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری، شاہراہوں کی حفاظت، مالی خودانحصاری اور کاروباری برادری کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں