’’سستا اور فوری انصاف۔۔۔!‘‘
’’انصاف عوام کی دہلیز پر۔۔۔!‘‘
’’آزادیٔ صحافت پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔!‘‘
’’عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔۔۔!‘‘
یہ محض حکومتی نعرے ہیں یا واقعی ریاست ان دعوؤں کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ بھی ہے؟ اگر کوئی عام شہری، بالخصوص ریاست کے چوتھے ستون سے وابستہ صحافی، ظلم و زیادتی کا شکار ہو تو اسے انصاف کی فراہمی کے لیے دربدر کیوں ہونا پڑتا ہے؟ آخر ریاست کب ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم صحافی امجد اسلام امجد کو انصاف فراہم کرے گی؟
گوجرہ کے سینئر صحافی امجد اسلام امجد پر مبینہ تشدد، پولیس کے مبینہ غیر قانونی اقدامات، مقدمہ کے اندراج، میڈیکل کے معاملات اور بالآخر ضمانت پر رہائی کے بعد بھی انصاف کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات ایک ایسا معاملہ بن چکی ہیں جس نے نہ صرف صحافتی برادری بلکہ سول سوسائٹی، انسانی حقوق کےحلقوں اور عام شہریوں کو بھی کئی سوالات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سارے معاملے کی کڑیاں جوڑیں تو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل گوجرہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ اخلاق اللہ تارڑ کی کھلی کچہری سے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔اطلاعات کے مطابق کھلی کچہری میں بعض خواتین سائلین کی شکایات پر مبینہ عدم توجہی اور میڈیا نمائندگان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں نظر انداز کرکے چلے جانے پر صورتِ حال کشیدہ ہوئی۔ موقع پر موجود بعض خواتین نے احتجاج کیا،جبکہ مذکورہ خواتین سائلین نے ڈی پی او کی گاڑی کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں گاڑی سے اترنے پر مجبور کیا اور ان کے رویے کے خلاف نعرے بازی کی۔
اس موقع پر صحافیوں کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ ضلعی پولیس کے سربراہ عوامی شکایات اور میڈیا کے سوالات کا جواب دیں، مگر صحافیوں کے مطابق انہیں نظر انداز کرکے وہاں سے روانہ ہونے کو ترجیح دی گئی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کھلی کچہری کا مقصد صرف سرکاری کارروائی مکمل کرنا ہے یا عوام کی شکایات سننا، ان کا ازالہ کرنا اور میڈیا کے سامنے اداروں کی جواب دہی یقینی بنانا بھی اس کا بنیادی تقاضا ہے؟
مبینہ طور پر اس واقعے کے بعد بعض پس پردہ عوامل اور سازشی عناصر نے پولیس اور صحافی برادری کے درمیان خلیج پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں جہاں پولیس کے اندر موجود بعض مبینہ کالی بھیڑوں کے کردار پر سوالات اٹھے، وہیں صحافی برادری کے اندر بھی ایسے عناصر کی موجودگی کے الزامات سامنے آئے جنہوں نے صحافتی اتحاد کو نقصان پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ تاہم ان تمام پہلوؤں کی حقیقت کا تعین بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی سے ممکن ہے۔بالآخر اس کشیدہ صورتِ حال کا سب سے افسوس ناک نتیجہ گوجرہ کے سینئر صحافی امجد اسلام امجد پر مبینہ حملے کی صورت میں سامنے آیا۔صحافتی حلقوں کے مطابق 8 سے 10 مسلح غنڈہ عناصر نے درجنوں افراد کی موجودگی میں امجد اسلام امجد کو پلاسٹک کے پائپوں اور ڈنڈوں سے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ مبینہ حملہ آور نہ صرف غلیظ گالیاں دیتے اور صحافی کو گھسیٹتے رہے بلکہ دورانِ تشدد اسلحے کی نمائش بھی کی گئی اور خود اس کارروائی کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔سوشل میڈیا پر زیرِ گردش بتائی جانے والی ویڈیو کے حوالے سے صحافتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس میں تشدد کے مناظر اور اسلحے کی نمائش دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو میں بعض دردِ دل رکھنے والے شہریوں کو بھی مبینہ طور پر حملہ آوروں سے منت سماجت کرتے اور صحافی پر مزید تشدد نہ کرنے کی التجا کرتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن حملہ آور بدستور تشدد کرتے رہے۔یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اگر درجنوں افراد کی موجودگی میں ایک صحافی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی جا رہی تھی تو اس واقعے کے ذمہ داروں اور مبینہ سہولت کاروں کا تعین کرنے میں کیا امر رکاوٹ ہے؟تشدد کے بعد جب حملہ آور اپنی کارروائی مکمل کرکے وہاں سے چلے گئے تو متاثرہ صحافی نے پولیس ایمرجنسی 15 پر رابطہ کیا۔ الزام ہے کہ سٹی پولیس گوجرہ نے میڈیکل اور علاج معالجے کے لیے لے جانے کے بجائے امجد اسلام امجد کو اپنی سرکاری گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے تھانہ سٹی لے جا کر مبینہ طور پر ایس ایچ او وسیم سہو اور ان کے ماتحت اہلکاروں نے دھکے دیتے ہوئے حوالات میں بند کر دیا۔
اس صورتِ حال کا علم ہونے پر جب بعض صحافی تھانہ سٹی پہنچے تو ان کے مطابق ایس ایچ او اور ماتحت اہلکاروں نے ان کے ساتھ بھی مبینہ بدسلوکی کی، انہیں تھانے سے باہر نکال کر گیٹ بند کر دیئے۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔ صحافی امجد اسلام امجد کی رہائی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے جب صحافیوں نے ماہرین قانون سے مشاورت کی اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عدالتی بیلف کے ذریعے رہائی کی کوششیں شروع کر دیں۔تاہم صحافتی حلقوں کے مطابق اسی دوران تھانہ سٹی پولیس نے ایک خود ساختہ مدعی سامنے لا کر الٹا امجد اسلام امجد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ صحافی نے نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ مدعی کو روک کر چاقو سے زخمی کیا اور اس سے 2500 روپے نقدی اور ایک گھڑی چھین کر فرار ہوگئے۔ایک طرف صحافی اپنے اوپر ہونے والے مبینہ تشدد اور میڈیکل کے حصول کے لیے قانونی جدوجہد کر رہا تھا اور دوسری طرف اسی کے خلاف ڈکیتی اور حملے جیسے سنگین الزامات پر مقدمہ درج کرکے گرفتاری ڈال دی گئی۔ اس صورتِ حال نے پولیس کے کردار پر مزید کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔
صحافی برادری کا کہنا ہے کہ اس تمام کارروائی کا مقصد متاثرہ صحافی کو دباؤ میں لانا اور اصل واقعے سے توجہ ہٹانا تھا۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ قانون کے نفاذ کے نام پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی ایک سنگین مثال ہوگی۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ صحافتی حلقوں کے مطابق تھانہ سٹی پولیس نے خود ہی امجد اسلام امجد کا کراس ورژن درج کیا اور خود ہی مقامی ہسپتال سے ان کا میڈیکل بھی کروا لیا۔ بعدازاں عدالتی حکم کی روشنی میں جب متاثرہ صحافی کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ میں میڈیکل بورڈ کے ذریعے طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا تو مبینہ طور پر طبی معائنہ جاری ہونے کے دوران پولیس انہیں وہاں سے زبردستی اٹھا کر لے گئی۔اس واقعے نے عدالتی احکامات کی پاسداری اور میڈیکل کے عمل کی شفافیت کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات پیدا کیے۔ بعدازاں دوبارہ عدالت میں پیشی پر امجد اسلام امجد کو جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل ٹوبہ ٹیک سنگھ بھجوا دیا گیا، جہاں سے بالآخر عدالت کے ذریعے ان کی ضمانت حاصل کی گئی۔
اس دوران صحافتی برادری نے غیر معمولی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پہلے تحصیل گوجرہ، پھر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور بعدازاں فیصل آباد ڈویژن کی سطح پر احتجاجی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ فیصل آباد پریس کلب میں سینکڑوں صحافیوں نے پُرامن احتجاج کرکے اپنے ساتھی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔صحافیوں کی اس جدوجہد میں سول سوسائٹی، تاجروں، وکلا، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف حلقوں نے بھی آواز بلند کی۔ یہ احتجاج کسی ایک فرد کی رہائی یا کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ صحافیوں کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور آزادیٔ صحافت کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ تھا۔اسی دوران آر پی او فیصل آباد ملک انعام اعوان کے پی آر او ڈاکٹر رضوان بھٹی نے صحافتی قائدین سے رابطہ کرکے احتجاج نہ کرنے کی اپیل کی۔ بعدازاں صحافتی قائدین پر مشتمل 10رکنی ایکشن کمیٹی نے آر پی او فیصل آباد سے ملاقات کی اور انہیں تمام تر واقعات، دستیاب شواہد اور صحافتی برادری کے تحفظات سے آگاہ کیا۔
آر پی او فیصل آباد نے معاملے کی شفاف انکوائری کی یقین دہانی کرواتے ہوئے تین سینئر پولیس افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور خود بھی انکوائری کی نگرانی کرنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ 26 اکتوبر کو ہونے والی اس ملاقات کے بعد تاحال موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نہ تو انکوائری کا باقاعدہ آغاز ہو سکا، نہ کسی فریق کو طلب کرکے سنا گیا اور نہ ہی شکایت کنندہ صحافی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔سوال یہ ہے کہ ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کے باوجود ایک ہفتہ گزرنے پر انکوائری شروع ہی کیوں نہ ہو سکی؟ کیا یہ محض انتظامی سستی ہے یا معاملے میں کوئی ایسی رکاوٹ موجود ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے؟
یہاں یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ کسی بھی انکوائری کو شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کو یکساں موقع دیا جائے، ویڈیو شواہد، میڈیکل رپورٹس، ایف آئی آر، کراس ورژن، عدالتی احکامات اور متعلقہ ریکارڈ کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی افسر کے خلاف اثراندازی کا قابلِ اعتبار خدشہ موجود ہو تو مجاز اتھارٹی اسے انکوائری مکمل ہونے تک موجودہ عہدے سے الگ کرنے یا کسی غیر متعلقہ ذمہ داری پر تعینات کرنے پر غور کرے، تاکہ نہ شکایت کنندہ پر دباؤ پڑے اور نہ ہی شواہد یا گواہوں پر اثر انداز ہونے کا کوئی امکان باقی رہے۔یاد رہے کہ کسی بھی افسر کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن کسی عہدے، وردی یا اختیارات کو بھی قانون سے بالاتر ہونے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ الزام خواہ کسی عام شہری پر ہو یا کسی بااثر پولیس افسر پر، تحقیقات یکساں معیار اور غیر جانب داری کے ساتھ ہوں۔
آزادیٔ صحافت کوئی سرکاری رعایت یا حکومتی احسان نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت جبکہ آرٹیکل 19-A عوام کے حقِ معلومات کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ان حقوق کی حقیقی پاسداری اسی وقت ممکن ہے جب صحافی بغیر کسی خوف، دباؤ، دھمکی، تشدد یا انتقامی کارروائی کے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔صحافی کا کام سوال کرنا، عوامی مسائل اجاگر کرنا، سرکاری اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور عوام کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانا ہے۔ اگر کسی افسر سے سوال پوچھنے پر صحافی کو مبینہ انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صرف ایک صحافی کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے حقِ معلومات اور جمہوری آزادیوں کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ریاست کی ذمہ داری صرف آزادیٔ صحافت کے نعرے لگانا نہیں بلکہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا بھی ہے۔ صحافیوں پر حملوں، تشدد، دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ:
صحافیوں پر حملوں کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
تشدد کی ویڈیوز، میڈیکل رپورٹس اور دیگر شواہد فوری محفوظ کیے جائیں۔متاثرہ صحافیوں اور گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔پولیس کے مبینہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات پر آزادانہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ذمہ دار ثابت ہونے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔انکوائریوں میں غیر ضروری تاخیر اور اثراندازی کے امکانات ختم کیے جائیں۔اب وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، آئی جی پنجاب پولیس راؤ عبد الکریم صاحب اور آر پی او فیصل آباد ملک انعام اعوان صاحب سے براہِ راست سوال ہے کہ کیا ایک صحافی کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مزید احتجاج، مزید مظاہروں اور مزید قانونی جدوجہد کا انتظار کیا جائے گا؟ڈویژنل انتظامیہ فیصل آباد بھی اس معاملے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، آر پی او فیصل آباد اپنی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی کارکردگی اور تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کریں اور انکوائری کو مقررہ وقت میں مکمل کروائیں۔
تحقیقات میں 15 ستمبر کی کھلی کچہری سے لے کر مبینہ حملے، پولیس کی کارروائی، مقدمے کے اندراج، کراس ورژن، میڈیکل بورڈ کے واقعے اور عدالتی کارروائی تک تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ تمام متعلقہ فریقین کو سنا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ معاملہ کسی فرد کی انا، کسی پولیس افسر کی عزتِ نفس یا کسی صحافتی تنظیم کی فتح و شکست کا نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ، آئین کی بالادستی، شہری آزادیوں اور آزادیٔ صحافت کے حقیقی تحفظ کا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پولیس اور میڈیا ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ دونوں اپنے اپنے دائرۂ کار میں عوام کی خدمت کے ذمہ دار ہیں۔ پولیس کا فرض قانون کا نفاذ اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، جبکہ صحافت کا فرض حقائق سامنے لانا اور عوام کی آواز بننا ہے۔ کسی ایک ادارے کی غلطی یا کسی فرد کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو پورے ادارے کے خلاف نفرت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔تاہم اگر کسی اہلکار یا افسر کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں تو اسے محض محکمانہ تعلقات یا عہدے کی بنیاد پر تحفظ دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔انصاف میں تاخیر صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اگر اس معاملے میں بھی یقین دہانیاں ہی دی جاتی رہیں اور عملی اقدامات نہ ہوئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، صحافتی برادری میں بے چینی بڑھ سکتی ہے اور اداروں کے درمیان اعتماد کی فضاء متاثر ہو سکتی ہے۔
آخر میں ریاست سے یہی سوال ہے:کیا آزادیٔ صحافت صرف تقریروں اور سرکاری بیانات تک محدود رہے گی؟ کیا صحافیوں کو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی قیمت تشدد، مقدمات اور قید کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی؟ کیا مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنا ہی پڑے گا؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرے، مظلوم کی آواز سنے، طاقتور کو قانون کے تابع بنائے اور انصاف کے تقاضے بلاامتیاز پورے کرے۔
صحافت جرم نہیں،؟ عوامی خدمت ہے۔ سوال اٹھانا بغاوت نہیں،؟ جواب دہی کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔
صحافی امجد اسلام امجد انصاف کا منتظر ہے۔؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست اپنے دعوؤں کو عملی حقیقت میں کب تبدیل کرتی ہے؟کیونکہ ریاست کا چوتھا ستون اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس سے وابستہ افراد خوف و دباؤ سے آزاد ہو کر سچ لکھ سکیں گے، عوام کی آواز بن سکیں گے اور اپنے فرائض منصبی آزادانہ انجام دے سکیں گے۔
انصاف کی فراہمی صرف ایک صحافی کا حق نہیں، ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے،،
2
