1

سوہنے پنجاب کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹیاں از قلم نسرین امیرزمان

سوہنے پنجاب کی سرزمین ہمیشہ سے زرخیزی، تہذیب، روایات اور علم و ہنر کی امین رہی ہے۔ یہاں کے کھیتوں میں لہلہاتی فصلوں کے ساتھ اب تعلیمی اداروں میں علم کی شمعیں بھی روشن ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی مردم شماری 2023ء کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے- جبکہ صوبے کی مجموعی شرحِ خواندگی 66.25 فیصد ہے۔ خواتین میں شرحِ خواندگی تقریباً 60.2 فیصد ہے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پنجاب میں تعلیمی شعور فروغ پا رہا ہے- اگرچہ ابھی بہت سے سنگِ میل عبور کرنا باقی ہیں۔اس تعلیمی سفر کے حقیقی معماروں میں سب سے پہلے ان باپوں اور بھائیوں کو سلام پیش کرنا چاہیے جن کی قربانیاں اکثر نگاہوں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ کبھی کوئی باپ دن بھر اینٹیں اٹھانے، سڑکیں بنانے یا مزدوری کرنے کے بعد پسینے میں شرابور حالت میں کالج کے دروازے پر اپنی بیٹی کا منتظر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ہاتھوں کی سختی میں بیٹی کے روشن مستقبل کی نرمی چھپی ہوتی ہے۔ کبھی کوئی بھائی اپنی جوانی کے قیمتی لمحات بہن کی حفاظت کے نام کر دیتا ہے۔ وہ خود دھوپ میں کھڑا رہتا ہے- تاکہ بہن علم کے سائے میں اپنا مستقبل سنوار سکے۔ یہ محض رشتے نہیں، قربانی، اعتماد اور محبت کی زندہ تصویریں ہیں۔پنجاب کے معاشرے کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں مردوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمِ نسواں کی اہمیت سے بھی آگاہ ہے۔ بعض والدین خود اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے- لیکن انہوں نے اپنی بیٹیوں کے لیے تعلیمی دروازے بند نہیں کیے۔ یہی وہ مثبت سوچ ہے جس نے ہماری بیٹیوں کو گھر کی دہلیز سے نکل کر زندگی کے وسیع میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع دیا ہے۔آج پنجاب کی بیٹیاں تدریس، طب، انجینئرنگ، عدلیہ، انتظامیہ، پولیس، افواج، صحافت اور تحقیق سمیت تقریباً ہر شعبۂ زندگی میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں کی خواتین بھی اب اس تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر میں نمایاں طور پر شریک ہیں۔ کھیلوں کے میدان ہوں یا سائنسی تحقیق کی تجربہ گاہیں، کاروبار کی دنیا ہو یا سرکاری ادارے، ہماری بیٹیاں اپنی محنت، قابلیت اور عزم سے کامیابیوں کے نئے باب رقم کر رہی ہیں۔ ان کی کامیابی محض انفرادی فتح نہیں بلکہ پورے معاشرے کے فکری ارتقا کی علامت ہے۔اس سفر میں ڈیجیٹل دور نے بھی نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ آج ایک طالبہ گھر بیٹھے دنیا کی بہترین جامعات سے علم حاصل کر سکتی ہے- آن لائن ہنر سیکھ سکتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کروا سکتی ہے۔ تاہم اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر چمکتی ہوئی چیز حقیقت نہیں ہوتی۔ جعلی شناختیں، جذباتی استحصال، بلیک میلنگ اور جھوٹے وعدے نوجوان ذہنوں کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہماری بیٹیاں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ، اخلاقی شعور اور درست فیصلہ سازی کو بھی اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔یہاں اپنی بیٹیوں سے ایک مخلصانہ گزارش بھی ہے۔ معاشرے میں کبھی کبھار ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں کوئی لڑکی جذبات، غلط فہمی یا کسی کے ورغلانے میں آ کر ایسا فیصلہ کر بیٹھتی ہے جس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ پورا خاندان ذہنی اذیت سے گزرتا ہے- اور بعض اوقات اس کے نتیجے میں دوسری بچیوں کی تعلیم اور آزادی بھی متاثر ہوتی ہے۔ کسی ایک واقعے کو تمام بیٹیوں کے کردار کا پیمانہ بنانا قطعاً درست نہیں- لیکن ہر لڑکی کو اپنے فیصلوں کی سنگینی ضرور سمجھنی چاہیے۔ اپنے والدین کے اعتماد، بھائیوں کی محبت اور اپنی عزتِ نفس کی قدر کیجیے۔ کسی بھی پریشانی، دباؤ یا نامناسب رابطے کی صورت میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد گھر والوں سے بات کیجیے۔ یاد رکھیے!آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور خودمختاری کے ساتھ دانش مندی بھی ضروری ہے۔ہماری موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف بھی اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہیں- کہ خواتین قیادت اور انتظامی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔ ان کا منصب سنبھالنا خود خواتین کے لیے حوصلہ افزا علامت ہے۔ وہ صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں -اس حیثیت سے ان کی موجودگی یقیناً آنے والی نسلوں کی بیٹیوں کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ ہم ان کے والدین اور ان تمام گھرانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں -جو اپنی بیٹیوں کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔آخر میں، پیارے پنجاب کی ہر اس بیٹی کو سلام جو علم کو اپنا زیور، کردار کو اپنی پہچان اور محنت کو اپنا راستہ بنائے ہوئے ہے۔ سلام ان باپوں کو جنہوں نے اپنی خواہشات قربان کر کے بیٹیوں کے خواب خریدے- اور ان بھائیوں کو جنہوں نے حفاظت کے حصار میں ان کی پرواز کو ممکن بنایا۔ ہماری بیٹیاں کامیاب ہوں، مگر اپنی تہذیب، اقدار اور خاندانی اعتماد کی روشنی بھی ساتھ لے کر چلیں۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ بیٹی صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتی، وہ آنے والی نسلوں کی تقدیر بھی لکھتی ہے۔پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں