کراچی۔ 31 اکتوبر (بیورو چیف ):وفاقی وزیر برائے صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ڈرگ ریکولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ( ڈریپ) کے نظام کو مکمل طور پر شفاف اور ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے، فارما انڈسٹری کی 86ہزار سے زائد ادویات کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں رجسٹر کر لیا گیا ہے جس کے مطابق لوگ موبائل فون کی مدد سے با آسانی اسکین کرکے ادویات کے اصلی ہونے اور قیمتوں کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں سے خطاب میںکیا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح فارما انڈسٹری اپنی ادویات اور پروڈکٹس کی آن لائن رجسٹریشن کراسکتے ہیں اور جو کام پہلے سالوں میں ہوتا تھا وہ پراسیس 21دن میں مکمل کیا جارہا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ ڈریپ سے سرٹیفیکیشن کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل پر منتقل کئے 8 ماہ ہوگئے اس مدت میں 5ہزار سے زائد کیسسز نمٹائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلابی اقدام سے ڈریپ کو وزیر اعظم کی جانب سے بہترین ڈیجیٹلائزیشن پر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔مصطفی کمال نے کہا کہ میں نے نیک نیتی سے فریضہ سمجھ کر خدمات انجام دی جس کا نتیجہ آ ج فارما انڈسٹری خوش نظر آرہی ہے ، ماضی میں ناظم کراچی کی حیثیت سے صر ف 300 ارب روپے اس شہر کے انفرا اسٹرکچر پر خرچ کئے جسے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ مصطفی کمال سے تعلق کئی دہائیوں پرانا ہے، جب وہ پہلی مرتبہ کراچی کے ناظم بنے تو سب سے پہلا دورہ کاٹی کا کیا، کاٹی سے مسلسل رابطہ میں ہیں ۔ تقریب میں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما انیس قائم خانی ، کائیٹ کے چیئرمین زاہد سعید، سی ای او سلیم الزماں، سینئر نائب صدر فرخ قندھاری، نائب صدر ناصر شیخ، سابق صدور و چیئرمین گلزار فیروز، فرحان الرحمان، جوہر قندھاری، ایس ایم یحیی ، شیخ فضل جلیل، ممبر صوبائی اسمبلی دانیال صدیقی، نجم مرزا سمیت دیگر صنعتکار اور ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔
5
