راولپنڈی( سٹی رپورٹر) ادارہ برائے سماجی انصاف نے اپنی دستاویزی فلم “ہم جدا نہیں” کی نمائش کی، جس میں جداگانہ انتخابی نظام کے خلاف ہونے والی تاریخی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب یہ ہے کہ 22 سال تک یہاں ایک ایسا انتخابی نظام رائج رہا جس کے تحت ووٹرز کو صرف اپنے ہم مذہب کو ووٹ دینے کی اجازت تھی، البتہ 2002 میں اس نظام سے چھٹکارا مل گیا۔ فلم میں مخلوط انتخابی نظام کی بحالی کے لیے چلنے والی مہم کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو بھی سامنے لایا گیا ہے۔20 منٹ دورانیے کی اس دستاویزی فلم کو سی ایس جے نے تیار کیا ہے، جبکہ اس کی ہدایت کاری ایوارڈ یافتہ فلم ساز داؤد اختر مراد اور پیٹر جیکب نے کی ہے۔ فلم 1979 میں جداگانہ انتخابی نظام کے نفاذ سے لے کر اس کی بحالی کے لیے ہونے والی جدوجہد، بالخصوص 1990 کی دہائی اور 2001 تک کی مہم کا احاطہ کرتی ہے۔
تاریخی حوالہ جات اور متعدد اہم شخصیات کے انٹرویوز کی بنیاد پر مبنی اس فلم میں حنا جیلانی، کارڈینل جوزف کاؤٹس، ڈاکٹر چارلس امجد علی اور ڈاکٹر یعقوب بنگش سمیت مختلف شخصیات کی بیانات شامل ہیں۔ فلم میں مخلوط انتخابی نظام کی بحالی کی جدوجہد میں سیاسی رہنماؤں، جن میں بے نظیر بھٹو اور شہباز بھٹی شامل ہیں، سول سوسائٹی کی شخصیات، جن میں سوبھو گیان چندانی، عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمان ،مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں بشمول نعیم شاکر اور سسدھام چند چاولہ ، اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ فلم اس جدوجہد کو پاکستان میں انتخابی نظام اور اقلیتوں کے سیاسی حقوق کی تاریخ کے پس منظر میں بیان کرتی ہے اور مساوی شہریت اور سیاسی نمائندگی سے متعلق جاری بحث کا احاطہ کرتی ہے۔تقریب میں فلم کےموضوع پرمبنی گیت “ہم جدا نہیں” بھی پیش کیا گیا، جو اتحاد، وقار اور ایک ایسے پاکستان کے مشترکہ تصور کی عکاسی کرتا ہے جہاں تمام شہریوں کو برابری حاصل ہو۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی جناب نوید عامر جیوا، نے اس موقع پر مشترکہ انتخابی نظام کی بحالی کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی بحالی میں سول سوسائٹی، شہباز بھٹی اور دیگر شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر اقلیتوں کو اکثریت سے الگ سمجھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے تو یہ جداگانہ انتخابی نظام کی باقیات ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی نظام کے ساتھ ساتھ نمائندوں کی سیاسی جدوجہد، عوام کے لیے جذبہ اور ہمدردی بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ، ایوانِ بالا میں اقلیتوں کی چار نشستوں پر نمائندگی، اقلیتی کمیشن کا قیام اور مذہبی تہوار منانے کے حوالے سے نوٹیفکیشن کا اجرا مشترکہ انتخابی نظام ہی کے تحت ممکن ہوا۔
جنرل سیکرٹری، مائنارٹی فورم پاکستان، راولپنڈی محترمہ شاہانہ روز نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے اور خواتین کی مؤثر سیاسی نمائندگی مشترکہ انتخابی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کے تحت وہ اپنے حقوق اور ترقی کے لیے آواز اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جداگانہ انتخابی نظام اقلیتوں کو سیاسی طور پر دیوار سے لگا دیتےہے، جبکہ مشترکہ انتخابی نظام انہیں ترقیاتی اور سیاسی عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
صدر، مائنارٹی فورم پاکستان، پنجاب ، سموئیل بشیر نے اظہار خیال کیا کہ مشترکہ انتخابی نظام تمام شہریوں کے لیے مساوی شہریت اور بلاامتیاز سیاسی شرکت کے اصول کو تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جداگانہ انتخابی نظام کے باعث اقلیتی نمائندوں کی قانون سازی کے عمل میں مؤثر اور بامعنی کردار ادا کرنے کی صلاحیت محدود رہی۔انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ انتخابی نظام کے تحفظ اور استحکام کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ جمہوری عمل میں تمام شہریوں کی یکساں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پیٹر جیک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ن، سی ایس جے، ے کہا کہ دستاویزی فلم اس تاثر کی وضاحت کرتی ہے کہ مشترکہ انتخابی نظام کی بحالی کسی چند افراد کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک طویل عوامی اور سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ انہوں نےمزید کہا کہ مشترکہ انتخابی نظام کے تحت اقلیتوں کی نمائندگی صرف مخصوص نشستوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عام نشستوں اور خواتین کی نشستوں پر بھی اقلیتی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 41 اور 91 سمیت دیگر امتیازی دفعات کی منسوخی کا مطالبہ کیا، جو صدر اور وزیراعظم کی نشستوں کو صرف اکثریتی مذہب کے لیے مخصوص کر کے مساوی شہریت کی نفی کرتی ہیں۔تقریب کے اختتام پر مساوی شہریت، شراکتی جمہوریت اور آئینی حقوق پر مبنی مکالمہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ یہ فلم اس تاریخی تحریک کی ایک اہم دستاویز ہے، جس کے اٹھائے گئے سوالات آج بھی ملکی جمہوری مباحث میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
1