17

توہینِ مذہب کے مقدمات: متاثرین کا انصاف، عدالتی شفافیت اور مبینہ ’’بلاسفیمی بزنس گروپ‘‘ کے خلاف غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد (ندیم گلزارکھوکھر ) توہینِ مذہب کے مقدمات میں مبینہ طور پر آن لائن ہنی ٹریپنگ، ڈیجیٹل مواد اور جھوٹے و من گھڑت الزامات کے ذریعے پھنسائے جانے والے متاثرین اور ان کے اہل خانہ نے حکومت، ریاستی اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ ’’بلاسفیمی بزنس گروپ‘‘ کے خلاف آزاد، شفاف اور بااختیار انکوائری کمیشن تشکیل دے کر معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور جن مقدمات میں قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتےان میں متاثرین کو قانون کے مطابق فوری ریلیف فراہم کیا جائے،نور فاطمہ رِٹ پٹیشن میں مزید غیرضروری تاخیر روکی جائے،عبداللہ شاہ قتل کیس کی تمام پہلوؤں سے آزاد اور شفاف تحقیقات دوبارہ شروع کی جائیں،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے متاثرہ خاندانوں کو مساوی اور مکمل سماعت کا موقع دیا جائے۔عدالتوں کے احاطوں میں ہجوم، دھمکیوں اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے ذریعے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوششوں کو روکا جائے،ججز کے خلاف مبینہ دھمکی آمیز اور کردار کش سوشل میڈیا مہمات کی تحقیقات کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،متاثرین نے واضح کیا کہ وہ کسی خصوصی رعایت کے خواہاں نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت ہر شہری کو حاصل انصاف، آزادی اور قانونی تحفظ کا حق چاہتے ہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی کا اطلاق تمام فریقوں پر بلاامتیاز ہونا چاہیے،’’ہمیں خصوصی مراعات نہیں بلکہ انصاف چاہیے؛ من گھڑت نہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار توہینِ مذہب کے مقدمات میں مبینہ طور پر آن لائن ہنی ٹریپنگ، ڈیجیٹل مواد اور جھوٹے و من گھڑت الزامات کے ذریعے پھنسائے جانے والے متاثرین کے اہل خانہ نے عثمان ورائچ ایڈووکیٹ، فرحت اللہ بابر، فرزانہ باری، طاہرہ عبداللہ و دیگر نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری رپورٹس کی بنیاد پر اسلام آباد، کراچی اور راولپنڈی میں اس مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے قائم کیے گئے مقدمات میں 120 سے زائد افراد کو ضمانت یا بریت کی صورت میں قانونی ریلیف مل چکا ہے، تاہم پنجاب میں تقریباً 300 افراد اب بھی طویل عرصے سے جیلوں میں قید ہیں۔متاثرین نے کہا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ اب صرف ملکی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس حوالے سے تشویش سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یورپی کمیشن کی پاکستان سے متعلق 2026 کی رپورٹ میں توہینِ مذہب قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا ذکر کرتے ہوئے ایک مبینہ ’’بلاسفیمی بزنس گروپ‘‘ نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ آن لائن طریقوں کے ذریعے 800 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے، کو مقدمات میں پھنسایا گیا،متاثرین کے مطابق رپورٹ میں قانونی تحفظات اور ایس او پیز کے باوجود عدالتی و قانونی کارروائی میں تاخیر اور ماورائے عدالت تشدد کے مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔حکومت پاکستان ایک شفاف، آزاد اور بااختیار تحقیقات کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے لائے۔ متاثرین نے نوجوان عبداللہ شاہ کے قتل کی تحقیقات بھی آزاد، شفاف اور مکمل بااختیار انکوائری کے ذریعے دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ عدالتی حکم کے بعد تحقیقات شروع ہوئیں تاہم مبینہ طور پر بااثر عناصر کی مداخلت کے باعث انکوائری مکمل نہ ہو سکی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عبداللہ شاہ قتل کیس کی تحقیقات دوبارہ کھولی جائیں اور نوجوان کی موت، مبینہ ہنی ٹریپنگ، اس کے آخری رابطوں، ڈیجیٹل شواہد اور قتل کی تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔متاثرین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی 2026 کو چیئرپرسن کی جانب سے کیے گئے اعلان اور ملک بھر میں توہینِ مذہب کے مقدمات کے جائزے و شفاف تحقیقات کے حوالے سے سرکاری بیانات کے تناظر میں متاثرہ خاندانوں کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا مساوی حق دیا جانا چاہیے تھا۔متاثرین نے مطالبہ کیا کہ پارلیمانی فورمز پر تمام متعلقہ فریقوں کو شفاف، مساوی اور غیرجانبدارانہ سماعت کا حق دیا جائے۔متاثرین نے عدالتوں کے احاطوں میں ہجوم جمع کرنے اور ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ دھمکی آمیز اور کردار کش مہمات چلانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ عدالتوں کے اندر ہجوم جمع کرنا یا ججز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش عدالتی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے نقصان دہ ہے۔ لہٰذا ضمانت یا بریت کا فیصلہ قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کرنے والے ججز کو سوشل میڈیا پر دھمکانا یا ہراساں کرنا ناقابلِ قبول ہے۔متاثرین اور ان کے اہل خانہ نے حکومت، متعلقہ تحقیقاتی اداروں، پارلیمنٹ اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات میں زیرِ حراست تمام متاثرین کے مقدمات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور جہاں قانونی بنیاد موجود نہ ہو وہاں فوری ریلیف دیا جائے۔مبینہ ہنی ٹریپنگ نیٹ ورک کے ارکان اور قتل، اغوا، تشدد اور فراڈ کے الزامات میں ملوث عناصر کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کی جائے، برسوں سے مقدمات، قید اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنے والے شہریوں کو مزید انتظار میں رکھنے کے بجائے شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق فوری انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں