از قلم
نسرین امیر زمان
کچھ زندگیاں عمر کے پیمانے سے نہیں، اپنے اثر کی گہرائی سے ناپی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، چند برس گزارتے ہیں اور خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے مختصر سفر کو ایسی معنویت عطا کر جاتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی داستان دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ اسما مشتاق بھی ایک ایسی ہی باہمت اور زندگی سے بھرپور عورت تھیں، جنہوں نے زندگی کو محض گزارنے کے بجائے اسے اپنے خوابوں، حوصلے اور جستجو کے رنگوں سے سجایا۔لاہور سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ اسما مشتاق برطانیہ میں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کی ڈاکٹر تھیں۔ ایک باوقار پیشہ، ایک روشن کیریئر اور ایک مصروف زندگی ان کے پاس سب کچھ تھا، مگر ان کی شخصیت کسی ایک شناخت تک محدود نہیں تھی۔ وہ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ مسافر تھیں، وی لاگر تھیں اور کوہ پیمائی کا شوق رکھنے والی ایک نڈر خاتون تھیں۔ ان کے اندر موجود مہم جو روح انہیں ان راستوں کی طرف لے جاتی تھی جہاں اکثر لوگ صرف دور سے دیکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔20 اگست 2026 ان کی زندگی کا ایک یادگار دن تھا، جب انہوں نے پاکستان کے قراقرم میں واقع 7,027 میٹر بلند اسپینٹک کی چوٹی کامیابی سے سر کی۔ وہ پاکستانی خواتین کی اس قابلِ فخر ٹیم کا حصہ تھیں جس نے اس بلند و بالا چوٹی کو اپنے عزم کے سامنے جھکا دیا۔ مگر اسپینٹک کی چوٹی تک پہنچنا صرف ایک کوہ پیمائی کا کارنامہ نہیں تھا، یہ اس سوچ کے خلاف ایک خاموش اعلان بھی تھا کہ عورت کے خوابوں کی کوئی مخصوص حد ہونی چاہیے۔
اسما نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ عورت ایک کامیاب ڈاکٹر بھی ہو سکتی ہے اور ایک بے خوف مہم جو بھی۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنے شوق کو بھی زندہ رکھ سکتی ہے۔ وہ معاشرے کی توقعات کا احترام کرتے ہوئے اپنی ذات کی آواز بھی سن سکتی ہے۔ خواب دیکھنے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ انہیں حقیقت بنانے کے لیے ہمت ضرور درکار ہوتی ہے، اور اسما کے پاس یہ ہمت بے پناہ تھی۔
مگر پہاڑ اکثر انسان کو صرف بلندی پر نہیں آزماتے، اصل امتحان تو واپسی کے راستے میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ چوٹی سر کرنے کے بعد جب اسما تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی سے واپس اتر رہی تھیں تو انہیں شدید ہائی آلٹی ٹیوڈ سِکنیس کا سامنا کرنا پڑا۔ اتنی بلندی پر آکسیجن کی کمی انسانی جسم کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے ماؤنٹین گائیڈ اکبر علی اور ایکسپیڈیشن گائیڈ محمد امین نے فوری طور پر ان کی مدد کی اور آخری لمحے تک انہیں بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ایک انسانی فرض ادا کیا، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود اسما زندگی کی جنگ ہار گئیں۔یہ خبر یقیناً دل توڑ دینے والی ہے، مگر اسما کی زندگی کو صرف ان کے آخری لمحے سے یاد کرنا ان کے پورے سفر کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کی زندگی ایک ایسی کتاب تھی جس کے صفحات میں خواب بھی تھے، محنت بھی، کامیابیاں بھی اور ہمت بھی۔ انہوں نے 4,076 میٹر بلند موسٰی کا مصلیٰ بھی موسمِ سرما میں کامیابی سے سر کیا تھا اور رُوپل و ارندو کی مہمات سے بھی وابستہ رہیں۔ 2024 میں K2 کی مہم کے لیے اسپانسرشپ کی تلاش کے دوران انہوں نے اپنے تعارف کے لیے صرف چند الفاظ لکھے تھے، ڈاکٹر اور کوہ پیما۔ بظاہر یہ چند الفاظ تھے، مگر ان کے پیچھے ایک پوری زندگی سانس لے رہی تھی۔ایک طرف وہ ڈاکٹر تھیں، جہاں ان کا مقصد انسانی زندگی کو بچانا تھا، اور دوسری طرف وہ پہاڑوں کا رخ کرتی تھیں جہاں ہر قدم خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ شاید یہی تضاد ان کی شخصیت کو مزید خوبصورت بناتا ہے۔ وہ زندگی کی قدر بھی جانتی تھیں اور زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کا ہنر بھی۔اسما کی داستان ان تمام خواتین کے لیے ایک خاموش پیغام ہے جو اپنے خوابوں کو یہ سوچ کر دل میں دفن کر دیتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، گھر والے کیا سوچیں گے، وقت کہاں ہے یا یہ کام عورتوں کے لیے نہیں۔ کتنی ہی خواہشیں صرف اس لیے دم توڑ دیتی ہیں کہ انسان انہیں پورا کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتا۔ کتنے ہی سفر صرف اس لیے شروع نہیں ہوتے کہ ہمیں کل پر بہت زیادہ یقین ہوتا ہے۔اسما نے شاید ہمیں کوئی تقریر نہیں دی، مگر اپنی زندگی سے ایک مکمل سبق ضرور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن انسان کے اندر پلنے والے خواب بھی اس کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ عورت صرف دوسروں کے خواب پورے کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی اپنی خواہشیں، اپنی صلاحیتیں، اپنی منزلیں اور اپنے خواب بھی ہوتے ہیں۔زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ انسان ایک دن مر جاتا ہے، المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ زندہ رہتے ہوئے بھی اپنی خواہشوں، صلاحیتوں اور خوابوں کو دفن کر دیتے ہیں۔ ہم برسوں مناسب وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہم سفر مؤخر کرتے ہیں، خواب ملتوی کرتے ہیں اور اپنی پسندیدہ زندگی کو یہ سوچ کر کل پر چھوڑ دیتے ہیں کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔اسما کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل قدر اس کی طوالت میں نہیں، اس کے معیار میں ہے۔ البتہ اس کا مطلب خطرات کو نظر انداز کرنا نہیں۔ حقیقی بہادری بے احتیاطی کا نام نہیں، بلکہ خطرے کو سمجھتے ہوئے تیاری، ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کا نام ہے۔آج اسما مشتاق ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کی داستان ختم نہیں ہوئی۔ کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی اپنے پیچھے ایسی روشنی چھوڑ جاتے ہیں جو دوسروں کے راستے روشن کرتی رہتی ہے۔ اسما بھی اپنے پیچھے حوصلے کی وہ روشنی چھوڑ گئی ہیں جو شاید بہت سی خواتین کو اپنے خوابوں کی طرف ایک قدم بڑھانے کا حوصلہ دے گی۔
وہ ایک ڈاکٹر تھیں، مگر صرف ڈاکٹر نہیں تھیں۔ وہ ایک مسافر تھیں، مگر صرف سفر کرنے والی نہیں تھیں۔ وہ ایک کوہ پیما تھیں، مگر صرف پہاڑ سر کرنے والی نہیں تھیں۔ وہ ایک ایسی عورت تھیں جس نے اپنی زندگی کو دوسروں کی توقعات کے مطابق محدود نہیں کیا۔ہم اسما مشتاق کی موت پر سوگوار ہیں، مگر ان کی زندگی کو سلام بھی پیش کرتے ہیں۔
اس بہادر بیٹی کو سلام جس نے خواب دیکھے۔اس ڈاکٹر کو سلام جس نے انسانیت کی خدمت کو اپنا پیشہ بنایا۔
اس مسافر کو سلام جس نے دنیا کو قریب سے دیکھا۔اس مہم جو کو سلام جس نے بلندیوں کو چھونے کی جرأت کی۔
اور اس عورت کو سلام جس نے ہمیں یہ سکھایا کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، زندگی اپنے وجود کو مقصد، شوق اور حوصلے کے ساتھ محسوس کرنے کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ اسما مشتاق کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ان تمام افراد کو جزائے خیر دے جنہوں نے آخری لمحوں تک انہیں بچانے کی کوشش کی، خصوصاً اکبر علی اور محمد امین کو۔اسما آج پہاڑوں کے درمیان نہیں، مگر ان کی داستان ہمارے درمیان ہے۔
وہ چوٹی تک پہنچیں، مگر شاید ان کی اصل بلندی اس پہاڑ کی بلندی سے کہیں زیادہ تھی۔کیونکہ کچھ لوگ دنیا میں صرف زندہ رہتے ہیں،
اور کچھ لوگ دنیا کو یہ سکھا کر جاتے ہیں کہ زندگی کو جینا کیسے ہے۔اسما مشتاق انہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔
21