33

مکہ سے اُبھرتا اتحاد: از قلم: نسرین امیرزمان

دنیا کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں بعض فیصلے محض سفارتی دستاویز نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والے وقت کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں 7 اگست 2026 کو طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ایسا ہی ایک اہم اور تاریخی قدم ہے۔ اس معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے اسے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مماثل قرار دیا ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو امن، سلامتی، علاقائی کشیدگی، دہشت گردی، معاشی عدم استحکام اور جغرافیائی سیاسی تنازعات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں تین اہم مسلم ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا یقیناً خوش آئند، قابلِ تحسین اور امید افزا پیش رفت ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں اپنی اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ایک مضبوط دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے، ترکیہ خطے کی ایک اہم عسکری و معاشی قوت ہے، جبکہ سعودی عرب اسلامی دنیا میں اپنی مذہبی، معاشی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث مرکزی مقام رکھتا ہے۔ جب یہ تینوں ممالک باہمی اعتماد، مشاورت اور مشترکہ سلامتی کے اصول پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اس معاہدے کی ایک خوبصورت علامت یہ بھی ہے کہ اسے مکہ مکرمہ میں طے کیا گیا۔ وہ مقدس سرزمین جہاں دنیا بھر کے مسلمان عقیدت اور محبت کے ساتھ رخ کرتے ہیں، وہاں تین برادر اسلامی ممالک کا امن، سلامتی اور باہمی تعاون کے عزم کے ساتھ یکجا ہونا ایک مضبوط معنوی پیغام رکھتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی مختلف شعبوں میں قریبی تعاون رکھتے ہیں۔ جون 2026 میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں بھی امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسلسل مشاورت اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک نمایاں پہلو ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت رہا ہے۔ موجودہ علاقائی حالات میں بھی پاکستان نے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2025 میں ہونے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا تھا۔
فلسطین کے معاملے پر بھی پاکستان نے مسلسل فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک نے متعدد مشترکہ بیانات میں فلسطینی عوام سے یکجہتی اور القدس کے مقدس مقامات کے تاریخی و قانونی تشخص کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اس معاہدے سے آگے بڑھ کر ایک بڑا سوال ہمارے سامنے آتا ہے: کیا صرف تین مسلم ممالک کا اتحاد کافی ہے؟یقیناً نہیں۔آج مسلم دنیا کو محض جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ عملی اتحاد، معاشی تعاون، مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی، تعلیم، تحقیق، تجارت اور سفارتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ دنیا کے دیگر خطوں نے اپنے مشترکہ مفادات کے لیے علاقائی اتحاد قائم کیے، مشترکہ منڈیاں بنائیں، دفاعی تعاون بڑھایا اور ایک دوسرے کے لیے معاشی دروازے کھولے۔ مسلم ممالک کے پاس بھی بے پناہ انسانی، قدرتی، معاشی اور جغرافیائی وسائل موجود ہیں؛ ضرورت صرف انہیں مشترکہ حکمتِ عملی میں ڈھالنے کی ہے۔اگر مسلم ممالک اپنی باہمی رنجشوں اور وقتی اختلافات سے بلند ہو کر اپنے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں تو نہ صرف خطے میں امن اور استحکام مضبوط ہو سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، تجارت اور دفاع کے میدان میں بھی ایک باوقار اور خودمختار مقام حاصل کر سکتی ہے۔پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ اسی بڑے خواب کی طرف ایک قدم بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ تعاون صرف دفاع تک محدود نہ رہے بلکہ معیشت، تجارت، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی اور سفارت کاری تک پھیلے۔ہم اس تاریخی پیش رفت پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی قیادت اور ترک قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ اس امید کی علامت ہے کہ مسلم دنیا باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک نئی سمت اختیار کر سکتی ہے۔اب وقت ہے کہ دیگر مسلم ممالک بھی اس پیغام کو سمجھیں۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر مشترکہ مفادات، امن، ترقی اور مستقبل اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اگر مسلمان ممالک ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں تو دنیا میں ان کی آواز بھی مضبوط ہوگی اور ان کا مستقبل بھی زیادہ محفوظ ہوگا۔مکہ مکرمہ سے اٹھنے والا یہ پیغام صرف تین ملکوں کے لیے نہیں، پوری مسلم دنیا کے لیے ہے:اتحاد کمزوری نہیں، طاقت ہے؛ اور باہمی تعاون ہی ترقی یافتہ، پُرامن اور باوقار مستقبل کی بنیاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں