37

قیامِ پاکستان میں مسیحیوں کا کردار تحریر: بِشپ آفتاب انور

پاکستان کی تاریخ میں تحریکِ پاکستان ایک ایسی جدوجہد تھی جس میں مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی طبقات نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ اگرچہ اس تحریک کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی، تاہم مسیحیوں نے بھی قیامِ پاکستان کے لیے قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی رہنماؤں، سیاست دانوں، ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں نے نہ صرف پاکستان کے قیام کی حمایت کی بلکہ آزادی کے بعد ریاستی اداروں کی تعمیر و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس حقیقت کو قومی اور بین الاقوامی محققین نے اپنی تحقیقات میں تسلیم کیا ہے۔ (Pakistan Social Sciences Review)تحریکِ پاکستان کے دوران پنجاب اسمبلی کے مسیحی اراکین کا کردار خاص طور پر اہم تھا۔ 23 جون 1947ء کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ متحدہ پنجاب پاکستان میں شامل ہوگا یا بھارت میں۔ اس موقع پر مسیحی رہنما ایس۔ پی۔ سنگھا (S. P. Singha) اور دیگر مسیحی اراکین نے پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان سوشل سائنسز ریویو میں شائع شدہ تحقیقی مطالعے کے مطابق مسیحی اراکین نے تقسیم کے نازک مرحلے میں مسلم لیگ کے مؤقف کی حمایت کی، جس سے پنجاب کے مستقبل کے تعین میں اہم اثر پڑا۔ایس۔ پی۔ سنگھا کو قیامِ پاکستان میں مسیحی برادری کے سب سے نمایاں سیاسی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف پنجاب اسمبلی میں پاکستان کے حق میں مؤثر آواز بلند کی بلکہ مسیحی برادری کو بھی اس نئے وطن کے تصور سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور شہری آزادیوں کی ضمانت ملے گی۔ یہی وجہ تھی کہ متعدد مسیحی رہنماؤں نے مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان کی حمایت کی۔ (Pakistan Social Sciences Review)قائداعظم محمد علی جناح کے اقلیتوں کے بارے میں اِرادوں نے بھی مسیحی برادری کے اعتماد کو مضبوط کیا۔ قائداعظم نے 11 اگست 1947ء کی اپنی تاریخی تقریر میں تمام شہریوں کے مساوی حقوق پر زور دیا اور مذہب کو ریاستی امتیاز کی بنیاد نہ بنانے کی بات کی۔ اس وژن نے مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہوگا جہاں انہیں مکمل شہری حقوق حاصل ہوں گے۔ اسی اعتماد کے نتیجے میں زیادہ تر مسیحی برادری نے تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان میں رہنے اور اس کی تعمیر میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ بین الاقوامی تنظیم Minority Rights Group کے مطابق ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد کے برعکس بیشتر مسیحی پاکستان میں ہی مقیم رہے اور نئی ریاست کا حصہ بنے۔قیامِ پاکستان کے بعد مسیحیوں نے قومی اداروں کی مضبوطی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ جسٹس اے۔ آر۔ کارنیلیس ( Justice A. R. Cornelius) اس کی بہترین مثال ہیں۔ وہ پاکستان کے ممتاز قانون دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے آئین، قانوں کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی خدمات کو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی مسیحیوں کی خدمات انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم مسیحی تعلیمی اداروں، کالجوں، اسکولوں اور ہسپتالوں نے لاکھوں پاکستانیوں کو معیاری تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کیں۔ بین الاقوامی مطالعات کے مطابق پاکستان میں سماجی ترقی، تعلیم اور صحت کے میدان میں مسیحی اداروں کی خدمات نمایاں رہی ہیں اور ان اداروں نے مذہب و نسل سے بالاتر ہو کر قومی خدمت انجام دی۔یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ مسیحیوں نے پاکستان کی سیاسی، سماجی اور انتظامی زندگی میں مسلسل حصہ لیا۔ پنجاب اور وفاقی سطح پر کئی مسیحی شخصیات نے پارلیمان، عدلیہ، تعلیم اور سول سروس میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان سوشل سائنسز ریویو کی تحقیق کے مطابق آزادی کے بعد بھی مسیحی نمائندے قانون سازی اور ادارہ سازی کے عمل میں شریک رہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کو اپنی مشترکہ قومی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔مختصراً، قیامِ پاکستان میں مسیحیوں کا کردار ایک تاریخی حقیقت ہے۔ ایس۔ پی۔ سنگھا اور دیگر مسیحی رہنماؤں کی سیاسی حمایت، تحریکِ پاکستان میں تعاون، قائداعظم کے وژن پر اعتماد، اور بعد از آزادی قومی اداروں کی تعمیر میں خدمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مسیحی برادری پاکستان کی تشکیل اور ترقی کی ایک اہم شراکت دار رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا منصفانہ مطالعہ اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب اس میں تمام مذہبی طںقات، بالخصوص مسیحیوں، کی خدمات اور قربانیوں کو مناسب مقام دیا جائے۔Bibliography:Hanif, Kalsoom & Chawla, Muhammad Iqbal. State, Religion and Religious Minorities in Pakistan: Remembering the Participation of Christians in Punjab Legislative Assembly 1947–55. Pakistan Social Sciences Review.
Minority Rights Group International. Christians in Pakistan.Government of the United Kingdom. Country Policy and Information (2026). (gov.uk)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں