73

فرانس کا Lyhanna ریپ کیس: ایک معصوم بچی، فرانس کا ایک ناکام عدالتی نظام، اور پوری دنیا کے لیے ایک سبق

تحریر بشپ آفتاب انور
کبھی کبھی ایک جرم صرف ایک خاندان کی زندگی نہیں بدلتا بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ فرانس میں 11 سالہ Lyhanna کے مبینہ اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کا واقعہ بھی ایسا ہی ایک سانحہ ہے۔اس واقعے نے فرانس کو ایک بنیادی سوال کے سامنے کھڑا کر دیا ہے:کیا صرف سخت قوانین کافی ہیں، یا ان پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد زیادہ اہم ہے؟ابتدائی تحقیقات اور بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، ملزم کے خلاف اس سے پہلے بھی نابالغ بچیوں سے متعلق سنگین شکایات اور الزامات موجود تھے۔ تاہم ناقدین کے مطابق ان شکایات پر وہ فوری اور مؤثر کارروائی نہ ہو سکی جس کی ضرورت تھی۔ یہی پہلو اس کیس کو محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑے سوال میں تبدیل کرتا ہے۔ (Al Jazeera)اس واقعے کے بعد فرانس بھر میں شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ مختلف شہروں میں احتجاجی اجتماعات ہوئے، جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھا کہ بچوں سے متعلق جنسی جرائم کے مقدمات کو اولین ترجیح دی جائے۔ جواباً فرانسیسی وزارتِ انصاف نے ایسے ہزاروں زیرِ التوا یا بند فائلوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہیں غفلت یا تاخیر نے مزید بچوں کو خطرے میں تو نہیں ڈالا۔ (Le Monde.fr)یہ کیس صرف ایک مجرم کی کہانی نہیں ہے۔یہ ایک ایسے نظام کی کہانی بھی ہے جس میں بعض اوقات شکایت درج ہو جاتی ہے، مگر اس پر بروقت کارروائی نہیں ہوتی۔ جب ادارے سست روی، وسائل کی کمی یا ترجیحات کی غلط ترتیب کا شکار ہو جائیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے—یعنی بچے۔یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے فلک بوس عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشت نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کی حفاظت کس حد تک کرتا ہے۔ اگر ایک بچہ بار بار خطرے کے اشارے دے، خاندان کو شکایت کرے، یا پہلے سے موجود اطلاعات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے، تو بعد میں صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔اس سانحے نے دنیا بھر کے ممالک کے لیے بھی ایک اہم سبق چھوڑا ہے۔بچوں سے متعلق جنسی جرائم میں “انتظار” سب سے خطرناک فیصلہ ہو سکتا ہے۔ہر شکایت کو محض ایک فائل سمجھنے کے بجائے ایک ممکنہ انسانی جان سمجھنا چاہیے۔ ہر تاخیر ایک نئے جرم کا راستہ کھول سکتی ہے، اور ہر نظرانداز کی گئی رپورٹ کسی دوسرے بچے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو سیاسی یا نسلی تعصب پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ جرم کی ذمہ داری مجرم پر ہوتی ہے، کسی پوری قوم، نسل یا مذہب پر نہیں۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مجرم کو قانون کے مطابق سخت سزا ملے، جبکہ بے گناہ لوگوں کو اجتماعی طور پر موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔لِہانہ (Lyhanna) اب واپس نہیں آ سکتی۔لیکن اگر اس کی المناک موت کے بعد نظام واقعی بدلتا ہے، اگر زیرِ التوا مقدمات پر فوری کارروائی ہوتی ہے، اگر بچوں کے تحفظ کو حقیقی ترجیح دی جاتی ہے، اور اگر آئندہ کسی بچے کی فریاد بروقت سنی جاتی ہے، تو شاید اس سانحے سے کوئی مثبت سبق ضرور حاصل کیا جا سکے۔کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، معیشت یا عالمی حیثیت میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہاں ایک معصوم بچہ خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔بچوں کا تحفظ صرف ایک قانونی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر مہذب معاشرے کی اخلاقی آزمائش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں