جمہوریت کی خوبصورتی صرف اس بات میں نہیں کہ عوام ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہر ووٹ دیانت داری سے شمار ہو ہر امیدوار کو مساوی مواقع میسر ہوں اور ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی رائے کا احترام کیا جائے گا اگر انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو صرف ایک جماعت یا ایک امیدوار متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا جمہوری نظام سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے اور آراء سامنے آ رہی ہیں کچھ عناصر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار، کارکنان اور ووٹرز مایوسی کا شکار ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن ہمیشہ کی طرح آج بھی پُرجوش، پُرعزم اور ثابت قدم ہے باقی ڈویژنوں میں ہونے والے انتخابات کے لیے پارٹی کے جیالے بھرپور محنت اور عوامی رابطہ مہم میں مصروف ہیں اور انہیں یقین ہے کہ عوام کا فیصلہ ہی اصل فیصلہ ہوگا۔جہاں تک میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج کا تعلق ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے ان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے پارٹی کا کہنا ہے کہ متعدد حلقوں میں ایسے حالات اور نتائج سامنے آئے ہیں جن کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوئے ایک جمہوری معاشرے میں ایسے سوالات کا جواب الزامات یا بیانات سے نہیں بلکہ شفاف، غیرجانبدار اور قانونی تحقیقات سے دیا جاتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی یہ بھی مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے قبل ایک ٹیلی وژن پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال چوہدری کی جانب سے میرپور ڈویژن میں نو نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ سامنے آیا جس نے سیاسی حلقوں میں مزید سوالات کو جنم دیا پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ ایسے تمام معاملات کی وضاحت متعلقہ ادارے کریں تاکہ کسی قسم کے شکوک و شبہات باقی نہ رہیں۔اسی طرح سہنسہ، چڑہوئی، برنالہ اور نکیال جیسے حلقے ماضی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مضبوط عوامی مراکز رہے ہیں پیپلز پارٹی کے مطابق ان حلقوں میں چوہدری اخلاق، چوہدری پرویز اشرف، چوہدری یاسین اور جاوید بڈھانوی کے نتائج کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اگر کسی امیدوار یا جماعت کے پاس انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق شواہد موجود ہیں تو ان کا جائزہ لینا اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں بھی بعض پولنگ اسٹیشنوں پر مبینہ بے ضابطگیوں کے دعوے کیے گئے ہیں ایسے مواد کی صداقت کا تعین صرف بااختیار ادارے ہی کر سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان دعووں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور عوام کا اعتماد مضبوط ہو۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس جماعت نے ہمیشہ عوامی رائے، آئین اور جمہوری اداروں کی بالادستی کی بات کی ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو شہید تک اور آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھی پارٹی کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر حال میں مقدم ہونا چاہیے یہی اصول ہر جماعت اور ہر ادارے پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔��تخابی تنازعات کا حل سڑکوں پر تصادم یا اشتعال انگیز بیانات میں نہیں بلکہ آئینی اور قانونی فورمز پر موجود ہے اگر کسی جماعت کو اعتراض ہے تو اسے شواہد کے ساتھ متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے اور اگر اعتراض بے بنیاد ہو تو اسے بھی قانون کے مطابق مسترد کیا جانا چاہیے یہی طرزِ عمل جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر تمام اعتراضات اور شکایات کا شفاف، غیرجانبدار اور بروقت جائزہ لے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت یا ووٹر کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ووٹ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے عوام کا اعتماد بحال رکھنا ہر جمہوری ادارے کی اولین ذمہ داری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنے کارکنان سے بھی یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ ہر مرحلے پر آئین، قانون اور جمہوری اقدار کو مقدم رکھیں گے پرامن جدوجہد، سیاسی برداشت اور قانونی راستہ ہی وہ قوت ہے جو جمہوریت کو دوام بخشتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومتیں بنتی اور بدلتی رہتی ہیں لیکن اگر عوام کا ووٹ متنازع ہو جائے تو نقصان پورے جمہوری نظام کو پہنچتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر ووٹ کا احترام ہر شکایت کی منصفانہ سماعت اور ہر نتیجے کی شفاف جانچ کو یقینی بنایا جائے یہی مضبوط جمہوریت، مستحکم اداروں اور عوامی اعتماد کی حقیقی بنیاد ہے۔
14