78

عنوان: وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو تحریر: سیدہ شبانہ رضوی ( اسلام آباد) وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو، شاید صرف خوابوں میں کھلتی ہے۔ حقیقت کی زمین پر تو ہر صبح ایک نئی آزمائش جنم لیتی کاش

عنوان: وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
تحریر: سیدہ شبانہ رضوی ( اسلام آباد)

وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو، شاید صرف خوابوں میں کھلتی ہے۔ حقیقت کی زمین پر تو ہر صبح ایک نئی آزمائش جنم لیتی
کاش! کوئی ایسا موسم بھی اترے جب ہر گھر میں سکون کی خوشبو ہو، جب ماں بچوں کے لیے روٹی گنتے ہوئے آنسو نہ پیے، جب باپ رات بھر جاگ کر یہ حساب نہ لگائے کہ کس بل کی قربانی دے اور کس خواب کو ملتوی کرے۔آج ہر دروازے پر ٹیکس کا خوفناک اژدھا پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ ہر مہینے بلز کا بوجھ کندھوں کو مزید جھکا دیتا ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسنے والا انسان اپنی خواہشیں نہیں، اپنی ضرورتیں بھی پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر کیا ہوگا کہ ایک باپ اپنے بچے کی فیس کی تاریخ دیکھ کر نظریں چرا لے، ایک ماں بچے کی خواہش پر خاموشی اوڑھ لے، اور معصوم آنکھیں اپنے ہی مستقبل سے سوال کرنے لگیں۔اے اہلِ اختیار! اگر خزانے بھرنے ہیں تو پہلے دلوں کو خالی مت کیجیے۔ اگر ریاست مضبوط کرنی ہے تو پہلے شہریوں کو جینے کا حوصلہ دیجیے۔ یاد رکھیے، بھوکا پیٹ صرف روٹی نہیں مانگتا، وہ عزت، تحفظ اور امید بھی مانگتا ہے۔جب ہر راستہ بند دکھائی دے، جب قرض، بے روزگاری اور محرومی انسان کا گلا گھونٹنے لگیں، تب بعض دلوں میں یہ خطرناک خیال جنم لیتا ہے کہ شاید آخری حل خودکشی ہے۔ مگر نہیں! خودکشی کسی مسئلے کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان معصوم آنکھوں کی زندگی بھر کی سزا ہے جو اپنے سہارے کو ہمیشہ کے لیے کھو دیتی ہیں۔ مایوسی اندھیرا ہے، اور امید وہ چراغ ہے جو ایک شمع سے ہزاروں شمعیں روشن کر سکتا ہے۔آئیے، دعا کریں کہ ہمارے ملک میں ایسا نظام قائم ہو جہاں کسی ماں کی دعا بلوں کے بوجھ تلے نہ دبے، کسی باپ کی پیشانی فکر کی شکنوں سے نہ بھرے، اور کوئی نوجوان بے بسی کے عالم میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے کا نہ سوچے۔ہمیں ایسی سرزمین چاہیے جہاں بچوں کی ہنسی محفوظ ہو، محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے، اور ہر دل میں امید کا چراغ روشن رہے۔ تبھی تو یہ وطن واقعی وہ فصلِ گل بنے گا جسے اندیشۂ زوال نہ ہو۔
دعاگو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں