تم گھر میں پڑی بچی کو نہیں چھوڑتے،
گلی میں کھیلتی بچی کو نہیں چھوڑتے،
اٹھارہ ماہ کی معصوم کو نہیں چھوڑتے،
اسی معاشرے میں اسی سانس کے ساتھ اسی دنیا میں جیتی ہوئی اسی عورت کو نہیں چھوڑتے جو عمر کی آخری دہلیز پر پہنچ چکی ہو۔تم قبر میں دفنائی ہوئی عورت کی حرمت تک پامال کرنے سے نہیں چوکتے۔
تم اپنے خاندان کی عورت کو نہیں چھوڑتے،
اپنی بہن، اپنی بیٹی، اپنے رشتوں کی حرمت کو بھی نہیں بخشتے۔
پھر سوال کرتے ہو:
کپڑے کیا پہنے تھے؟
باہر کیوں نکلی تھی؟
اکیلی کیوں تھی؟
پردہ کیوں نہیں کیا تھا؟
کبھی یہ سوال بھی کر کے دیکھو:
وہ عورت کیوں تھی؟
کیونکہ اگر لباس ہی جرم کی وجہ ہے تو پھر معصوم بچیاں کیوں؟
اگر گھر سے باہر نکلنا خطرہ ہے تو گھر کے اندر محفوظ سمجھی جانے والی بچیاں کیوں؟
اگر عمر مجرم کو اکسا سکتی ہے تو شیر خوار بچی سے لے کر اسی سالہ بزرگ عورت تک کوئی عمر محفوظ کیوں نہیں؟
اور اگر پردہ ہی حفاظت کی ضمانت ہے تو پھر وہ عورتیں کیوں نشانہ بنتی ہیں جو اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھی سماج کی درندگی سے محفوظ نہیں رہتیں؟حقیقت یہ ہے کہ جرم عورت کے لباس، عمر یا وجود میں نہیں، مجرم کی نیت اور ذہنیت میں ہوتا ہے۔سب سے زیادہ تکلیف دہ بات صرف یہ نہیں کہ ایک عورت یا بچی پر ظلم ہوا؛ دردناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ظلم کے بعد اکثر معاشرہ مظلوم کے زخم گننے کے بجائے اس کے کپڑے گنتا ہے، اس کے قدموں کا حساب لیتا ہے، اس کے باہر نکلنے کا جواز مانگتا ہے اور اس کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے۔یک معصوم بچی جب ظلم کا شکار ہوتی ہے تو وہ صرف جسمانی اذیت نہیں سہتی؛ اس کے بعد اس کا خاندان خوف، شرمندگی، سماجی دباؤ اور انصاف کی طویل جنگ میں داخل ہو جاتا ہے۔ بعض کیسز میں ظلم کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے تاکہ گواہی دینے والی زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے۔ کہیں لاش ملتی ہے، کہیں صرف خبر آتی ہے، اور کہیں ایک گھر کے اندر ایک ماں کی چیخ دفن ہو جاتی ہے۔اور ہم؟ہم چند دن افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر غصہ نکالتے ہیں، پھر اگلی خبر کا انتظار شروع کر دیتے ہیں۔یہ صرف قانون کا مئلہ نہیں، یہ ہماری اجتماعی سوچ کا امتحان ہے۔ہمیں بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ ’’تمہارا لباس تمہیں محفوظ رکھے گا‘‘؛ ہمیں لڑکوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کسی انسان کی عزت، جسم اور مرضی ناقابلِ تجاوز ہے۔ہمیں بیٹی کو یہ نہیں کہنا کہ ’’تم باہر مت نکلو‘‘؛ ہمیں بیٹوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کسی کی حدود پار کرنا مردانگی نہیں، جرم ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مظلوم سے سوال کرنے سے پہلے مجرم سے سوال ہونا چاہیے۔
وہاں کیوں گئی تھی؟ سے پہلے پوچھو:
اس نے ایسا کیوں کیا؟
کپڑے کیسے تھے؟ سے پہلے پوچھو:
اس نے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟
اکیلی کیوں تھی؟ سے پہلے پوچھو:
اس نے ایک کمزور انسان کو اپنا شکار کیوں سمجھا؟
اور پردہ کیوں نہیں کیا تھا؟ سے پہلے یہ سوچو کہ
کیا ہماری بیٹیوں کی حفاظت کا ذمہ دار ان کا لباس ہے یا ہمارا کردار؟
یاد رکھیں، ایک معاشرہ اس وقت مہذب نہیں ہوتا جب اس کی عورتیں گھر سے باہر نکلنے سے ڈریں؛
معاشرہ اس وقت مہذب ہوتا ہے جب عورت، بچی اور بزرگ اپنے گھر، گلی، بازار، ادارے اور راستے میں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ہمیں ایسی تربیت، ایسا قانون، ایسا نظام اور ایسی اجتماعی غیرت چاہیے جو مظلوم کو خاموش نہ کرے بلکہ مجرم کو روک دے۔کیونکہ اگلی خبر کسی اجنبی کی بیٹی کی نہیں بھی ہو سکتی۔
وہ ہماری بیٹی ہو سکتی ہے۔ہماری بہن ہو سکتی ہے۔ہماری ماں ہو سکتی ہے۔اور شاید وہ ہم خود ہوں۔
اس لیے آج سوال عورت سے نہیں،
مجرم سے ہونا چاہیے۔اور معاشرے سے بھی:آخر ہم کب تک ظلم کے بعد صرف ماتم کریں گے؟
کب ہم ظلم ہونے سے پہلے اسے روکیں گے؟
68