خیبرپختونخوا ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں امن، ریاستی رٹ اور عوامی اعتماد تینوں کو بیک وقت آزمائش کا سامنا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ پاک فوج، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قیمتی جانیں بھی ہم سے چھین لی ہیں۔ ان قربانیوں نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر وفاق اور صوبہ پوری طرح ایک صفحے پر ہیں؟
دہشت گردی کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور پوری قوم کا مشترکہ چیلنج ہے۔ آئین اور قانون کے مطابق داخلی سلامتی میں وفاق، صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس نظام سب کا کردار ہے۔ اگر ان کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہو تو دہشت گردوں کے لیے کارروائیاں کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن اگر رابطوں میں کمزوری یا سیاسی کشیدگی حاوی ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف دہشت گرد عناصر کو پہنچتا ہے۔خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے، تعلیمی سلسلہ متاثر ہوا اور کئی علاقوں کی ترقی کا سفر برسوں پیچھے چلا گیا۔ اس کے باوجود مقامی آبادی نے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی اعتماد آج بھی سب سے قیمتی سرمایہ ہے، جسے برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس وقت عوام کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ کس جماعت کی حکومت ہے، بلکہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ قومی حکمتِ عملی کہاں ہے؟ اگر کسی حملے میں پولیس، فوج، ایف سی یا عام شہری جان سے جاتے ہیں تو عوام کی توقع ہوتی ہے کہ وفاقی اور صوبائی قیادت فوری مشاورت کرے، مشترکہ لائحہ عمل سامنے لائے اور واضح پیغام دے کہ قومی سلامتی پر کوئی اختلاف نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی حیثیت، افغانستان سے ملحقہ سرحد، دشوار گزار علاقے اور سرحد پار سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے۔ اس لیے صرف فوجی کارروائی کافی نہیں۔ مضبوط انٹیلی جنس، جدید پولیسنگ، بارڈر مینجمنٹ، عدالتی نظام، مقامی انتظامیہ کی استعداد، نوجوانوں کے لیے روزگار، معیاری تعلیم اور متاثرہ علاقوں کی ترقی—یہ سب ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہونے چاہییں۔ریاستی ذمہ داری کا دوسرا اہم پہلو ترقی ہے۔جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، خیبر، کرم، مہمند اور دیگر اضلاع میں سڑکیں، آبپاشی، ہسپتال، اسکول، انٹرنیٹ، زراعت اور صنعت پر تیز رفتار کام صرف ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ امن کو مضبوط کرنے کے ذرائع ہیں۔ جب نوجوان کے ہاتھ میں تعلیم اور روزگار ہو تو انتہاپسند تنظیموں کے لیے اس تک پہنچنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن قومی سلامتی پر اختلاف کے بجائے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وفاق اور صوبہ دہشت گردی کے معاملے پر مستقل رابطے، مشترکہ اجلاس، مربوط فیصلوں اور شفاف معلومات کے تبادلے کو یقینی بنائیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف سکیورٹی بلکہ عوامی اعتماد پر بھی مرتب ہوں گے۔اس موقع پر میڈیا، قبائلی مشران، علما، سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کریں جس میں قومی اتحاد مضبوط ہو۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔پاکستان کے سکیورٹی اہلکار اور عام شہری روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست کے تمام ستون ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں، سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی پر اثر انداز نہ ہونے دیں، اور ایک ایسی مربوط حکمتِ عملی اختیار کریں جس میں امن، ترقی، انصاف اور عوامی اعتماد ساتھ ساتھ آگے بڑھیں۔آج خیبرپختونخوا کو صرف بیانات کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سکیورٹی ادارے اور تمام متعلقہ ریاستی ادارے آئینی ذمہ داری کے تحت ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی اختیار کریں، کیونکہ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ جب قومی سلامتی کو سیاست سے بالاتر رکھ کر اجتماعی فیصلے کیے جائیں گے، تب ہی پاک فوج، پولیس، ایف سی اور عام شہریوں کی قربانیاں ایک پائیدار امن، مضبوط ریاست اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکیں گی۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، مضبوط قیادت، انصاف اور ریاستی ذمہ داری سے محفوظ بنتی ہیں۔ آج بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام آئینی ادارے اور سیاسی قیادت قومی سلامتی کو ہر اختلاف سے بالاتر رکھتے ہوئے ایک صفحے پر آئیں، کیونکہ پاکستان کا امن ہی پاکستان کی بقا، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔
27