قبائلی اضلاع کی تاریخ صرف جغرافیہ کی نہیں بلکہ محرومی، قربانی اور امید کی تاریخ بھی ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی جب کوئی قبائلی نوجوان روزگار، تعلیم، صحت یا بنیادی سہولیات کی بات کرتا ہے تو اس کے سوال کا جواب اکثر وعدوں، اعلانات اور سیاسی بیانات کی صورت میں ملتا ہے، عملی ترقی کی صورت میں نہیں۔حالیہ دنوں خیبر پختونخوا اسمبلی میں وفاقی فنڈز سے متعلق پیش کی جانے والی دستاویز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اور ان پر سیاسی و عوامی سطح پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی رقم آئی، بلکہ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جو وسائل موصول ہوئے، ان کا عوام کو کتنا فائدہ پہنچا؟
قبائلی اضلاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ ہزاروں شہری شہید ہوئے، لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی، بازار، سکول، ہسپتال، سڑکیں اور آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ایسے حالات میں توقع یہی تھی کہ امن کی بحالی کے بعد ترقی کا سفر بھی تیزی سے آگے بڑھے گا، لیکن زمینی حقیقت آج بھی بہت سے علاقوں میں مختلف دکھائی دیتی ہے۔انضمام کے وقت قبائلی عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے گا، این ایف سی ایوارڈ اور دیگر ذرائع سے ترقیاتی وسائل فراہم کیے جائیں گے، تعلیم، صحت، سڑکوں، آبپاشی، زراعت، صنعت، انٹرنیٹ، پینے کے صاف پانی اور روزگار کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ ان وعدوں پر عملدرآمد کس حد تک ہوا؟اگر اربوں اور کھربوں روپے مختلف مدات میں موصول ہوئے ہیں تو پھر جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، خیبر، مہمند، کرم اور اورکزئی سمیت قبائلی اضلاع کے متعدد علاقوں میں آج بھی عوام بنیادی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟ کیوں کئی دیہات میں ہسپتال مکمل فعال نہیں؟ کیوں سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے؟ کیوں نوجوان روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں یا بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں؟ کیوں زراعت اور آبپاشی کے منصوبے مطلوبہ رفتار سے مکمل نہیں ہو سکے؟
یہ سوال کسی ایک حکومت تک محدود نہیں۔ اگر گزشتہ پچھتر برس کا جائزہ لیا جائے تو مختلف ادوار میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں، منتخب نمائندے، انتظامی ادارے اور متعلقہ محکمے سب کسی نہ کسی درجے میں اس عمل کا حصہ رہے ہیں۔ اس لیے ذمہ داری بھی اجتماعی طور پر دیکھی جانی چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی نعروں کی بنیاد پر۔قبائلی عوام کا یہ حق ہے کہ انہیں واضح طور پر بتایا جائے کہ گزشتہ برسوں میں کتنی رقم کس مد میں ملی، کس منصوبے پر کتنی لاگت آئی، کون سا منصوبہ مکمل ہوا، کون سا زیر تکمیل ہے، اور کن منصوبوں میں تاخیر یا رکاوٹ کی وجوہات کیا ہیں۔ شفافیت ہی اعتماد کی بنیاد بنتی ہے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قبائلی اضلاع کے لیے ایک جامع عوامی آڈٹ رپورٹ جاری کی جائے۔ ہر ضلع کی سطح پر یہ معلومات عوام کے سامنے رکھی جائیں کہ تعلیم، صحت، سڑکوں، آبپاشی، پینے کے پانی، بجلی، انٹرنیٹ، زراعت اور روزگار پر کتنی سرمایہ کاری ہوئی اور اس کے نتائج کیا نکلے۔ جب تک معلومات عوام کے سامنے نہیں آئیں گی، شکوک و شبہات ختم نہیں ہوں گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال نے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا۔ کئی منصوبے سکیورٹی وجوہات، انتظامی مشکلات یا دیگر عوامل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے۔ تاہم یہ عوامل بھی احتساب اور مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت کو ختم نہیں کرتے۔ اگر کہیں رکاوٹ تھی تو اس کا حل بھی ریاستی اداروں اور حکومتوں نے ہی نکالنا تھا۔قبائلی عوام کسی سے احسان نہیں مانگتے۔ وہ صرف اپنے آئینی اور قانونی حقوق چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو معیاری تعلیم ملے، نوجوانوں کو روزگار ملے، کسانوں کو پانی اور منڈی تک رسائی حاصل ہو، سڑکیں تعمیر ہوں، ہسپتال فعال ہوں اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں۔ یہی حقیقی ترقی ہے۔آج ضرورت الزام تراشی سے زیادہ سنجیدہ مکالمے کی ہے۔ اگر واقعی کھربوں روپے عوام کی فلاح کے لیے مختص ہوئے تو پھر ان کے نتائج بھی عوام کو نظر آنے چاہئیں۔ اگر نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے تو اس کا غیرجانبدارانہ مالی اور انتظامی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ احتساب صرف اپوزیشن یا حکومت کا نہیں بلکہ ہر اس ادارے اور ہر اس ذمہ دار کا ہونا چاہیے جس نے عوامی وسائل کے استعمال میں کردار ادا کیا۔
قبائلی اضلاع پاکستان کا حساس ترین خطہ ہیں۔ یہاں کے عوام نے ملک کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قربانیوں کا صلہ نعروں سے نہیں بلکہ عملی ترقی سے دیا جائے۔ آنے والی نسلیں یہ نہیں پوچھیں گی کہ کتنی رقم منظور ہوئی تھی، بلکہ یہ پوچھیں گی کہ ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔اگر آج بھی یہ سوال جواب طلب ہے کہ وسائل کہاں خرچ ہوئے، کون سے منصوبے مکمل ہوئے، اور عوام کو ان کا کتنا فائدہ ملا، تو پھر اس سوال کا جواب دینا ریاستی اداروں، حکومتوں اور متعلقہ ذمہ داران سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قبائلی عوام کو اب صرف اعلانات نہیں بلکہ شفاف حساب، مؤثر منصوبہ بندی اور قابلِ پیمائش ترقی چاہیے۔ یہی ان کا حق ہے، یہی آئین کا تقاضا ہے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔
63