24

جنبشِ قلم تحریر:عابد محمود چودھری احتساب کا ناقص نظام، اداروں میں سیاسی مداخلت اور ریاست کی ذمہ داریاں؟

لاہور، جو پنجاب کا دارالحکومت اور پاکستان کے نسبتاً محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے،گذشتہ کچھ عرصے سے ایسے افسوسناک اورتشویش ناک واقعات کی زد میں ہے، جنہوں نے نہ صرف عوامی اعتماد کو متزلزل کیا ہے،بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، نگرانی کے نظام اور احتسابی ڈھانچے پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔حالیہ دنوں میں لاہور کے ایک تھانے میں ذہنی معذور خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور اس کے فوراً بعد دوخواتین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے واقعات نے پورےمعاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان واقعات نےجہاں لاہور پولیس کی ساکھ کو متاثر کیا، وہیں حکومت پنجاب کی گورننس، ادارہ جاتی نگرانی اور سیاسی مداخلت کےحوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔اگر ان واقعا ت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر لاہور پولیس کی اعلیٰ قیادت اور نگرانی کے نظام کی جوابدہی کس کےسامنے ہے؟کیا بار بار رونما ہونے والے ایسے واقعات محض چند افراد کی غلطیوں کا نتیجہ ہیں یا پھر یہ کسی گہرے ادارہ جاتی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں؟ ذہنی معذور خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کےواقعے کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ دو خواتین کی پولیس حراست میں ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ گئیں۔ان واقعات نے شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں بھی جان و مال اور عزت محفوظ نہ رہے، تو پھر عام شہری انصاف اور تحفظ کی امید کس سے وابستہ کریں؟اس سے قبل بھی لاہور کےمختلف علاقو ں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے عوامی سطح پر شدید تشو یش کو جنم دیا۔ڈیفنس لاہور میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ،ایک جج کے گھر پر پولیس کارروا ئی اور بعد ازاں اٹارنی جنرل کے گھر پر چھاپے جیسے معاملات نہ صرف قومی سطح پر موضوعِ بحث بنے، بلکہ انہوں نے اختیارات کے استعمال،نگرانی کےنظام اور فیصلہ سازی کے معیار پر بھی کئی سوالات اٹھائے۔تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذورخاتون کےساتھ مبینہ زیادتی کے کیس میں ایک پولیس اہلکار کی گرفتار ی اور بعدازاں پولیس حراست سے متعلق دیگر سنگین واقعات نے عوامی اعتماد کو مزید مجروح کیا۔اگرچہ ان معاملات کی مختلف سطحوں پر تحقیقا ت جاری ہیں،تاہم ان کی نوعیت اور حساسیت اس امر کی متقاضی ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت اور غیر جانبدا ری کےساتھ انجام دی جائیں تاکہ حقائق قوم کےسامنے آ سکیں۔تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران متعدد ایسے مقدمات منظر عام پر آئے جن میں بعض پولیس اہلکاروں پر ڈکیتی، راہزنی، منشیات فروشی اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔کئی اہلکار گرفتار یا معطل بھی ہوئے،لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسے واقعات تسلسل کےساتھ رونما ہو رہے ہیں تو کیا صرف ماتحت عملے کے خلاف کارروائی کافی ہے، یا پھرنگرانی،کمانڈ اور احتساب کے پورے نظام کا ازسرِ نوجائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے؟پنجاب پولیس کو ہرسال اربوں روپے کا بجٹ،جدید اسلحہ،جدید گاڑیاں، سیف سٹی کیمروں کا وسیع نیٹ ورک اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جاتی ہے۔اس کے باوجود اگر شہری خود کو غیرمحفوظ محسوس کریں، خواتین پولیس تحویل میں تحفظ سے محروم رہیں،اور پولیس اہلکاروں پر جرائم میں ملوث ہونے کےالزامات سامنے آئیں تو یہ محض انفرادی ناکامی نہیں بلکہ ایک بڑے ادارہ جاتی چیلنج کی علامت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار صرف قوانین بنانے پر نہیں بلکہ ان کےمنصفانہ اوربلاامتیاز نفاذ پر ہوتا ہے۔جب احتساب کا نظام کمزور پڑ جائے،سیاسی مداخلت اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو متاثر کرنے لگے اور نگرانی کا عمل مؤثر نہ رہے تو ایسے سانحات جنم لیتے ہیں جو ریاستی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہےکہ ان تمام واقعات کی آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں،ذمہ دار عناصر کو قانون کےمطابق سزادی جائےاور ساتھ ہی پولیس کے اندرونی احتساب، نگرانی اور کمانڈ کےنظام کابھی جامع جائزہ لیا جائے۔عوام کا بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر ایک کے بعد ایک اتنے سنگین واقعات رونما ہو رہے ہیں تو کیاموجودہ انتظامی و کمانڈ ڈھانچہ اس صورتحال پر مؤثر طور پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے، یا پھر مزید اصلاحات، جوابدہی اور ادارہ جاتی احتساب کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے؟ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست میں عوام کا اعتماد ہی سب سے بڑی قوت ہوتا ہے،اور یہ اعتماد صرف اسی صورت بحال ہو سکتا ہے کہ جب قانون سب کے لیے یکساں ہو،احتساب بلاامتیاز ہو اور ادارے سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں