48

بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات قومی المیہ ہیں،ڈاکٹر جوزف ارشد، واقعات میں ملوث مجرموں کو فوری اور عبرتناک سزا دی جائے، آرچ بشپ

اسلام آباد( سٹی رپورٹر) کیتھولک ڈائیوسیز اسلام آبادراولپنڈی کے بشپ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سنگین مسئلہ فوری اور مؤثر اقدامات کا متقاضی ہے۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران ایسے رپورٹ ہونے والے واقعات میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی طور پر 3 ہزار 630 کیسز سامنے آئے، یعنی اوسطاً روزانہ 9 سے زائد بچے کسی نہ کسی شکل میں زیادتی کا شکار ہوئے۔ ان کے مطابق اغوا سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم ہے، جس کے بعد بدفعلی اور زیادتی کے واقعات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں 53 فیصد بچیاں ہیں جبکہ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔آرچ بشپ نے سرگودھا کی سات سالہ بچی منتہیٰ زہرہ کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعے سمیت کراچی، سوات اور ملک کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے خلاف اس نوعیت کے جرائم پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف جرائم انسانی وقار کی بدترین پامالی ہیں اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مہذب، پرامن اور انصاف پر مبنی نہیں کہلا سکتا جب تک اس کے بچے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہوں۔انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، چائلڈ پروٹیکشن محکموں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری، شفاف اور سخت کارروائی کی جائے اور مجرموں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں قانون پر کمزور عملدرآمد، غفلت یا کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے بتایا کہ کیتھولک ڈائیوسیز اسلام آباد-راولپنڈی نے رواں سال کو ’’بچوں کا سال‘‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد بچوں کے وقار، تحفظ، تعلیم اور ہمہ جہت فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چرچ بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے خاندانوں، تعلیمی اداروں، گرجا گھروں اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔انہوں نے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے تحفظ کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھیں، بچوں سے اعتماد کا رشتہ قائم کریں، انہیں ذاتی تحفظ سے متعلق آگاہ کریں اور مشتبہ واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ بچوں کا تحفظ صرف خاندانوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر بچے کو ایسا معاشرہ فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی جہاں وہ خوف سے آزاد، عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے اور امید کے ساتھ اپنے مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں