اسلام آ باد(خصوصی رپورٹر)پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز (پاتو) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں کوہ پیمائی اور سیاحت سے وابستہ افراد، نوجوانوں، جاں بحق کوہ پیماؤں کے اہل خانہ اور شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے کوہ پیماؤں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے سوگوار خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔تقریب میں نیپال کے سفیر، معروف پاکستانی کوہ پیماؤں نذیر صابر اور اشرف امان، پاتو کے چیئرمین کیپٹن نیاز سمیت ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران اور ارکان نے شرکت کی۔شرکاء نے شمعیں روشن کیں اور جاں بحق افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس موقع پر مرحومین کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی، جبکہ مقررین نے کوہ پیماؤں کی ہمت، عزم اور بلند حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے دنیا کی دشوار ترین چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں۔یہ تقریب اس 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیمائی ٹیم کی یاد میں منعقد کی گئی جو 30 جولائی کو براڈ پیک پر کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان ایک بڑے برفانی تودے کی زد میں آ کر لاپتا ہوگئی تھی۔ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ہے اور اسے پاکستان میں بلند پہاڑی علاقوں کی مشکل ترین کوہ پیمائی مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا، امریکی کوہ پیما میلوری گیز، عمانی کوہ پیما ندیرا الحارثی، چینی کوہ پیما وانگ ژونگ اور پانچ نیپالی کوہ پیما — پور بہادر گرونگ، کلی پیمبا شیرپا، نیما شیرپا، نوانگ تھندو شیرپا اور گیالو شیرپا شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیپال کے سفیر نے کوہ پیماؤں کے المناک نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق کوہ پیماؤں کو ماہر اور باصلاحیت کوہ پیما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابیاں اور عزم دنیا بھر میں کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے مشعل راہ تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ عالمی کوہ پیمائی برادری کے لیے انتہائی صدمے کا باعث بنا ہے اور دنیا کی بلند ترین اور دشوار گزار چوٹیوں کو سر کرنے والی مہمات میں درپیش انتہائی خطرات کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔معروف پاکستانی کوہ پیما نذیر صابر نے سہیل سخی اور دیگر جاں بحق کوہ پیماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی کوہ پیمائی سے وابستگی اور دنیا کے مشکل ترین پہاڑی علاقوں کو تلاش کرنے کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑوں سے ان کی محبت اور جذبہ آنے والی نسلوں کے پاکستانی اور بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو متاثر کرتا رہے گا۔پاتو کے چیئرمین کیپٹن نیاز نے تقریب میں شرکت کرنے اور جاں بحق کوہ پیماؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر نیپال کے سفیر، سینئر کوہ پیماؤں، سیاحتی برادری کے نمائندوں اور ان تمام افراد کی شرکت کو سراہا جنہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اس اجتماع میں شرکت کی۔تقریب کے شرکاء نے پاکستان میں بلند پہاڑی علاقوں کی کوہ پیمائی مہمات کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ریسکیو اور ہنگامی امدادی نظام کو بہتر بنانے، کوہ پیمائی مہمات میں شریک ٹیموں اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ کاری مضبوط کرنے اور ملک کے پہاڑی علاقوں میں محفوظ کوہ پیمائی کے فروغ کے لیے مسلسل اقدامات پر زور دیا۔شرکاء کے لیے شمعیں روشن کرنے کی یہ تقریب محض غم اور سوگ کا اظہار نہیں بلکہ اس جذبۂ مہم جوئی کو خراج عقیدت بھی تھی جس نے ان کوہ پیماؤں کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا تھا۔ خاموش اور پُروقار اجتماع میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ یہ سانحہ کوہ پیمائی کے تحفظ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کا باعث بنے گا اور جاں بحق کوہ پیماؤں کی یاد اور خدمات دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کے خواہش مند افراد کو ہمیشہ متاثر کرتی رہیں گی۔تقریب کا اختتام جاں بحق کوہ پیماؤں کے لیے اجتماعی دعا اور عالمی کوہ پیمائی برادری میں ان کی خدمات اور کردار کو ہمیشہ یاد رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔
68