38

امن کی قیمت احمد نور جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے کڑی کوٹ، وانا میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملے کی کوشش ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے

امن کی قیمت
احمد نور
جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے کڑی کوٹ، وانا میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملے کی کوشش ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ اپنے بڑے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا، تاہم دھماکے سے ایک مسجد شہید ہوگئی، قریبی مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی۔ عبادت گاہ پر پڑنے والا یہ زخم صرف ایک عمارت کا نقصان نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اقدار، مذہبی احترام اور سماجی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر حملہ آور کی مبینہ تصویر بھی گردش کرتی رہی، لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق یا حملہ آور کی شناخت کے بارے میں مکمل معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے حقائق، سرکاری مؤقف اور تحقیق کی بنیاد پر رائے قائم کی جائے، کیونکہ دہشت گردی جیسے حساس معاملات میں افواہیں دشمن کے بیانیے کو تقویت بھی دے سکتی ہیں۔جنوبی وزیرستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا محض ایک میدان نہیں بلکہ قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ اس سرزمین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں، قبائلی مشران، علما اور عام شہریوں کی قربانیاں دیکھی ہیں۔ یہاں کے عوام نے نقل مکانی بھی برداشت کی، معاشی مشکلات بھی جھیلیں اور امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دہشت گردی کا کوئی نیا واقعہ پیش آتا ہے تو سب سے زیادہ دکھ انہی لوگوں کو ہوتا ہے جنہوں نے امن کی خاطر سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کر رہا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل نہیں ہونی چاہئیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں واضح کیا گیا کہ جب تک افغان حکومت پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کرتی، دونوں ممالک کے تعلقات میں معمول کی پیش رفت مشکل رہے گی۔ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور یہی اصول خطے کے امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف سرحدوں پر نہیں جیتا جاتا بلکہ ریاست کے اندر مضبوط حکمرانی، مؤثر انٹیلی جنس، تیز رفتار انصاف، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی اعتماد بھی اس جنگ کے اہم ستون ہیں۔ جب ریاستی ادارے، مقامی آبادی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد کے رشتے میں جڑے ہوں تو دہشت گرد تنظیموں کے لیے جگہ بنانا آسان نہیں رہتا۔
جنوبی وزیرستان اور دیگر ضم شدہ اضلاع کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔ بہتر تعلیمی ادارے، جدید اسپتال، صاف پانی، معیاری سڑکیں، انٹرنیٹ، زراعت کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع صرف ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ امن کے ضامن بھی ہیں۔ جہاں امید پیدا ہوتی ہے وہاں شدت پسندی کمزور پڑتی ہے، اور جہاں محرومی بڑھتی ہے وہاں دشمن عناصر اپنے لیے راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دہشت گردی کی جنگ کا ایک اہم محاذ اطلاعاتی اور نظریاتی بھی ہے۔ آج دشمن صرف بارود سے نہیں بلکہ جھوٹے پروپیگنڈے، سوشل میڈیا مہمات اور گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ریاست، میڈیا، علما، اساتذہ اور قبائلی عمائدین کو مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کے بجائے تعلیم، ترقی اور قومی خدمت کی طرف راغب کیا جا سکے۔اصل سوال یہ ہے کہ مسئلے کا حل کیا ہے؟اس کا جواب محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی ہے۔ پاک۔افغان سرحد پر نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط کیا جائے، دہشت گردوں کے مالی وسائل اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ جنوبی وزیرستان سمیت ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ مقامی جرگوں، نوجوانوں، علما اور سول سوسائٹی کو امن کے عمل کا فعال حصہ بنایا جائے تاکہ دہشت گرد عناصر کو سماجی حمایت حاصل نہ ہو۔ ساتھ ہی سفارتی سطح پر افغانستان کے ساتھ رابطے جاری رہیں، لیکن پاکستان کی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملے پر مؤقف واضح، دوٹوک اور قومی مفاد کے مطابق رہے۔کڑی کوٹ کے واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گردوں کا ہدف صرف سیکیورٹی فورسز نہیں بلکہ پاکستان کا امن، ترقی اور قومی اتحاد ہے۔ مسجد کو نقصان پہنچنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ دہشت گرد کسی مذہب، انسانیت یا اقدار کے نمائندہ نہیں ہو سکتے۔ ان کا مقصد صرف خوف پھیلانا اور معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔آخر میں یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ امن کبھی مفت نہیں ملتا۔ اس کے لیے قربانیاں، بصیرت، مضبوط ریاستی ادارے، فعال سفارت کاری، عوامی اتحاد اور مسلسل قومی عزم درکار ہوتا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے عوام نے اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی نہیں بلکہ امن، تعلیم، تجارت اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان قربانیوں کو پائیدار امن، تیز رفتار ترقی اور مضبوط حکمرانی میں تبدیل کرے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ امن کی قیمت قربانی سے ادا ہوتی ہے، لیکن اس کی حفاظت دانشمندانہ پالیسی، قومی اتحاد اور عوامی اعتماد سے ممکن بنتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں