23

احمدخان اچکزئی دہشت گردی کی خونریز تاریخ، بقائے باہم کا تقاضااور خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک!!!!

محترم قارئین، اس دھرتی پر بہنے والا لہو کوئی اچانک رونما ہونے والا سانحہ نہیں بلکہ گزشتہ 45 برسوں سے جاری اس مکروہ اور مسلسل سازش کا تسلسل ہے جو افغان سرزمین سے پھوٹ کر وزیرستان، سوات، مہمند ایجنسی، پشاور اور بنوں کے راستے اب بلوچستان کی شاداب اور پرامن وادیوں تک اپنے خونی پنجے گاڑ چکی ہے۔ سمبازہ، گل کچ، ژوب، لورالائی، سنجاوی، پشین، کوئٹہ، گلستان، قلعہ عبداللہ اور میزئی اڈہ تک پھیلا ہوا یہ دہشت گردی کا نیٹ ورک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنے اور امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے غیر ملکی پراکسیز پوری شدت اور سرعت کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ تاریخی حقائق اس تلخ حقیقت کے امین ہیں کہ بلوچ خطے اور پختون علاقوں کے عوام اس پرتشدد یلغار کا شکار طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں، جہاں معصوم انسانوں کے لہو سے ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ریاست کے دشمن عناصر مذہب اور قومیت کے نام پر انسانیت کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔خیبر پختونخوا کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کے عوام، بیوروکریسی اور بالخصوص پولیس نے جس جرات، استقامت اور آگاہی مہم کے ذریعے اس ناسور کا مقابلہ کیا ہے، وہ پوری قوم کے لیے ایک روشن مثال اور قابلِ تقلید لائحہ عمل ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اب بلوچستان کے موجودہ اور انتہائی حساس معروضی حالات میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور بروقت,مؤثر اور ٹھوس اصلاحی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خطے کو مزید کسی بڑی انسانی تباہی اور اندوہناک بحران سے بچایا جا سکے کیونکہ اب وقت کا تقاضا ہے کہ روایتی سست روی اور غفلت کو پسِ پشت ڈال کر ایک مربوط، جامع اور فول پروف حکمت عملی تشکیل دی جائے جو دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا سکے۔یہ المیہ انتہائی دلخراش ہے کہ چند خود غرض اور ناپروردہ عناصر جو اپنے فرائض سے انحراف اور اخلاقی پستی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں، خدا کے باغی اور انسانیت کے دشمن بن کر اللہ کی بنائی ہوئی اس پرامن مخلوق کو فرقہ واریت، لسانی تعصبات اور دہشت کے ذریعے توڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مفادات کی خاطر انسانی معاشرے کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے اپنی مرضی کا انسان اور معاشرہ ڈھالنا چاہتے ہیں، مگر وہ یہ بھول چکے ہیں کہ اس خطے کے غیور اور باصلاحیت عوام اپنی تاریخ، ثقافت اور بقا کی جنگ لڑنا خوب جانتے ہیں اور وہ ان بیرونی و اندرونی سازشوں کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے۔اس نازک موڑ پر ہمارے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول انتظامیہ اور سکیورٹی اہلکاروں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اور ہمیں اپنے مقامی عملے سے یہ قوی امید ہے کہ وہ عوام اور اس ملک کو تباہ کرنے والی دہشت گرد پراکسیز کے مابین ایک مضبوط پُل کا کردار ادا کریں گے۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ استوار کریں، خوف کے بادلوں کو چھانٹنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیں، اور ایک ایسی مستحکم ڈھال بن جائیں جو کسی بھی غدار یا شرپسند عناصر کو اس قوم کی صفوں میں دراندازی کا موقع نہ دے سکے۔ عوام اور اداروں کا یہ باہمی اشتراک اور پختہ اتحاد ہی وہ واحد طاقت ہے جو ملک کو اس دلدل سے نکال سکتی ہے، لہذا ہمیں ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک پرامن، خوشحال اور دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے متحد ہو کر عملی میدان میں اترنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور آزاد فضاء میں سانس لے سکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں