اسلام آ باد ( سٹا ف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس گلگت بلتستان اسمبلی، گلگت میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر عطا الرحمٰن، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر محمد عبدالقادر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین، اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم، قائد حزب اختلاف حافظ حفیظ الرحمٰن اور گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نبیل اعوان، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سینئر حکام اور چیئرمین اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) اظفر منظور نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو گلگت بلتستان سے متعلق مختلف امور پر بریفنگ دی۔چیئرمین اوگرا نبیل اعوان نے گلگت بلتستان میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی دستیابی، ترسیل اور ذخیرہ کرنے کی صورتحال پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں تیل کا اتنا ذخیرہ برقرار رکھنے کے لیے اسٹوریج کی گنجائش موجود ہے جو 20 سے 30 دن کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ انہوں نے بلتستان ڈویژن میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق امور پر بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے گلگت بلتستان میں تیل اور ایل پی جی کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے سے خطے میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اوگرا حکام پر زور دیا کہ وہ گلگت بلتستان میں تیل اور ایل پی جی ذخیرہ کرنے سے متعلق مسائل کو وزارتِ پٹرولیم کے ساتھ مؤثر انداز میں اٹھائیں اور ان کے مستقل حل کے لیے ضروری اقدامات کریں۔چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں پی ٹی اے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ سروسز کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو متاثر کرنے والی رکاوٹوں اور چیلنجز کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمود الحسن نے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں شامل ہے جہاں ہر سال ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ تاہم، انٹرنیٹ کی سست رفتار ایک اہم مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے بغیر کوئی بھی ملک یا خطہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لیے گلگت بلتستان کے عوام کو جدید، تیز رفتار اور معیاری انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنا ضروری ہے۔سینیٹر محمود الحسن نے کہا کہ انٹرنیٹ سروسز میں بہتری کے حوالے سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور نجی نیٹ ورک کمپنیوں کو مدعو کرکے گلگت میں ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کے حل کے لیے اقدامات طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر پورے گلگت بلتستان میں بہتر اور زیادہ قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی یقینی بنانے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کرنا ہوگا۔سینیٹر عطا الرحمٰن نے گلگت بلتستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے باعث بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں، اس لیے متاثرہ آبادیوں کو بروقت امداد کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں معیاری، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سروسز کی عدم دستیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔این ڈی ایم اے کے سینئر حکام نے کمیٹی کو گلگت بلتستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، ابتدائی وارننگ سسٹم، ریسکیو سہولیات اور دستیاب فنڈز کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے گزشتہ پانچ سال کے دوران سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات، متاثرین کو ادا کیے گئے معاوضے اور قدرتی آفات کے دوران انجام دی جانے والی امدادی و ریسکیو کارروائیوں سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔چیئرمین اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) اظفر منظور نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی نے ماضی میں گلگت بلتستان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کے لیے اقدامات کیے تھے اور اس سلسلے میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکنالوجی کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول اور روزگار و کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے تعاون سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمود الحسن نے بھی گلگت بلتستان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور ایس ٹی زیڈ اے کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی مرحلے پر کوئی مسئلہ درپیش آیا تو کمیٹی ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ٹیکس فری خطہ ہے، اس لیے یہاں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام میں کسی تکنیکی دشواری کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔کمیٹی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں بہتری اور ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا گلگت بلتستان کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور مؤثر کوششیں کرنا ہوں گی۔
11