اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری وفاقی دارالحکومت کی تاجر و صنعت کار برادری کا ایک معتبر اور نمائندہ ادارہ ہے۔ اس کے قیام کو بیالیس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ چیمبر نے اپنے سفر کا آغاز بلیو ایریا کے ایک پلازے میں دو کمروں پر مشتمل ایک مختصر سے دفتر سے کیا تھا، مگر آج یہ اربوں روپے مالیت کی دو بڑی عمارتوں کا مالک ہے۔ ان عمارتوں سے چیمبر کو کرائے کی مد میں معقول آمدن بھی حاصل ہوتی ہے، جس سے ادارے کے انتظامی اخراجات پورے کرنے میں آسانی رہتی ہے۔اپنے بیالیس سالہ سفر کے دوران اسلام آباد چیمبر نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے، تاہم جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہا اور ہر سال باقاعدگی سے انتخابات منعقد ہوتے رہے۔ فاؤنڈر گروپ کی قیادت نے جس پودے کو برسوں پہلے لگایا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ابتدائی طور پر ہر سال ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک تہائی اراکین کا انتخاب کیا جاتا تھا اور منتخب اراکین کی مدت تین سال ہوتی تھی۔ بعد ازاں 2013ء میں قوانین تبدیل ہوئے، جس کے تحت ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین دو سال کے لیے منتخب ہونے لگے اور ہر سال پچاس فیصد اراکین ریٹائر ہوتے تھے۔تقریباً تین سال قبل ایک نیا قانون نافذ ہوا، جس کے تحت ایگزیکٹو کمیٹی اور عہدیداروں کی مدت دو سال مقرر کی گئی۔ تاہم فاؤنڈر گروپ میں داخلی اتفاقِ رائے کے تحت ہر سال ذمہ داریوں کی تقسیم اور عہدیداروں کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔اسلام آباد چیمبر کے انتخابات میں وقتاً فوقتاً متعدد گروپس نے حصہ لیا، لیکن فاؤنڈر گروپ نے اپنی تنظیم، اتحاد، کارکردگی اور تاجروں و صنعت کاروں کی خدمت کی بنیاد پر ہمیشہ اپنی برتری قائم رکھی۔ موجودہ فاؤنڈر گروپ کونسل اور قیادت کی مؤثر رہنمائی کے باعث اسلام آباد چیمبر آج ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس میں ایک ممتاز مقام حاصل کر چکا ہے۔فاؤنڈر گروپ کونسل کے اراکین چیمبر کے روزمرہ انتظامی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتے، تاہم نگرانی اور رہنمائی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہو، وہاں کونسل اپنی رائے اور مشورہ ضرور دیتی ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی کے امیدواروں کا انتخاب بھی مکمل سوچ بچار، مشاورت اور میرٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد اب بہت پھیل چکا ہے، اس لیے کوشش کی جاتی ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں، مارکیٹوں، تجارتی مراکز اور صنعتی شعبوں کو مناسب نمائندگی دی جائے۔ اس پالیسی سے نہ صرف چیمبر کی نمائندگی وسیع ہوتی ہے بلکہ نئی قیادت کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔آئندہ دو سال کے لیے اسلام آباد چیمبر کے انتخابات 16 ستمبر 2026ء کو منعقد ہوں گے۔ انتخابی عمل کی توثیق 30 ستمبر کو ہونے والے جنرل باڈی اجلاس میں کی جائے گی، جبکہ نئی کابینہ یکم اکتوبر سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔چیمبر کے مختلف انتظامی، تجارتی اور صنعتی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے متعدد ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے نئے اراکین کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور مستقبل کی قیادت کے لیے تیار ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اہم اور حساس کمیٹیوں کی ذمہ داریاں تجربہ کار اور سینئر اراکین کے سپرد کی جاتی ہیں، جبکہ کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی پورا سال جاری رہتا ہے۔اسلام آباد چیمبر میں مالی نظم و ضبط پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مالی معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی۔ انٹرنل آڈٹ اور فنانس کمیٹی پورا سال اپنا کام کرتی ہیں اور آمدن و اخراجات کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیمبر کے مالی معاملات شفاف اور قواعد و ضوابط کے مطابق چلتے ہیں۔مخالف گروپس نے مختلف اوقات میں فاؤنڈر گروپ اور چیمبر کی قیادت پر الزامات عائد کیے، لیکن کوئی الزام ثبوت کے ساتھ سامنے نہیں لایا جا سکا۔ مالی شفافیت، ادارہ جاتی استحکام اور تاجروں و صنعت کاروں کی مؤثر نمائندگی فاؤنڈر گروپ کی کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں۔فاؤنڈر گروپ نے ہمیشہ نعروں کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی ہے۔ چیمبر کی مضبوط مالی پوزیشن، قیمتی اثاثے، مؤثر کمیٹی نظام، ملک گیر شناخت اور مسلسل انتخابی کامیابیاں فاؤنڈر گروپ کی پالیسیوں اور قیادت پر اراکین کے اعتماد کا واضح ثبوت ہیں۔آئندہ انتخابات میں بھی فاؤنڈر گروپ کی برتری مکمل طور پر واضح دکھائی دے رہی ہے۔ ان شاء اللہ 16 ستمبر کے انتخابات میں فاؤنڈر گروپ ایک مرتبہ پھر بھرپور اور یک طرفہ کامیابی حاصل کرے گا۔اللہ تعالیٰ فاؤنڈر گروپ کی قیادت اور کارکنوں کو متحد رکھے اور کامیابی، خدمت اور ترقی کا یہ سفر ہمیشہ جاری رہے۔
18