19

کشمیر: ایک جملے سے آگے احمد نور دنیا کی بدلتی ہوئی طاقتوں کے درمیان جنوبی ایشیا ایک بار پھر بڑی سفارتی کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے

دنیا کی بدلتی ہوئی طاقتوں کے درمیان جنوبی ایشیا ایک بار پھر بڑی سفارتی کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالیہ دورے کے دوران بھارت میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کا یہ کہنا کہ جموں و کشمیر ’’بھارت کا ایک اہم حصہ‘‘ ہے، محض ایک سفارتی جملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان نے اس بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔سب سے پہلے ایک ضروری وضاحت، یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا نہیں بلکہ امریکی سفیر سرجیو گور کا ہے۔ دونوں شخصیات کو ایک سمجھنا موجودہ صورتِ حال کی درست تشریح میں غلطی ہوگی۔ مارکو روبیو نے 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے اور باہمی رابطے کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے پر زور دیا تھا۔لیکن تازہ واقعے کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی سفیر کا مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ اور وہاں خطے کو بھارت کا اہم حصہ قرار دینا پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ سفارتی معاملہ ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے ہونی چاہیے۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو جذبات کے بجائے سفارتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معمولی سرحدی اختلاف نہیں بلکہ 1947 سے جاری ایک پیچیدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو متعدد مرتبہ جنگ کے قریب پہنچایا۔ 2025 میں بھی کشمیر سے متعلق ایک دہشت گرد حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید عسکری کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد عالمی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی۔اس پس منظر میں امریکا اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو نظرانداز کرنا بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ واشنگٹن کے لیے بھارت کی اہمیت صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں؛ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بھارت کو امریکا ایک اہم تزویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔ دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کی حکمتِ عملی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔لیکن پاکستان کے لیے یہاں ایک بنیادی سفارتی سبق موجود ہے
بین الاقوامی سیاست مستقل دوستی یا مستقل دشمنی سے زیادہ مستقل مفادات کا کھیل ہے۔اسی لیے پاکستان کو امریکا سے اختلاف کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ سفارتی دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ افغانستان، دہشت گردی، ایران، خلیج، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات میں پاکستان اور امریکا کے مفادات کے کئی مشترک پہلو موجود ہیں۔دوسری طرف بھارت کے بارے میں بھی پاکستان کو اپنی حکمتِ عملی واضح رکھنی ہوگی۔ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی مؤقف کوئی نیا نہیں، لیکن کسی اہم عالمی طاقت کے نمائندے کی جانب سے ایسا بیان آنا پاکستان کے لیے سفارتی طور پر اہم ضرور ہے۔ اس لیے اسلام آباد کو صرف احتجاجی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عالمی دارالحکومتوں، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی ذرائع ابلاغ میں کشمیر کے قانونی، سیاسی اور انسانی پہلو کو مسلسل اجاگر کرنا ہوگا۔
یہاں کشمیری عوام کو مرکزی حیثیت دینا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی پائیدار حل کے لیے کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات، بنیادی حقوق اور مستقبل کے سوال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا سفارتی مقدمہ اسی وقت زیادہ مؤثر ہوگا جب وہ جذباتی نعروں کے بجائے بین الاقوامی قانون، تاریخی حقائق، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھے۔موجودہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کے لیے ایک اور حقیقت بھی اہم ہے۔ افغانستان، ایران، خلیج، چین، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان پاکستان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بڑھتا دفاعی تعاون، چین کے ساتھ دیرینہ شراکت داری اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط پاکستان کو ایک اہم سفارتی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔اسی لیے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو اکیلے غصے کی سیاست نہیں بلکہ اتحادی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔امریکا کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا میں کسی ایک فریق کے ساتھ بڑھتی قربت دوسرے فریق کے عدم تحفظ کو بڑھا دے تو اس کا اثر علاقائی امن پر پڑتا ہے۔ کشمیر پہلے ہی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان حساس ترین تنازع ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی جنوبی ایشیا میں استحکام چاہتا ہے تو اسے ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو ایک فریق کے مؤقف کو تقویت اور دوسرے کے خدشات کو بڑھا سکتے ہیں۔پاکستان کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دنیا بدل چکی ہے۔ آج عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق شراکت دار منتخب کرتی ہیں۔ اس لیے صرف تاریخی تعلقات یا جذباتی وابستگی کی بنیاد پر خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی۔ پاکستان کو اپنی معاشی طاقت، داخلی استحکام، دفاعی صلاحیت اور سفارتی وزن بڑھانا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط اندرونی ریاست ہوتی ہے۔پاکستان کو امریکا سے کہنا چاہیے کہ ہم اختلاف کرسکتے ہیں، مگر تعلقات ختم نہیں کرنا چاہتے؛ بھارت سے کہنا چاہیے کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں؛ اور عالمی برادری سے کہنا چاہیے کہ کشمیر کو کسی وقتی سیاسی مفاد کی نذر نہ کیا جائے۔آخرکار کشمیر کسی سفیر کے ایک جملے سے نہ بھارت کا بنتا ہے، نہ پاکستان کا؛ اس کی حیثیت کسی فرد کے بیان سے نہیں بلکہ تاریخ، بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشِ مستقبل سے طے ہوگی۔یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے پاکستان کو دنیا کے سامنے مسلسل، دلیل کے ساتھ اور سفارتی وقار کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ کشمیر کا مقدمہ محض احتجاج سے نہیں، مستقل مزاجی، تحقیق، بین الاقوامی قانون اور مؤثر سفارت کاری سے مضبوط ہوگا۔کشمیر ایک جملے سے آگے—کیونکہ تاریخ کسی ایک بیان کی محتاج نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں