کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے رکن و وائس چیئرمین تحریکِ شباب المسلمین جموں و کشمیر مشتاق احمد بٹ نے کہا ہے کہ 15 اگست بھارت کے لیے جشنِ آزادی کا دن ہو سکتا ہے مگر کشمیری عوام کے لیے یہ ایک ایسے تلخ تضاد کی یاد دہانی ہے جس میں ایک طرف آزادی کا جشن منایا جاتا ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو اس کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جاتا ہے، اسی احساس کے تحت کشمیری عوام ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں 15 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو یاد دلایا جا سکے کہ آزادی کا حقیقی مفہوم صرف پرچم لہرانے اور جشن منانے میں نہیں بلکہ ہر قوم کے حقِ آزادی، وقار اور خودارادیت کے احترام میں مضمر ہے۔ مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ محض سرحدوں، زمین یا جغرافیے کا تنازع نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد انسانوں کے سیاسی مستقبل، بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود تقریباً آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام اپنے حق کے عملی نفاذ کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی موجودگی، گرفتاریوں، سیاسی پابندیوں، اظہارِ رائے پر قدغنوں، املاک کی ضبطی اور شہری آزادیوں کی تحدید نے کشمیری معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے، ایسے حالات میں بھارت کا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینا اس وقت تک ادھورا دعویٰ رہے گا جب تک کشمیری عوام کے سیاسی حقوق اور آزادانہ رائے کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی کسی ایک قوم کا استحقاق نہیں بلکہ انسان کا حق ہے اور اگر آزادی کے حق کو اپنے لیے مقدس سمجھا جائے تو یہی اصول دوسروں کے لیے بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کا یومِ سیاہ کسی قوم کے عوام کے خلاف نفرت نہیں بلکہ جبر، ناانصافی اور حقِ خودارادیت سے انکار کے خلاف ایک سیاسی اور پُرامن احتجاج ہے۔ مشتاق احمد بٹ نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ مسئلۂ کشمیر کو محض سفارتی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، پارلیمانیں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی میڈیا مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کی غیر جانب دارانہ نگرانی اور آزادانہ رپورٹنگ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ غیر جانب داری نہیں ہوتی اور کشمیر کا حل طاقت، خاموشی یا جبر میں نہیں بلکہ انصاف، مکالمے، بین الاقوامی ذمہ داری اور کشمیری عوام کی حقیقی سیاسی خواہش کے احترام میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام نے نسل در نسل قربانیاں دے کر اپنی سیاسی شناخت اور حقِ خودارادیت کے مطالبے کو زندہ رکھا ہے اور وقت گزرنے کے باوجود یہ مطالبہ ختم نہیں ہوا۔ اپنے پیغام کے اختتام پر مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ جبر خواہ کتنا ہی طویل ہو، آزادی کی خواہش کو دفن نہیں کر سکتا، خوف اطاعت پیدا کر سکتا ہے مگر رضامندی نہیں، اور کسی قوم کے مستقبل کا فیصلہ اس کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، 15 اگست کا یومِ سیاہ دنیا کے سامنے یہ زندہ سوال رکھتا ہے کہ اگر آزادی ایک عالمگیر قدر ہے تو کشمیری عوام اس حق سے کب تک محروم رہیں گے۔
15