17

مکہ المکرمہ دفاعی معاہدہ اور مسلم امہ تحریر: خالد چوہدری

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے دیرینہ خوابوں کی تعبیر کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ سہ فریقی معاہدہ پاکستان کے لیے ایک بڑا دفاعی اور سفارتی سنگِ میل ہونے کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے اتحاد، سلامتی اور مشترکہ دفاع کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون پہلے سے موجود تھا، تاہم ترکیہ کی شمولیت سے اس تعاون کو ایک نئی وسعت اور اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ معرکۂ بنیانِ مرصوص کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور دفاعی صلاحیتوں کے اعتراف میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کے دشمنوں کو ملک کی یہ سفارتی اور دفاعی کامیابیاں پسند نہیں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ تاہم قوم کو اپنے محافظوں پر مکمل اعتماد ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکس ہیں اور ان شاء اللہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ملک میں پیدا کیے جانے والے داخلی خلفشار کا بھی مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔امتِ مسلمہ نے ایسے مضبوط دفاعی اتحاد کا کئی عشروں سے انتظار کیا ہے۔ لاہور میں منعقد ہونے والی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے شرکاء نے بھی اسلامی ممالک کے اتحاد اور مشترکہ قوت کا خواب دیکھا تھا۔ اس کانفرنس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود، معمر قذافی، یاسر عرفات اور مسلم دنیا کے دیگر عظیم رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ ان قائدین کی خواہش تھی کہ اسلامی ممالک اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر سیاسی، اقتصادی اور دفاعی میدان میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔اسلامی ممالک کا اتحاد ہمیشہ دشمن قوتوں کو کھٹکتا رہا ہے۔ مسلم دنیا کو تقسیم کرنے، باہمی اختلافات کو ہوا دینے اور اسلامی ممالک کے مابین فاصلے پیدا کرنے کے لیے طویل عرصے سے سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک متعدد نمایاں رہنما بعد ازاں مختلف سانحات اور سازشوں کا نشانہ بنے، لیکن ان کا دیکھا ہوا اتحادِ امت کا خواب آج بھی زندہ ہے۔پاکستان نے مشکل حالات میں نہ صرف دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب دیا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد سے شروع ہونے والی سفارتی کوششوں کا سلسلہ سوئٹزرلینڈ تک پہنچا۔ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن فریقین کا جنگ بندی کے عمل سے وابستہ رہنا سفارت کاری کی کامیابی اور امن کی امید کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ، جسے ’’مکہ معاہدہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔یہ معاہدہ نہ صرف تینوں برادر اسلامی ممالک کے باہمی اعتماد، اخوت اور یکجہتی کا عکاس ہے بلکہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے بھی ایک تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشیں بلاشبہ قابلِ تحسین ہیں۔یہ دفاعی تعاون مستقبل میں نیٹو کی طرز پر ایک وسیع اسلامی دفاعی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید اسلامی ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بنیں گے۔ کویت، مصر اور قطر سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کی ممکنہ شمولیت سے اس اتحاد کی دفاعی، سفارتی اور اقتصادی قوت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔بھارت نے تاحال محتاط ردِعمل دیتے ہوئے معاہدے کا جائزہ لینے کی بات کی ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے اس کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ دوسری طرف یمن کی جانب سے معاہدے کا خیرمقدم ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ ان شاء اللہ یہ اتحاد مسلم ممالک کے جائز حقوق اور خودمختاری کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین اور دیگر مظلوم مسلم خطوں کی مؤثر مدد بھی کرے گا۔مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے اور ان کے درمیان نفرت و اختلاف پیدا کرنے پر کی جانے والی تمام تر سرمایہ کاری اب ڈوبتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ الحمدللہ، مسلم ممالک اپنے مشترکہ مفادات، دفاع اور مستقبل کے تحفظ کے لیے متحد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر یہ اتحاد اخلاص، برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے تو یہ پوری مسلم امہ کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگا۔پاکستان کو اس اہم موقع پر داخلی اتحاد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ دشمن بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ اندرونی انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ متحد رہیں، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور اپنی صفوں میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر کو پہچانیں۔ان شاء اللہ پاکستان میں دشمنوں کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پر بھی مکمل قابو پالیا جائے گا۔ ایک پُرامن، مستحکم اور مضبوط پاکستان ہی مسلم امہ کے دفاع، اتحاد اور خوش حالی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔مکہ المکرمہ کی مقدس سرزمین سے اٹھنے والی اتحاد کی یہ آواز اگر عملی جدوجہد، مستقل مزاجی اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھی تو وہ دن دور نہیں جب مسلم ممالک سیاسی، اقتصادی اور دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط عالمی قوت بن کر ابھریں گے۔اللہ تعالیٰ اس معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور پوری مسلم امہ کے لیے امن، سلامتی، اتحاد اور خوش حالی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں