ماضی کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہو ئے ایک محترم شخصیت سارے بندھن توڑ کر پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہو تی ہے میری مراد سابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن ( ر) ثناء اللہ سے ہے آپ 1916ء میں ہیلی چک سرگودھا کے ایک زمیندار گھرا نے میں ڈاکٹر رحمت مسیح کے ہاں پیدا ہو ئے آپ کے والد ایک معالج کے طور پر علاقے میں جا نے جا تے تھے اور سماجی خدمت کے حوالے سے مشہور تھے کیپٹن ( ر) ثنا ء اللہ بچپن ہی سے ذہین ، محنتی ، اور لگن کے ساتھ پڑھنے والے طا لب علم ثابت ہو ئے ۔ آپ کی تعلیمی لگن اور شوق کو دیکھتے ہو ئے آپ کے والدین نے آپ کو ایک اعلی تعلیمی ما حول فراہم کیا ۔ آپ نے میٹرک تک تعلیم سی ، ٹی، آئی سکول سیالکوٹ سے اور گریجوایشن گا رڈن کالج راولپنڈی سے اور کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم ۔ اے ہسٹری اور انگریزی ( ڈبل ایم ، اے ) پاس کیا ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ نے برٹش آرمی میں کمیشن حا صل کیا اور کیپٹن کے عہدے پر فا ئز ہوئے اور قیام پا کستان کے بعد پاک فوج میں بھی خدمات سر انجام دیں 1952ء میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے راولپنڈی ہی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں سید پور روڈ پر ہولی فیملی ہسپتال کے نزدیک ایک سکول ،،سینٹ پا لز کیمبرج ہا ئی سکول ،،کے نام سے کھولا یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں بچوں نے تعلیم حاصل کی اور آج مختلف شعبہ ہا ئے زندگی میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور بیشتر اعلی عہدوں پر فا ئز بھی ہیں جبکہ روحا نی خدمت کے حوالے سے کیپٹن (ر) ثنا اللہ سینٹ پالز چرچ میں بطور ایلڈر مذہبی خدمات سرانجام دیں اور مذہبی تعلیم کے حوالے سے بیرون ملک کے دورے بھی کئیے ۔ آپ کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ زما نہء طا لب علمی ہی سے سپورٹس کے دلدا دہ تھے اور بہترین اتھلیٹ تھے اور سپورٹس کے ساتھ مسلسل لگا ئو کی وجہ سے آپ مرتے دم تک مختلف سپورٹس ایسوسی ایشنز کے رکن رہے اور سما جی و فلاحی تنظیموں کا حصہ رہے ہیں اور سما جی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔1965کی پاک بھارت جنگ کے بعد آپ نے مسیحیوں کی حالت زار کو دیکھتے ہو ئے ایک ملک گیر سیاسی جماعت ،، پا کستان یو نا ئیٹڈ کرسچن فرنٹ ،، کی بنیا د ڈالی جو کہ ملک گیر سطح پر مسیحیوں کی ایک سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور ملک گیر سطح پر اس کے مقامی یونٹس قائم کئیے اور ان کے ما ہا نی اجلاس ہو تے جن کی کارکرد گی رپورٹ مرکز کو بھیجی جاتی جس کو بطور چئیر مین کیپٹن (ر) ثنا ء للہ خود پڑھتے اور بہترین کا رکردگی کے حامل یونٹس کی حوصلہ افزائی نقد انعام اور سرٹیفکیٹ کے ساتھ کی جا تی جبکہ سال میں ایک بار ملک گیر کنویشن کا نعقاد کیا جا تا یوں یہ پلیٹ فارم ملک گیر سطح پر مسیحیوں کی سیاسی آبیاری اور اتحاد کا گہوارہ بن گیا ۔ کیپٹن (ر) ثنا ء اللہ نے عملی سیاست میں 1979میں بلدیہ اعلی راولپنڈی کا راولپنڈی سے کونسلر منتخب ہو کر کیا اس دوران آپ نے بہت سے مسیحی لوگوں کو میونسپل کار پوریشن میں نوکریاں او ر ترقیاں دلوائیں ۔1985ء میں آپ ایم ۔ این ، اے منتخب ہو ئے اس وقت مسیحیوں کے لئے حلقہ پورا پاکستان ہوا کرتا تھا آپ نے پورے پاکستان سے کثرت رائے سے ووٹ لئیے اور ملک گیر سطح پر مسیحیوں کے لئے خدمات سرانجام دیں آپ نے معظفر گرھ کے علاقو ں چوک ا عظم ،منڈا چوک ، میں ہزاروں مسیحیوں کو ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی اراضی زمین الاٹ کروائی اور بہت سے کھیت مزدوروں کو مالکان بنا دیا ۔ اپنی ملک گیر سماجی خدمات کے باعث آپ 1988ء کے الیکشن میں بھی جیت گئے اور دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ اور زندگی کے آخری ایام تک رکن اسمبلی رہے یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ کیپٹن ( ر) ثناء اللہ نے ایک بھر پور ازدواجی زندگی بسر کی اور خدا نے آپ کو تین بیٹوں ڈاکٹر شمشاد ثنا ء اللہ ، نوبل ثنا ء اللہ ، اور داکٹر شہزاد ثنا ء اللہ اور چار بیٹیوں شمع ثناء اللہ ، شیریں ثناء اللہ ، شیزان ثنا اللہ ، اور شمیم ثناء اللہ سے نوازا جو اپنیاپنے اہلو عیال کے ہمراہ اندرون و بیرون ملک زندگی خوشو خرم بسر کر رہے ہیں ۔ کیپٹن (ر) ثناء اللہ نے بطور رکن قو می اسمبلی راولپنڈی ۔ اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں مسیحیوں کی آباد کاری میں بھر پور کردار ادا کیا ایک کالونی ۔ جی۔ ایٹ کے علاقہ میں قائم کی جبکہ دوسری مسیحی کالونی راولپنڈی میں ہولی فیملی ہسپتال کے عقب میں نیو پھگواڑی کے علاقے میں قائم کی دونوں کا لونیوں کو کیپٹن (ر) ثنا ء اللہ کرسچن کالونی کا نام دیا گیا ہے جہاں سینکڑوں مسیحی خاندان سکونت پذیر ہیں جب کہ راولپنڈی میں خیابان سرسید ، بھٹی نیک عالم ، کرسچن کالونی ناظم آباد ڈبل روڈ ، ڈھوک کالا خان ، ڈھوک الہی بخش ، آریہ محلہ ۔ چمن زار ، ٹیکسلہ ، سمیت ملک گیر سطح پر ترقیاتی کام کروائے اور مسیحیوں کے مقامی مسائل حل کروائے اور ان کی سرکاری سطح پر مالی معاونت بھی کروائی ۔ آپ ضیا ء دور میں بہت با اثر سمجھے جا تے تھے اپنے ا ثرورسوخ کو استعمال کرتے ہو ئے انہوں نے بہت سے اجتماعی مسائل حل کروائے ۔ آپ 17اپریل 1990 ء کو اپنے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر شہزاد ثناء اللہ کی گریجو ایشن کی تقریب میں شرکت کے لئے امریکہ گئے اور وہاں چند روز علیل رہنے کے بعد 26مئی 1990کو جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ آپ کے انتقال سے مسیحی لوگ خصوصاّ راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع جہلم ، اٹک ، چکوال ، مری راولپنڈی کے مسیحی سیاسی نمائندگی سے محروم ہو گئے ہیں اور اب تک تقریباّ 36سال کا عرصہ گزر جا نے کے بعد بھی یہاں سے مسیحیوں کو پارلیما نی نما ئندگی حاصل نہ ہو سکی ہے اس حوالے سے خطہ پو ٹھوہار کی دھرتی تا حال با نجھ ہی ہے بقول شاعر۔۔۔ ہمارے بعد اندھیرا ہی رہے گا تیری محفل میں ۔۔۔۔۔۔۔ بہت چراغ جلائو گے روشنی کے لئے
کیپٹن (ر) ثنا ء اللہ کی شخصیت اور خدمات مسیحی نو جوان کے لئے مشعل راہ ہیں خدائے بزرگ و بر تر آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔۔۔ آسمان تیری ل لحد پرشبنم فشانی کرتا رہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
133