امن کی پکار، عمل کا وقت
احمد نور
خیبرپختونخوا ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی نئی لہر کی زد میں ہے۔ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا میں گنگی خیل چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی کوشش، ٹانک کے منجی خیل مشترکہ پولیس و سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ، مہمند،باجوڑ ، خیبر، بنوں، لکی مروت اور دیگر اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ برسوں کی قربانیوں، فوجی آپریشنز اور نیشنل ایکشن پلان کے باوجود دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر کیوں ختم نہیں ہو سکا۔
وانا میں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملہ آوروں کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں کالعدم تنظیم نے بھی اپنے چار ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حملہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ یہ کامیابی یقیناً سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دہشت گرد مسلسل حساس علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہو رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد جنوبی وزیرستان میں عوامی اور سیاسی ردعمل بھی انتہائی اہم رہا۔ سیاسی رہنما مشر نور زمان وزیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ قومی جرگوں، سیاسی وعدوں اور سرکاری یقین دہانیوں کے باوجود عوام آج بھی خوف، دھماکوں اور غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق اگر قبائل دیگر قومی معاملات پر متحد ہو سکتے ہیں تو امن کے لیے بھی مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف بیانات کافی نہیں بلکہ حکومت، سیاسی قیادت اور قبائلی مشران کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔اسی تسلسل میں احمدزئی وزیر قومی جرگہ کے سربراہ ملک عزیز اللہ خان اور دیگر مشران نے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات میں تعطل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر تمام قبائل، علماء کرام اور سیاسی قیادت پر مشتمل گرینڈ قومی امن جرگہ بلایا جائے گا تاکہ امن کے لیے مشترکہ اور قابلِ عمل لائحۂ عمل طے کیا جا سکے۔ ان کا یہ اعلان اس بات کا اظہار ہے کہ وزیرستان کے عوام مزید بے یقینی نہیں بلکہ پائیدار امن چاہتے ہیں۔ادھر ضلع ٹانک میں منجی خیل مشترکہ پولیس و سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے نے واضح کر دیا کہ دہشت گرد اب بھی ریاستی اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس حملے میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ انہی بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مطلوب دہشت گردوں کی نئی فہرست جاری کرتے ہوئے مختلف افراد پر پانچ لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک انعام مقرر کیا ہے۔ حکام نے عوام سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ یہ اقدام اس حقیقت کا اظہار ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ ریاست اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم عوامی تعاون اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب معلومات فراہم کرنے والوں کے تحفظ، مضبوط انٹیلی جنس نظام اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو بھی یقینی بنایا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات نے عوام میں تشویش پیدا کی ہے۔ ہر واقعے کے بعد مذمتی بیانات ضرور سامنے آتے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ عوام اب صرف تعزیتی بیانات نہیں بلکہ مؤثر اور دیرپا اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام ذمہ داری صرف ایک حکومت پر عائد ہوتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امن و امان کا قیام وفاق اور صوبائی حکومت دونوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی، سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس رابطہ کاری اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے، جبکہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پولیس، محکمہ انسدادِ دہشت گردی، ضلعی انتظامیہ اور مقامی امن کمیٹیوں کو مزید فعال اور مضبوط بنائے۔ اگر دونوں سطحوں پر مربوط حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو دہشت گرد ایسے خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔سیاسی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے مشترکہ قومی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاست، عوام، سکیورٹی ادارے اور سیاسی قوتیں ایک صفحے پر آئیں، دہشت گردی کو شکست ہوئی، اور جب اختلافات بڑھے تو شدت پسند عناصر نے انہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔وزیرستان کے عوام گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی، نقل مکانی، معاشی مشکلات اور بے شمار قربانیوں کا بوجھ اٹھاتے آئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے علاقوں کو چھوڑنے کے بجائے امن، ترقی اور استحکام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احمدزئی وزیر مشران کا یہ اعلان کہ وہ نقل مکانی نہیں کریں گے بلکہ جرگہ نظام کے ذریعے اپنے علاقوں میں امن کے لیے کوشش جاری رکھیں گے، دراصل اپنی سرزمین سے وابستگی اور قومی ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔آج ضرورت صرف دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کی نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے کی ہے جہاں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ، کوئی سہولت کار اور کوئی سماجی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس کے لیے مضبوط انٹیلی جنس نظام، مؤثر سرحدی نگرانی، فوری انصاف، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، نوجوانوں کے لیے روزگار، قبائلی مشران کی مشاورت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔خیبرپختونخوا کے عوام آج صرف ایک مطالبہ کر رہے ہیں انہیں یقین دہانیاں نہیں بلکہ پائیدار امن چاہیے۔ یہی مطالبہ ریاست کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر وفاق، صوبائی حکومت، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور قبائلی مشران مشترکہ قومی حکمت عملی اختیار کریں تو دہشت گردی کی یہ نئی لہر بھی شکست کھا سکتی ہے، اور یہی پاکستان کے امن، استحکام اور قومی مفاد کا راستہ ہے۔
22