کربلا، کربلا یہ ہے میدانِ کربلا
اے راہگیرو ٹھہرو ذرا
ادب سے چلو، خاموش رہو
قہقہوں کو اپنے ضبط کرو
آنکھوں کو تم اپنی نم کرو
یہ ہے میدانِ کربلا
پہلے کون اسے جانتا تھا
کون پہچانتا تھا اسے
خریدا، اسے معتبر کیا
اور حسینؓ نے یہ بتلایا
یہ ہے میدانِ کربلا
کبھی یہاں اہلِ بیتِ پاکؓ کے
چند خیمے ہی لگے تھے
آج لاکھوں کا ہے یہاں اجتماع
یہ ہے میدانِ کربلا
یہ کہا تھا رسولِ خدا ﷺ نے
اُمِّ سلمہؓ سے
مٹی کی بند شیشی دیتے ہوئے
جب یہ خون سے ہو جائے تَر
تو جان لینا کہ میرے حسینؓ نے
دینِ خدا کو بچانے کے لیے
جان کی اپنی فدا
یہ ہے میدانِ کربلا
یہیں پانی بند کیا تھا شمر نے
یہیں بازو کٹے تھے
عباسؓ علمدار کے
یہیں علی اکبرؓ نے
دی تھی اذانِ وفا
یہ ہے میدانِ کربلا
عونؓ و محمدؓ،
قاسمؓ و علی اصغرؓ نے
شکست دی تھی
یہیں یزیدیت کو
جنابِ حُرؓ کو بھی یہیں
حسینؓ نے پروانۂ جنت
کیا تھا عطا
یہ ہے میدانِ کربلا
فُطرس کو پر، راہب کو بیٹے
اور حُرؓ کو جنت ہوئی عطا
مایوس نہ ہو تو ”علی“
تجھ پر بھی ہو گا کرم
ہو گی تجھے بھی خیر عطا
یہ ہے میدانِ کربلا
82